03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
حق زوجیت سے انکاری بیوی کا نفقہ
89407نان نفقہ کے مسائلبیوی کا نان نفقہ اور سکنہ ) رہائش (کے مسائل

سوال

۱۔پچھلے دس دنوں سے زائد بیوی حقِ زوجیت سے انکاری ہے، اور بلانے کے باوجود بھی علیحدہ کمرے میں سوتی ہے؛ کیاایسی بیوی کا نفقہ روکنا جائز ہے؟۲۔اگرچہ بیوی خلع کا لفظ زبان سے ادا نہیں کر رہی، مگر عمل اور گفتگو سے واضح کر رہی ہے کہ وہ اس شوہر کے ساتھ نہیں رہنا چاہتی۔ اس ناچاکی کے بعد، جب شوہر باہر سے گھر واپس آیا، تو محترمہ نے گھر پر موجود ہونے کے باوجود دروازہ نہیں کھولا؛ شوہر کو رات والدین کے گھر گزارنا پڑی۔ کیا اس صورتِ حال کو خلع مانا جائے گا؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۔ اگرصورت حال  ایسے ہی ہے جیسے آپ نے بیان کی ہے  توبیوی کے لیےشوہر کامطالبہ پورانہ کرناگناہ کبیرہ ہے۔ایسا کرنے والی بیوی  پر  کئی احادیث مبارکہ  میں  فرشتوں کی لعنت  بھیجنے کا ذکر کیا گیا ہے  ۔چناچہ  حدیث شریف میں آیا ہے کہ جب آدمی بیوی کو ا پنے بستر پر بلائے ،وہ  آنے سےانکار کردے، تو فرشتے اس پر صبح تک لعنت بھیجتے ہیں ۔البتہ اگر واقعتاً بیوی کوکوئی معقول عذر  ہے تو اس کوچاہیے کہ اپنا عذر پیش کرکے آپ کو اعتماد میں لے ۔

 مزاحمت کرنا یا شوہر کے لیے گھر کا دروازہ بند کر دینا جائز نہیں۔ اگر بیوی بات نہ مانے تو اس کا نفقہ آپ کے ذمے نہیں ہوگا۔ تا ہم اس کا نان و نفقہ بند کرنے کی بجائے آپ اس کو سمجھائیں اور خاندان کے بڑوں کے علم میں لا کر باہمی مفاہمت  کی کوشش کریں۔

۲۔خلع کے متحقق ہونے کے لیے میاں بیوی کا خلع یا  اس کے ہم معنی الفاظ استعمال کرنا ضروری ہے ۔جدا رہنے سے خلع نہیں ہوگا ۔یاد رہے کہ خلع لینے کی صورت میں عموماً مہر واپس کیا جاتا ہے، تا ہم خالی بات نہ ماننے کی وجہ سے مہر اپنی جگہ باقی رہتا ہے۔ہاں !بعض صورتوں  میں نفقہ ذمے نہیں رہتا۔

حوالہ جات

صحيح البخاري : الرقم (5193

حدثنا محمد بن بشار: حدثنا ابن أبي عدي، عن شعبة، عن سليمان، عن أبي حازم: عن أبي هريرة رضي الله عنه، عن النبي صلى الله عليه وسلم قال: «إذا دعا الرجل امرأته إلى فراشه، فأبت أن تجيء، لعنتها الملائكة حتى تصبح».

(الدر المختارشرح تنویر الابصار:234)

"الخلع هو إزالة ملك النكاح المتوقفة على قبولها بلفظ الخلع، أوما في معناه ولا بأس به عند الحاجة للشقاق بعدم الوفاق بما يصلح للمهر. وحكمه أن الواقع به ولو بلا مال، وبالطلاق الصريح على مال طلاق بائن، وكره تحريماً أخذ شيء، إن نشر، وإن نشرت لا. ويسقط الخلع كل حق لكل منهما على الأخر مما يتعلق بذلك النكاح إلا نفقة العدة وسکناھا ،الااذا نص علیھا ،فتسقط النفقۃ لا السکنی  .

(تبیین الحقائق:3/52)

(لا ‌ناشزة) أي لا تجب النفقة للناشزة، وهي الخارجة من بيت زوجها بغير إذنه المانعة نفسها منه بخلاف ما لو كانت مانعته في البيت ولم تمكنه من الوطء حيث لا تسقط النفقة به لقيام الاحتباس لأن الظاهر أنه يقدر على وطئها۔۔۔۔۔۔۔وكذا العادة ألا ترى أن البكر لا توطأ إلا كرها، ولو كانا يسكنان في ملك المرأة فمنعته من الدخول عليها لا نفقة لأنها ‌ناشزة إلا أن تكون سألته النقلة لأن الاحتباس فات لمعنى منه، ولو كان يسكن في المغصوب فامتنعت منه فلها النفقة لأنها ليست بناشزة، ولو عادت الناشزة إلى منزل الزوج وجبت لها النفقة لزوال المانع.

‌‌( الزواجر عن اقتراف الكبائر:2/61)

[الْكَبِيرَةُ الرَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ وَالسَّبْعُونَ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ ‌مَنْعُ ‌الزَّوْجِ ‌حَقًّا ‌مِنْ ‌حُقُوقِ ‌زَوْجَتِهِ]

(الْكَبِيرَةُ الرَّابِعَةُ وَالْخَامِسَةُ وَالسَّبْعُونَ بَعْدَ الْمِائَتَيْنِ مَنْعُ الزَّوْجِ حَقًّا مِنْ حُقُوقِ زَوْجَتِهِ الْوَاجِبَةِ لَهَا عَلَيْهِ كَالْمَهْرِ وَالنَّفَقَةِ وَمَنْعُهَا حَقًّا لَهُ عَلَيْهَا كَذَلِكَ، كَالتَّمَتُّعِ مِنْ غَيْرِ عُذْرٍ شَرْعِيٍّ) قَالَ تَعَالَى: {وَلَهُنَّ مِثْلُ الَّذِي عَلَيْهِنَّ بِالْمَعْرُوفِ وَلِلرِّجَالِ عَلَيْهِنَّ دَرَجَةٌ} ۔۔۔۔۔الخ

حنبل اکرم

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

   24  /جمادی الثانیہ /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب