| 91245 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | کرایہ داری کے جدید مسائل |
سوال
( 5) نیز کنویں سے کھیت تک پائپ بچھانا اور پہنچانا عام طور پر کاشتکار ہی کی ذمہ داری سمجھی جاتی ہے ، تو یہ کس کی ذمہ داری ہونی چاہیے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ اگر اس سے مراد وہ صورت ہے جس میں مالک اپنی زمین کاشتکار کو مزارعت (حصے) پر دیتا ہے، تو اس صورت میں زمین تک پانی لانے کے لیے بنیادی راستہ بنانا یا مستقل پائپ لائن بچھانا شرعاً مالکِ زمین کی ذمہ داری ہے ۔ پانی دستیاب ہونے کے بعد فصلوں کی آبپاشی کرنا مزارع کا کام ہے۔ اگر معاہدے میں مستقل پائپ لائن بچھانا مزارع پر مشروط کیا جائے، تو یہ شرط عقدِ مزارعت کو فاسد (ناجائز) کر دے گی، کیونکہ اس کا فائدہ معاہدہ ختم ہونے کے بعد بھی مالکِ زمین کو ہوتا ہے۔ البتہ، اگر پائپ مزارع کی ملکیت ہوں اور وہ انہیں عارضی طور پر استعمال کر کے اپنے ساتھ واپس لے جائے، یا مزارع معاہدے کی شرط کے بغیر محض اپنی خوشی (تبرع) سے پائپ بچھا دے، تو یہ صورت شرعاً جائز ہے۔
اور اگر اس سے مراد وہ صورت ہے جہاں سولر سسٹم کا مالک صرف پانی فروخت کر رہا ہے، تو وہ محض پانی کا بائع (بیچنے والا) ہے۔ اس وجہ سے پائپ بچھانا اور پانی کو کھیت تک پہنچانا سولر سسٹم والے کی شرعی ذمہ داری نہیں ہے، بلکہ یہ انتظام کرنا خریدار کا کام ہے۔ تاہم، اگر سولر سسٹم والا اپنی رضامندی اور خوشی سے پائپ کا بندوبست کر دے، یا فریقین باہمی رضامندی سے کوئی طریقہ طے کر لیں، تو اس میں کوئی ممانعت نہیں ہے۔
حوالہ جات
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية» (5/ 243):
ولو شرط في عقد المزارعة الكراب على رب الأرض إن كان البذر من قبل المزارع فالمزارعة فاسدة وإن كان البذر من رب الأرض جاز هكذا في الخلاصةولو شرطا على العامل كري الأنهار وإصلاح المسناة حتى فسد العقد إن كان البذر من قبل العامل كان الخارج كله للعامل لأنه نماء بذره ولصاحب الأرض عليه أجر الأرض وللعامل على صاحب الأرض أجر عمله وكري الأنهار فيتقاصان ويترادان الفضل، ولو لم يكن كري الأنهار مشروطا على العامل في العقد فكرى العامل الأنهار بنفسه كانت المزارعة جائزة ولا أجر له في كري الأنهار، ولو كان البذر من قبل صاحب الأرض فشرط على العامل كري الأنهار وإصلاح المسناة فسد العقد ويكون الخارج كله لصاحب الأرض وللعامل أجر عمله في جميع ذلك ولو شرطا على رب الأرض كري الأنهار وإصلاح المسناة حتى يأتيه الماء كانت المزارعة جائزة على شرطهما سواء كان البذر من قبل العامل أو من قبل صاحب الأرض كذا في فتاوى قاضي خان ولو شرط في المزارعة على أحدهما إلقاء السرقين إن شرط على المزارع فالمزارعة فاسدة من أيهما كان البذر والخارج كله للمزارع إن كان البذر منه وعليه أجر مثل الأرض ولا يغرم رب الأرض شيئا للمزارع من قيمة السرقين الذي طرحه في الأرض، وإن كان البذر من رب الأرض فالخارج له وعليه أجر مثل عمل المزارع في أرضه وقيمة ما طرح من السرقين، وإن شرط السرقين على رب الأرض إن كان البذر من المزارع فالمزارعة فاسدة والخارج للمزارع وعليه أجر مثل الأرض وقيمة السرقين، فإن كان البذر من رب الأرض فالمزارعة جائزة وإن شرط إلقاء سرقين رب الأرض لم يذكره محمد في الكتاب وحكي عن القاضي الإمام عبد الواحد أنه قال: إن شرط على المزارع جاز من أيهما كان البذر وإن شرط على رب الأرض إن كان البذر من العامل لا يجوز كما لو شرط الكراب على رب الأرض والبذر من المزارع وإن كان البذر من رب الأرض يجوز كذا في الخلاصة.»
الاختيار لتعليل المختار» (3/ 78):
وَكُلُّ شَرْطٍ يَنْتَفِعُ بِهِ رَبُّ الْأَرْضِ بَعْدَ انْقِضَاءِ الْمُدَّةِ يُفْسِدُهَا، كَكَرْيِ الْأَنْهَارِ.
المبسوط» للسرخسي (23/ 80):
ولو لم يكن كري الأنهار مشروطا على العامل في العقد، ولكن العامل كرى الأنهار بنفسه، فالمزارعة جائزة، ولا أجر له في كريها؛ لأنه تبرع بإيفاء ما ليس بمستحق عليه.
محمدسعید خان آفریدی
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
29 /محرم الحرام/1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد سعید خان آفریدی بن معین خان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


