03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اصناف زکات میں ”فی سبیل اللہ ” کا مصداق  اور حیلہ تملیک
91078زکوة کابیانمستحقین زکوة کا بیان

سوال

 قرآن مجید کی سورۃ توبہ کی آیت : " إِنَّمَا الصَّدَقَاتُ لِلْفُقَرَاءِ وَالْمَسَاكِينِ ... وَفِي سَبِيلِ الله ..." (سورة التوبه: 60) ، میں مصارف زکات ذکر کیے گئے ہیں، ان میں في سبيل اللہ کا مصداق قدیم مفسرین اور فقہاء کرام نے جہاد سے متعلقہ سامان اور مجاہدین کی ضروریات کو پورا کرنا قرار دیا ہے۔ جبکہ بعض فقہاء نے مجاہدین سے بھی وہ مجاہدین مراد لیے ہیں جو جہاد کے لیے جانا چاہتے ہوں لیکن ان کے پاس سامان جہاد نہ ہو۔ چونکہ وہ في سبيل اللہ کے مصداق ہیں اس لیے وہ مصرف زکات بھی ہیں۔جبکہ ایک دوسری رائے یہ ہے کہ في سبيل اللہ کے مصداق میں معروف جہاد جو تیغ و تلوار سے کیا جاتا ہے کے ساتھ ساتھ ہر وہ کام جو دین کی سر بلندی ، اور دفاع اسلام کے لیے ہو ، وہ بھی شامل ہے۔ اس رائے کو امام رازی، امام کا سانی، ابن تیمیہ اور ابن القیم جیسے اساطین علم نے ذکر فرما کر اپنا رجحان اس جانب بیان کیا ہے۔

۱۔سوال یہ ہے کہ جن مفسرین، محد ثین اور فقہاء نے في سبيل اللہ  کے مصداق میں وسعت پیدا کی ہے، اس قول کی روشنی میں اگر کوئی فرد ، جماعت یا ادارہ تحفظ عقائد بالخصوص تحفظ ختم نبوت اور کفار و متجددین کی طرف سے اسلام  پر وارد شدہ سوالات اور ان کے شبہات کی مؤثر علمی و تحقیقی تردید کر کے اس کے لیے اپنی صلاحیتوں اور اوقات کو خرچ کرے تو کیا یہ عمل في سبيل اللہ  کا مصداق بنے گا؟ اور اس کی معاونت کے لیے مال زکات خرچ کیا جا سکتا ہے ؟

۲۔نیز 21 ویں صدی کے اوائل سے  (Fifth Generation War) کی ایک اصطلاح استعمال ہو رہی ہے۔ یہ روایتی اور رسمی جنگ نہیں جو کھلے میدانوں میں توپوں اور ٹینکوں سے لڑی جاتی ہو بلکہ یہ جنگ معلومات اور جدید ذرائع ابلاغ سے معاشروں کو توڑنے اور کمزور کرنے کے لیے انسانی اذہان و افکار اور قلوب و جذبات میں لڑی جارہی ہے۔ اس جنگ کے مزید اہداف میں اسلام کے بنیادی تصورات، عقائد، اعمال و اخلاق، اسلامی تہذیب و ثقافت، اسلامی اقتدار و اخلاق، اہل حق علماء ، مراکز عملیہ سے نفرت پیدا کرنا، مسلم معاشروں میں طبقاتی تقسیم ، تفرقہ بازی قائم کرنا اور مسلمانوں کی نسل جدید اور نوجوانوں میں خوف، مستقبل سے مایوسی، بے یقینی، مغربیت سے مرعوبیت پیدا کرنا ، اسی طرح عام لوگوں کو دین سے بیزار کرنے ، دین کے بارے میں تشکیک اور زندگی کے بے مقصدیت کے جذبات کو راسخ کرنا مسلم ریاستوں میں مختلف عنوانات کے تصادم، حلال و حرام کے امتیازات کا خاتمہ، اور فکری و اخلاقی آزادی کی تعلیمات دینا ہیں۔ یہ جنگ رویتی میدانوں کے بر خلاف جدید تعلیم گاہوں میں الیکٹرانک و سوشل میڈیا اور اس کے ذیلی فیچرز جیسے فیس بک، یوٹیوب، انسٹا گرام و غیرہ کے ذریعہ لڑی جارہی ہے۔ اس کے مضر اثرات سے ہر صاحب علم و بصیرت آگاہ ہے۔ اس سے بچاؤ کے لیے انہی میدانوں اور انہی پلیٹ فارمز پر اسلام کے دفاع کا علمی اور تحقیقی لحاظ سے باوقار انداز میں کام کرنا ضروری ہے۔ کیا اس میدان میں دفاع اسلام کے لیے کیا جانے والا کام في سبيل اللہ کا مصداق بنے گا؟ کیا اس کام کے لیے افراد تیار کرنا جو ان محاذوں پر دفاع اسلام کے لیے کام کر سکیں، في سبيل اللہ کے مصداق ہوں گے ؟ اور ان پر زکات کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے ؟

۳۔اسی طرح اس کام کے لیے دیگر وسائل جیسے کمپیوٹر، پرنٹر, کاغذ، اسفار ، سیمینارز وغیرہ کے لیے زکات کا مال خرچ کیا جا سکتا ہے ؟

۴۔نیز ، کیا اس کے لیے مروجہ حیلہ تملیک کی ضرورت ہو گی ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

۱۔عام طور پر جب فی سبیل اللہ کا لفظ بولا جاتا ہے تو اس سے مراد ہر وہ کام ہے جو اللہ تعالیٰ کی قربت اور رضا کا ذریعہ ہو۔ لہٰذا، اس میں ہر وہ شخص شامل ہوگا جو اللہ تعالیٰ کی اطاعت اور نیکی کے کاموں میں کوشاں ہو، تاہم جب فی سبیل اللہ کا لفظ مصارفِ زکات کے سیاق میں استعمال کیا جاتا ہے تو امام ابو یوسفؒ کے نزدیک اس سے مراد وہ غازی اور مجاہد ہے جو جہاد کے سفرمیں  محتاج ہو گیا ہو اور اس کے پاس  اس وقت نصاب کے برابر مال نہ ہو۔ جبکہ امام محمدؒ کے نزدیک اس سے مراد وہ حاجی ہے جو سفرِ حج پر روانہ ہونے کے بعد محتاج ہو گیا ہو اور حالتِ سفر میں اس کے پاس نصاب کے برابر مال نہ ہو۔

لہذا  یہ بات ذہن میں ہونی چاہیے کہ مصارف  زکات میں (سوائے  مؤلفۃ القلوب اور عاملین علی الصدقات کے)قدر مشترک یہ ہے    کہ  مسکین  ہوں،چاہے حقیقی  ہو ں یا عارضی ،جیسے سفر جہاد میں محتاج غازی کو زکات دینا۔

۲۔ایسے افراد تیار کرنا جو ان محاذوں پر دفاعِ اسلام کے لیے کام کر سکیں فی سبیل اللہ کے عام مفہوم میں تو داخل ہیں، تاہم انہیں زکات اسی وقت دی جاسکتی ہے  جبکہ یہ افراد شرعاً مستحقِ زکات ہوں، یعنی صاحبِ نصاب نہ ہوں، تو فقیر ہونے کی حیثیت سے ان کو زکات دینا جائز ہے۔کیونکہ قدر مشترک مسکین ہونا ضروری ہے۔

۳۔ یہ بات ذہن نشین رہے کہ زکات کی ادائیگی کے لیے یہ شرط ہے کہ کسی مستحقِ زکات کو اس کا مالک بنایا جائے، لہذا اس کام کے لیے وسائل (جیسے کمپیوٹر، پرنٹر وغیرہ)خرید کر ادارے کے حوالے کرنے سے زکات ادا نہیں ہوگی۔البتہ کسی مستحق زکات کو مالک بنانے سے زکات ادا ہوجائے گی۔

۴۔ واضح رہے کہ حیلۂ تملیک کی ایک جائز صورت یہ ہے کہ  کسی غریب مستحق زکات    شخص سے کہاجائے کہ آپ کسی  سے قرض لے کر یہ سامان خرید لیں اور ادارے کے لیے وقف کردیں ،پھر  ہم آپ کے قرض اتارنے  کا انتظام کردیں گے،اس کے بعد  اس کو قرض اتارنے کے لیے زکات کی رقم  دے دیں۔          

حوالہ جات

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 45)

 وأما قوله تعالى: '' في سبيل اللہ '' عبارة عن جميع القرب، فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله وسبيل الخيرات إذا كان محتاجاً.

وقال  أبو يوسف: المراد منه فقراء الغزاة ؛ لأن سبيل الله إذا أطلق في عرف الشرع يراد به ذلك.

وقال محمد: المراد منه الحاج المنقطع ؛ لما روي: أن رجلاً جعل بعيراً له في سبيل الله فأمره النبي صلى الله عليه وسلم أن يحمل عليه الحاج.

وقال الشافعي: يجوز دفع الزكاة إلى الغازي وإن كان غنياً.وأما عندنا فلا يجوز إلا عند  اعتبار حدوث الحاجة.

تفسیر روح  المعاني (5/313):

 قولہ تعالی:''فی سبیل اللہ ''أريد بذلك عند أبي يوسف منقطعو الغزاة، وعند محمد منقطعو الحجيج. وقيل: المراد طلبة العلم واقتصر عليه في الفتاوى الظهيرية، وفسره في البدائع بجميع القرب فيدخل فيه كل من سعى في طاعة الله تعالى وسبل الخيرات. قال في البحر: ولا يخفى أن قيد الفقر لا بد منه على الوجوه كلها فحينئذ لا تظهر ثمرته في الزكاة.

  أحكام القرآن للجصاص (4/330):

 وجميع من يأخذ الصدقة من هذه الأصناف، فإنما يأخذ صدقة بالفقر. والمؤلفة قلوبهم والعاملون عليها لا يأخذونها صدقة، وإنما تحصل الصدقة في يد الإمام للفقراء، ثم يعطي الإمام المؤلفة منها لدفع أذيتهم عن الفقراء وسائر المسلمين، ويعطيها العاملين عوضا من أعمالهم، لا على أنها صدقة عليهم.

  وإنما قلنا ذلك لقول النبي صلى الله عليه وسلم: «أمرت أن آخذ الصدقة من أغنيائكم وأردها في فقرائكم». فبين أن الصدقة مصروفة إلى الفقراء، فدل ذلك على أن أحدا لا يأخذها صدقة إلا بالفقر، وأن الأصناف المذكورين إنما ذكروا    بيانا لأسباب الفقر.

  المحیط البرھانی(6/221):

وكذلك من عليه الزكاة إلى بناء المسجد أو القنطرة لا يجوز وإن أرادوا الحيلة فالحيلة أن يتصدق المتولي على الفقراء ثم الفقير يدفعه إلى المتولي يصرف ذلك.

   احسان اللہ گل محمد

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

 20 /1/8144ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب