03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تحریری تین طلاقوں کا حکم
88751طلاق کے احکامتین طلاق اور اس کے احکام

سوال

میرا نام ماہ گل یوسف ہے،میری شادی 14 جولائی2023ء کو ہوئی،تقریبا دو ماہ سے میں گھریلو تشدد اور جان کی دھمکی کی وجہ سے اپنے چچا کے گھر مقیم ہوں،مورخہ 20 ستمبر2025ء کو کورٹ میں پیشی تھی،جس میں میرے شوہر کو حاضر ہونے کا کہاگیا تھا،کورٹ سے واپسی پر تقریباً ایک بج کر چارمنٹ پر مجھے میرے شوہرکا میسج موصول ہوا،جس میں یہ الفاظ درج تھے:

Talak, talak ,talak

اس کے بعد ایک بج کر سات منٹ پر ان کا یہ میسج آیا :

Official letter mil jaye ga

میں نے قریبی ایک مسجد کے امام سے رابطہ کیا اور اپنا مسئلہ ان کے سامنے رکھا،تو انہوں نے کہا کہ تمہیں طلاق ہوچکی ہے،پھر 20 ستمبر 2025ء کو تقریبا شام پانچ بج کر پچپن منٹ پر ان کی جانب تحریری طلاق موصول ہوئی جو استفتاء کے ساتھ لف کردی ہے۔

اب وہ شخص مختلف طریقوں اور نمبروں سے مجھے پریشان کررہا ہے اور اپنی تمام باتوں سے انکاری ہے اور کہتا ہے کہ میری ایسی کوئی نیت نہیں تھی،اب اس معاملے میں میری راہنمائی کی جائے ،کیونکہ میں اس معاملے میں خود تو کوئی فیصلہ کرنے سے قاصر ہوں اور عدالت بھی مجھ سے ثبوت مانگ رہی ہے،لہذا 30ستمبر 2025ء کو میری کورٹ میں پیشی ہے،آپ سے گزارش ہے کہ اس سے پہلے فتوی جاری کردیں۔

تنقیح: سائلہ نے وضاحت کی ہے کہ طلاق کا میسج کرنے کے بعد شوہر سے کال پر بات ہوئی تھی،جس میں اس نے اعتراف کیا تھا کہ میسج اسی نے بھیجا اور آفیشل لیٹر بھی مل جائے گا،جس پر سائلہ نے اس سے کہا کہ ٹھیک ہے ،طلاق تو تم نے دے دی ہے،لیکن میری کردار کشی نہیں کرنا۔

چنانچہ طلاق کے کاغذات بھجوانے کے بعد بھی شوہر سے رابطہ ہوا،جس میں اس نے سائلہ سے کہا کہ کاغذات دیکھ لو،میں نے اس میں تمہارے کردار کے حوالے سے کچھ نہیں لکھا،یعنی وہ اس بات کا تو معترف ہے کہ میسج اور کاغذات دونوں اس نے بھیجے ہیں،لیکن اس کہنا ہے کہ میری نیت نہیں تھی اور اس طرح لکھ کر دینے سے طلاق نہیں ہوتی۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

واضح رہے کہ جس طرح زبانی طلاق واقع ہوجاتی ہے،اسی طرح لکھ کر دینے سے بھی طلاق واقع ہوجاتی ہے اور طلاق کے صریح الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لئے نیت کا ہونا شرط نہیں،بلکہ بغیر نیت کے بھی طلاق ہوجاتی ہے۔

لہذامذکورہ صورت میں   آپ پرتین طلاقیں واقع ہوچکی ہیں، ،کیونکہ شوہر کی جانب سے کئے جانے والے میسج اور اس کے بعد بھیجے گئے کاغذات  میں طلاق کے صریح الفاظ لکھے گئے ہیں اور صریح الفاظ سے طلاق واقع ہونے کے لئے نیت کا ہونا ضروری نہیں ہے،چنانچہ شرعی لحاظ سے آپ اپنے شوہر پر حرمت غلیظہ کے ساتھ حرام ہوچکی ہیں،اس کے بعد اب موجودہ حالت میں آپ دونوں کا دوبارہ نکاح بھی ممکن نہیں ہے اور قانونی طور پرتحفظ کے لئے آپ عدالت سے خلع کی ڈگری  لے لیں۔

حوالہ جات

"الفتاوى الهندية" (1/ 354):

" والمرأة كالقاضي لا يحل لها أن تمكنه إذا سمعت منه ذلك أو شهد به شاهد عدل عندها".

"مرقاة المفاتيح شرح مشكاة المصابيح ":(ج 10 / ص 240) :

"وذهب جمعور الصحابة والتابعين ومن بعدهم من أئمة المسلمين إلى أنه يقع ثلاث ومن الأدلة في ذلك ما في مصنف ابن أبى شيبة والدارقطني من حديث ابن عمر المتقدم قلت: يا رسول الله!أرأيت لو طلقتها ثلاثا ؟قال :إذا قد عصيت ربك ،بانت منك امرأتك.

 وفي سنن أبى داود عن مجاهد قال :كنت عند ابن عباس فجاءه رجل فقال:إنه طلق امرأته ثلاثا،قال :فسكت حتى ظننت أنه رادها إليه، ثم قال :يطلق أحدكم فيركب الحموقة ،ثم يقول: يا ابن عباس !وإن ﷲعز وجل يقول :"ومن يتقﷲ يجعل له مخرجا". [الطلاق: 2] عصيت ربك وبانت منك امرأتك.

وفي الموطأ ما تقدم وفيه أيضا بلغه أن رجلا جاء إلى ابن مسعود فقال: إني طلقت امرأتي ثماني تطليقات ،فقال :ما قيل لك؟ فقال: قيل لي: بانت منك. قال: صدقوا، هو مثل ما يقولون وظاهره الإجماع على هذا الجواب".

"أحكام القرآن للجصاص ": (ج 2 / ص 85) :

"وقد روى سعيد بن جبير ومالك بن الحارث ومحمد بن إياس والنعمان بن أبي عياش كلهم عن ابن عباس فيمن طلق امرأته ثلاثا أنه قد عصى ربه وبانت منه امرأته".

"البحر الرائق " (3/ 257):

"ولا حاجة إلى الاشتغال بالأدلة على رد قول من أنكر وقوع الثلاث جملة لأنه مخالف للإجماع كما حكاه في المعراج ولذا قالوا: لو حكم حاكم بأن الثلاث بفم واحد واحدة لم ينفذ حكمه؛لأنه لا يسوغ فيه الاجتهاد لأنه خلاف لا اختلاف".

"بدائع الصنائع " (3/ 100):

"وكذا التكلم بالطلاق ليس بشرط فيقع الطلاق بالكتابة المستبينة وبالإشارة المفهومة من الأخرس لأن الكتابة المستبينة تقوم مقام اللفظ والإشارة المفهومة تقوم مقام العبارة".

"الدر المختار " (3/ 246):

"كتب الطلاق، وإن مستبينا على نحو لوح وقع إن نوى، وقيل مطلقا، ولو على نحو الماء فلا مطلقا. ولو كتب على وجه الرسالة والخطاب، كأن يكتب يا فلانة: إذا أتاك كتابي هذا فأنت طالق طلقت بوصول الكتاب جوهرة".

محمد طارق

دارالافتاءجامعۃالرشید

25/ربیع الثانی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد طارق غرفی

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب