| 88755 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
خاص طور پر Gold یعنی سونے پر ٹریڈنگ کرنا کیسا ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہےکہ سونے کی خرید وفروخت کے لیے شرعا مندرجہ ذیل شرائط کا لحاظ رکھنا ضروری ہوتا ہے:
- بیچنے والا اس سونے کا مالک ہو۔
- سونے پرفوری قبضہ ہو،چاہے خود قبضہ کرے یا اپنے وکیل کے ذریعے۔
- اس لین دین میں حقیقی سودا ہوتا ہو،نہ یہ کہ صرف قیمت کے اتار چڑھاؤ سے نفع کمانا مقصد ہو۔
- یہ سودا حقیقی طور پر ہوتا ہو،صرف اکاؤنٹ میں ظاہر ہو نا کافی نہیں ہے۔
- فوری سودا ہو،مستقبل کی طرف منسوب سودا(future sale) نہ ہو۔
- ادائیگی اور ڈیلیوری میں تاخیر کی وجہ سے اس میں سود شامل نہ ہو۔
جبکہ فاریکس ٹریڈنگ کے موجودہ نظام میں مندرجہ بالا شرائط میں سے کوئی شرط بھی نہیں پائی جاتی۔لہذا فاریکس ٹریڈنگ میں سونے کا کاروبار ناجائز اور حرام ہے، جس سے بچنا لازم ہے۔
حوالہ جات
"رد المحتار" (4/ 504):
" مطلب: شرائط البيع أنواع أربعة وذكر في البحر أن شرائط البيع أربعة أنواع: شرط انعقاد ونفاذ وصحة ولزوم. فالأول أربعة أنواع: في العاقد، وفي نفس العقد، وفي مكانه، وفي المعقود عليه، فشرائط العاقد اثنان: العقل والعدد...
وشرط العقد اثنان أيضا: موافقة الإيجاب للقبول، فلو قبل غير ما أوجبه أو بعضه أو بغير ما أوجبه أو ببعضه لم ينعقد إلا في الشفعة بأن باع عبدا وعقارا فطلب الشفيع العقار وحده، وكونه بلفظ الماضي.
وشرط مكانه واحد، وهو اتحاد المجلس. وشرط المعقود عليه ستة: كونه موجودا مالا متقوما مملوكا في نفسه، وكون الملك للبائع فيما يبيعه لنفسه، وكونه مقدور التسليم".
"بدائع الصنائع " (5/ 237):
"والأصل المحفوظ أن العقد في حق القبض على مراتب منها ما يشترط فيه التقابض، وهو القبض من الجانبين، وهو الصرف، ومنها ما لا يشترط فيه القبض أصلا كبيع العين بالعين مما سوى الذهب والفضة، وبيع العين بالدين مما لا يتضمن ربا النساء كبيع الحنطة بالدراهم ونحوها، ومنها ما يشترط فيه القبض من أحد الجانبين كبيع الدراهم بالفلوس، وبيع العين بالدين مما لا يتضمن ربا النساء كبيع المكيل بالمكيل والموزون بالموزون إذا كان الدين منهما ثمنا وبيع الدين بالعين، وهو السلم".
محمد طارق
دارالافتاءجامعۃالرشید
25/ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد طارق غرفی | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


