03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
فصل کی پیداوار کے مخصوص حصے (پانچویں حصے) پر سولر سسٹم سے پانی فراہم کرنے کا شرعی حکم”
91241اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے جدید مسائل

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام صاحبان بابت اس مسئلہ کہ ہمارے علاقے ارنگ ضلع باجوڑ میں کاشتکاری کے کچھ طریقے مروج ہیں۔ ذیل میں وہ درج کیے جاتے ہیں آپ صاحبان ہماری رہنمائی فرماویں۔

(1)ایک بندہ آٹھ سے بارہ، تیرہ لاکھ روپے لگا کر سولر سسٹم نصب کرتا ہے. پھر اس سے دوسرے کاشتکاروں کو حصہ کے حساب سے پانی دیتا ہے۔ چونکہ یہاں ٹماٹر کی فصل بوئی جاتی ہے۔ اس لیے ان میں سے عام طور پر پانچواں حصہ لیتا ہے اور نقصان یا تاوان میں سولر سسٹم کا مالک شریک نہیں ہوتا جبکہ اس صورت میں زمین کاشتکار کی ہوتی ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں سولر سسٹم لگا کر کاشتکاروں کو پانی فراہم کرنا اور اس کے عوض مال بکنے کے بعد حاصل ہونے والی کل رقم کا پانچواں حصہ (20 فیصد) لینا شرعاً فاسد (ناجائز) ہے۔

اس کے ناجائز ہونے کی شرعی وجہ درج ذیل ہے:

اجرت (معاوضے) کا مجہول ہونا: یہ معاملہ شرعاً "عقدِ اجارہ" (کرائے داری) کا ہے۔ اجارہ کے صحیح ہونے کے لیے لازمی شرط ہے کہ اجرت (معاوضہ یا کرایہ) پوری طرح معلوم اور پہلے سے متعین ہو؛ کیونکہ اگر اجرت مجہول (نامعلوم) ہو، تو حق کی ادائیگی میں جھگڑے (نزاع) کا قوی امکان ہوتا ہے اور شریعت میں ایسی جہالت عقدِ اجارہ کی صحت سے مانع ہے۔ صورتِ مسئولہ میں چونکہ معاوضہ منڈی کے نامعلوم ریٹ اور مستقبل کی پیداوار پر موقوف ہے، اس لیے یہاں اجرت معلوم نہیں ہے۔ لہٰذا جہالتِ اجرت کی وجہ سے یہ معاملہ فاسد ہے۔

جائز اور متبادل صورتیں: اس اجارہ کو شرعاً درست بنانے کے لیے درج ذیل متبادل صورتوں میں سے کوئی بھی طریقہ اختیار کیا جا سکتا ہے:

  1. وقت کے اعتبار سے: پانی فراہم کرنے کی فی گھنٹہ ایک متعین اجرت (رقم) طے کر لی جائے۔
  2. کام کے اعتبار سے: فی ایکڑ اراضی سیراب کرنے کی ایک متعین اجرت مقرر کر لی جائے۔
  3. مدت کے اعتبار سے: شروع سے ہی فصل کا مکمل دورانیہ متعین کر کے، اس پورے دورانیے کے لیے سولر سسٹم کی ایک قطعی اجرت (مجموعی رقم) مقرر کر لی جائے۔
حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (3/ 121):

لا يجوز بيع الماء في بئره ونهره هكذا في الحاوي وحيلته أن يؤاجر الدلو والرشاء هكذا في محيط السرخسي فإذا أخذه وجعله في جرة أو ما أشبهها من الأوعية فقد أحرزه فصار أحق به فيجوز بيعه والتصرف فيه كالصيد الذي يأخذه كذا في الذخيرة وكذلك ماء المطر يملك بالحيازة كذا في محيط السرخسي.

«المحيط البرهاني» (6/ 361):

«فإذا أخذه وجعله في جرة، أو ما أشبهها من الأوعية، فقد أحرزه فصار أحق به، فيجوز بيعه

«البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري» (5/ 294):

«أي لا يصح البيع إلا بمعرفة قدر المبيع والثمن ووصف الثمن إذا كان كل منهما غير مشار إليه أما المشار إليه فغير محتاج إليهما؛ لأن التسليم والتسلم واجب بالعقد فهذه الجهالة مفضية إلى المنازعة فيمتنع التسليم والتسلم وكل جهالة هذه صفتها تمنع الجواز أطلق في معرفة القدر فشمل المبيع والثمن فلا بد من معرفة القدر فيهما»

«شرح مختصر الكرخي» (3/ 46):

«من استأجر أجيرًا فليعلمه أجره"، ولأنَّ الجهالة يتعذَّرُ معها التسليم»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص79):

«(المادة 405) الإجارة في اللغة بمعنى الأجرة وقد استعملت في معنى الإيجار أيضا وفي اصطلاح الفقهاء بمعنى بيع المنفعة المعلومة في مقابلة عوض معلوم.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص81):

«(المادة 421) : الإجارة باعتبار المعقود عليه على نوعين: النوع الأول: عقد الإجارة الوارد على منافع الأعيان ويقال للشيء المؤجر عين المأجور وعين المستأجر أيضا وهذا النوع ينقسم إلى ثلاثة أقسام: القسم الأول: إجارة العقار كإيجار الدور والأراضي. القسم الثاني: إجارة العروض كإيجار الملابس والأواني. القسم الثالث إجارة الدواب. النوع الثاني: عقد الإجارة الوارد على العمل وهنا يقال للمأجور أجير كاستئجار الخدمة والعملة واستئجار أرباب الحرف والصنائع هو من هذا القبيل. حيث إن إعطاء السلعة للخياط مثلا ليخيط ثوبا يصير إجارة على العمل كما أن تقطيع الثوب على أن السلعة من عند الخياط استصناع.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص83):

«(المادة 433) : تنعقد الإجارة بالإيجاب والقبول كالبيع.»

«مجلة الأحكام العدلية» (ص86):

«(المادة 450) : يشترط أن تكون الأجرة معلومة.»

«(المادة 456) تكون المنفعة معلومة في نقل الأشياء بالإشارة وبتعيين المحل الذي ينقل إليه. مثلا: لو قيل للحمال انقل هذا الحمل إلى المحل الفلاني تكون المنفعة معلومة لكون الحمل مشاهدا والمسافة معلومة.»

   محمدسعید خان آفریدی

  دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

    29 /محرم الحرام/1448ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد سعید خان آفریدی بن معین خان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب