03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ناپاک کپڑا پہن کر غسل کرنا
88764پاکی کے مسائلاستنجاء کا بیان

سوال

کیا فرماتے ہیں علمائے دین اور مفتیانِ کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ ایک آدمی نے غلطی سے  ناپاک کپڑےپہن کر غسل کر لیا ،کچھ دن بعد اسے  یاد آیا  کہ جن کپڑوں میں اس نے غسل کیاتھا ، وہ ناپاک تھے۔ اب وہ بہت پریشان ہو گیا، کیونکہ ناپاک کپڑوں پر پانی لگنے کی وجہ سے باقی کپڑے بھی ناپاک ہو گئے،پھر اس ناپاک کپڑوں  کا پانی اس کے جسم پر لگا اس کے بعد جب اس نے نئےکپڑے پہنے، تو وہ پانی نئے کپڑوں پر بھی لگ گیا، لہٰذا وہ بھی ناپاک ہو گئے      یہ کام جان بوجھ کر نہیں کیا، بلکہ سب کچھ انجانے  میں ہوا۔ اس شخص پر کیا حکمِ شرع ہے؟ کیا انجانے میں جو کام ہوئے، ان کی وجہ سے کپڑے ناپاک ہو جائیں گے؟

سوال کی وضاحت: 

سائل سے زبانی رابطہ کرنے سے معلوم ہوا کہ "ناپاکی" سے مراد منی ہے۔ جو کپڑا ناپاک تھا، وہ شرعی طریقے سے پاک کیے بغیر پہنے ہوئے غسل کیا، اور معلوم نہیں تھا کہ یہ ناپاک ہے، تین، چار دن بعد  یادآیاکہ وہ ناپاک تھا،اب ناپاکی کا پانی بہت ساری چیزوں پر پھیل گیا ہے۔ کیا  وہ چیزیں پاک کرنی ہوں گی؟ یا شریعت میں لاعلمی میں ایسا کرنے پر چھوٹ ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

عموما نہاتے وقت اتنا پانی بہا لیا جاتا ہے جس سے کپڑےاور جسم پاک ہو جاتےہیں ،تا ہم اس کے باوجود اگرآپ کو غالب گمان ہے کہ کپڑوں سے جسم میں ناپاکی لگ گئی ہوگی اور بعد میں پانی اتنا نہیں بہایا تھا کہ جسم پاک ہو گیا ہو تو جسم ناپاک ہی رہا  اس کو پاک کرنا لازم ہے ،البتہ غسل کے دوران اگر کپڑوں کو بھی اچھی طرح رگڑ لیا تھا اور پانی کھل کر بہایا تھا ،نیزکپڑے اتارنے کے بعدجسم پر پانی بہاکر کپڑےپہنے تھےتو جسم اورکپڑے پاک ہو گئے ہوں گے ،لہذا خواہ مخواہ شک میں پڑھنے کی ضرورت نہیں ۔

حوالہ جات

(و) يطهر محل (غيرها) أي: غير مرئية (بغلبة ظن غاسل) لو مكلفا وإلا فمستعمل (طهارة محلها) بلا عدد به يفتي)الدر المختارشرح تنوير الأبصار: (1/539

(قوله: وغيره بالغسل ثلاثا وبالعصر في كل مرة) أي غير المرئي من النجاسة يطهر بثلاث غسلات وبالعصر في كل مرة؛ لأن التكرار لا بد منه للاستخراج ولا يقطع بزواله فاعتبر غالب الظن كما في أمر القبلة. (البحر الرائق شرح كنز الدقائق:1/249)

(وأما) سائر النجاسات إذا أصابت الثوب أو البدن ونحوهما فإنها لا تزول إلا بالغسل، سواء كانت رطبة أو يابسة، وسواء كانت سائلة أو لها جرم. (بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع :1/84)

ولا يخفى أن الإزار المذكور إن كان متنجسا فقد جعلوا الصب الكثير بحيث يخرج ما أصاب الثوب من الماء ويخلفه غيره ثلاثا قائما مقام العصر كما قدمناه عن السراج فحينئذ لا فرق بين إزار الحمام وغيره وليس الاكتفاء به في الإزار لأجل ضرورة الستر كما فهمه المحقق بل لما ذكرناه وظاهر ما في فتاوى قاضي خان أن الإزار ليس متنجسا، وإنما أصابه ماء الاغتسال من الجنابة فعلى رواية نجاسة الماء المستعمل طاهر وعليه بني هذا الفرع. )البحر الرائق: (1/412

حنبل اکرم

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

،25  ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب