| 88732 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
فٹ پاتھ پر کاروبار کرنا جائز ہے یا نہیں ؟اور ان سے کچھ خریدنا جائز ہے یا نہیں ؟اور فٹ پاتھ کس جگہ کو کہتے ہیں؟ اور روڈپر ریڑھی میں سامان بیچنا جائز ہے یا نہیں؟ اور بیچنے والوں سے لینا جائز ہے یا نہیں؟ اور اگر ان سے لینا جائز ہے تو جائز ہونے کی وجہ کیا ہے ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
فٹ پاتھ اس راستے کو کہتے ہیں جو پیدل چلنے کے لیے پختہ سڑک کے دونوں طرف بنایا جاتا ہے اور سڑک سے قدرے اونچا ہوتا ہے۔
اگر راستہ بڑا ہو اور اس پر کاروبار اور خرید و فروخت کرنے سے لوگوں کو چلنے پھرنے میں مشکلات درپیش نہ ہوں،نیز کوئی قانونی پابندی بھی نہ ہو تو پھر فٹ پاتھ پر کاروبار کرنے کی گنجائش ہے، اور خرید و فروخت بھی درست ہوگی۔
اور اگر راستہ اتنا بڑا نہ ہو اور اس پر کاروبار سے چلنے والوں کو تنگی پیدا ہوتی ہو،یا حکمران کی طرف سے کاروبار اور خرید و فروخت کرنے پر کوئی پابندی ہو،تو ایسی صورت میں گزرگاہ پر کاروبار کرنا جائز نہیں ہوگا،کیونکہ اس میں عوام کو ایذا ء رسانی اور حکومت کے حکم کی خلاف ورزی ہو رہی ہے،جبکہ یہ دونوں باتیں جائز نہیں۔اس صورت میں بہتر یہی ہوگا کہ لوگ ان سے سامان خریدنے سے اجتناب کریں،تاکہ وہ گزرگاہ پر فروخت کرنا بند کردیں۔تاہم اگر کسی نے اس سے کچھ خرید لیا،تو اس کے استعمال کی گنجائش ہوگی۔
اسی طرح روڈ پر ریڑھی میں سامان بیچنا تب جائز ہوگا،جب اس میں حکومت کی طرف سے کوئی پابندی نہ ہو
اور لوگوں کے لیے بھی کوئی مشکلات نہ ہوں۔البتہ ریڑھی والا اگر لوگوں کو مشکلات درپیش ہونےاور حکومت کے حکم کی خلاف ورزی کے باوجودراستے پر ریڑھی لگا کر سامان بیچے،تو اس کا گناہ اسی ریڑھی والے کو ہوگا خریدار کو نہیں ،اگر کسی نے ان سے کوئی چیز خریدی تو وہ کھانا اور استعمال کرنا جائز ہے۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (1/ 11)
عَنْ عَبْدِ اللَّهِ بْنِ عَمْرٍو رَضِيَ اللَّهُ عَنْهُمَا، عَنِ النَّبِيِّ صَلَّى اللهُ عَلَيْهِ وَسَلَّمَ قَالَ: «المُسْلِمُ مَنْ سَلِمَ المُسْلِمُونَ مِنْ لِسَانِهِ وَيَدِهِ، وَالمُهَاجِرُ مَنْ هَجَرَ مَا نَهَى اللَّهُ عَنْهُ»
المحیط البرھانی(10/370)
"وسئل أبو القاسم عمن یبیع و یشتری فی الطریقِ، قال: إن کان الطریق واسعا ولا یکون فی قعودہ ضررللناس فلاباس بہ.
و عن أبی عبداللہ القلانسی:أنہ کان لایرى بالشراء منہ بأسا،وإن کان بالناس ضرر في قعودہ ،و الصحیح ھو الأول ،لأنہ إذا علم أنہ لایشتری منہ لایبیع علی الطریق فکان ھذا إعانۃ لہ علی المعصیۃ، و قد قال اللہ تعالہ:''وتعاونوا علی البر و التقوی و لا تعاونوا علی الاثم و العدوان'' ، وبعض مشايخنا قالوا:لايجوزله القعود على الطريق، وإن لم يكن للناس في قعوده ضرر، ويكون بالقعود على الطريق فاسقا ، لأن الطريق ما اتخذ للجلوس فيه إنما اتخذ للمرور فيه".
محمد شاہ جلال
دارالافتاء،جامعۃ الرشید کراچی
24/ربیع الآخر/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد شاہ جلال بن خلیل حولدار | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


