| 90847 | تقسیم جائیداد کے مسائل | متفرّق مسائل |
سوال
جائیداد سے متعلق مختلف مسائل
ہمارے والد قاری گل محمد ولد حافظ محمدحیات مرحوم کے نام 50 مرلے جگہ تھی۔ والد صاحب نے اپنی زندگی میں اپنے چار بیٹوں کو 5-5 مرلےایک ہی اسٹام پیپر پر جگہ تقسیم کر کے ان کو دے دی اور بھائیوں کو کمرے اور چار دیواری تعمیر کرا دی جبکہ مجھے صرف چاردیواری کرا ئی ۔ والد صاحب نے اپنی بیوی انور خاتون اور تین بیٹیوں کو جائیدادمیں سے کوئی حصہ نہیں دیا ۔ بلکہ 15 مرلے میں مسجد تعمیر کروادی جس کی عدالت کی ڈگری موجود ہے، اور اپنے بیٹے قاری عبداللہ کو امام مسجد مقرر کردیا ۔ چند سال بعد بڑا بیٹا سیف اللہ جس کی بیوی بچے نہیں تھے فوت ہوگیا تو سیف اللہ مرحوم کی جگہ 5 مرلےوالد نے اپنے بیٹے قاری عبداللہ امام مسجد کو90 ہزار روپے میں فروخت کردی اور تینوں بیٹیوں میں برابر 30 ، 30 ہزار روپے تقسیم کر دیے ۔ کچھ عرصہ بعد میرے بھائی امام مسجد قاری عبداللہ نے مسجد کا واش روم اوروضو خانہ گرا کر مسجد سے ملحقہ پلاٹ میں واش روم اوروضو خانہ تعمیر کیا۔ا س پر والد صاحب اور قاری صاحب کے ماموں نے ناراضگی کا اظہار بھی کیا،کیوں کہ یہ وہ پلاٹ ہے جو والد صاحب نے مدرسہ کے لیے وقف کیاتھا۔پھر کچھ عرصہ بعد قاری عبداللہ نے 2عدد کمرےاس پلاٹ میں تعمیر کیےمدرسہ کے لیے ۔
عبداللہ نے ایک کمیٹی بنا کر چند گواہان کے نام لکھ کر رجسٹرار آفس میں مسجد فاروق اعظم اور مدرسہ حیات الاسلام کے نام سے رجسٹریشن کی درخواست دی، رجسٹریشن آفس نے کہا کہ یہ جگہ آپ کے والدقاری گل محمد صاحب کے نام ہے جو اس وقت زندہ تھے تو وہ اس کی رجسٹری انتقال کرواکے اس کی فرد پیش کریں۔ اس کے بعد والد صاحب کئی سال زندہ رہے لیکن والد صاحب نے یا قاری عبداللہ نے رجسٹریشن نہیں کروائی(یہ بات واضح کردوں کہ والد نے رجسٹریشن نہیں کروائی لیکن زبانی وہ جگہ مدرسہ کے لیے وقف کرچکے تھے) ۔
کفایت اللہ اور امداد اللہ (جن کو والد صاحب نےاپنی زندگی میں پانچ ،پانچ مرلے جگہ دی تھی ) نے اپنی جگہ والدصاحب کی زندگی میں والدصاحب کے ذریعے فروخت کردی ۔ اور خریدار کو بھی رجسٹری انتقال کروا دی گئی۔ اب والدصاحب 2013میں انتقال کر چکے ہے اور بعد میں ایک بیٹی کا بھی انتقال ہو چکا ہے اور یہ تمام جگہ والدصاحب کے نام ہے۔ کسی بھی اولاد کے نام جگہ رجسٹریشن نہیں ہے اور نہ ہی مسجد یا مدرسہ کی رجسٹریشن درج ہے۔ سن 2017 میں ہم نے قانون جاننے والے سے مشورہ کیا، اس نے پٹوار خانہ کی فرد دیکھ کر بتایا کہ قاری گل محمد کے نام اس وقت 40 مرلے جگہ رجسٹرڈ ہے(اوپرلکھاہے کہ مرحوم کے نام 50مرلے رجسٹرڈتھی اور یہاں 40مرلے بتایاجارہاہے،کیونکہ دوبھائیوں نے اپنی دس مرلے فروخت کرکے خریدار نے اپنے نام کردی تھی) اس میں کوئی تعمیر لکھی ہوئی نہیں ہے ۔ہم نے اسے بتایا کہ دس مرلے میں قاری عبداللہ رہائشی ہے (دس اس طرح کہ پانچ مرلے تو وہ جو والد نے سب کو دی تھی اور پانچ مرلےوہ ہے جو ایک بھائی کے انتقال کے بعد والد نےاس کی پانچ مرلے اس بھائی کو بھیج دی تھی )، اس کے علاوہ 15مرلے پر ایک مسجد تعمیر شدہ ہے اور ایک پلاٹ ہے تقریباً 15 مرلےجو اس مسجد کے برابرمیں مدرسہ کےلیےہے جس میں دو کمرے اور چار دیواری ہے، تو اس نے کہا آپ کی یہ وراثت ہے آپ جیسا چاہیں سوائے مسجد کی جگہ کے استعمال کر سکتے ہیں ۔اس کے بعد قاری عبداللہ نے اپنے بھائی کفایت اللہ کو دو کمرے ( جو مدرسہ کے لیےاس پلاٹ میں تعمیر شدہ تھے ) میں رہائش دے دی۔ اور دوسرے بھائی امداد اللہ سے پانچ لاکھ روپے لیکر اس پلاٹ میں مزید دو کمروں کی تعمیر میری مدد سے شروع کرا دی، اس دوران میرے ماموں اور رشتہ داروں نے ہمیں تعمیر سے روکا اور فرمایا کہ یہ مدرسے کی جگہ ہےاس میں تعمیر نہ کریں ۔ قاری عبداللہ اور میں نے جوابا کہا یہ ہمارے والد مرحوم کے نام ہے ۔ جس پر پھوپھی اور ان کے بیٹوں نے ہمیں دہمکیاں دینا شروع کردی اور عدالت میں رٹ کر کے بیلف کے زریعے تعمیر رکوا دی ایک دو ہفتے بعد ہم تینوں بھائی عدالت میں پیش ہوئے اور عدالت کو بتایا یہ ہمارے والد کی وراثت ہے(کیونکہ ان کے نام ہے )۔ یوں عدالت نے دوبارہ تعمیر جاری رکھنے کی اجازت دے دی۔ قاری عبداللہ نے تمام جگہ (سوائے مسجد کے جوتقریبا25مرلے بنتی ہےجو والد صاحب کے نام تھی )کو بھائی امداد اللہ، اور قاری عبداللہ، دو بہنوں اور اپنی والدہ کے نام نادرا فیملی سرٹیفکیٹ بنا کر وراثت کی تقسیم اور رجسٹریشن کروا لی اور ایک بھائی کفایت اللہ اور ایک بہن جو والد کی وفات کے بعد فوت ہوئی ان دونوں کے نام فیملی رجسٹریشن نہ کروائے اور نہ تقسیمِ میراث میں ان کو شامل کیا ۔ کفایت اللہ اور مرحومہ بہن کے خاوند نے اعتراض اٹھایا تو برادری کے کہنے پر بڑے بھائی قاری عبداللہ نے پٹواری اور تحصیلدار کو درخواست دی کہ ان دونوں کابھی وراثت میں اندراج کیا جائے۔ تحصیلدار صاحب نے متعلقہ دفتر سے پڑتال کر کے فرمایا کہ سول کورٹ سے رجوع کریں اور تمام وارثین کو قانونی شرعی قوانین کے مطابق اندراج کے لیے سول کورٹ میں درخواست دیں۔ جب سول کورٹ جوہرآباد میں کیس گیا تو کچھ ہی عرصے بعد بڑے بھائی قاری عبداللہ نے ہی ہمارے خلاف درخواست دے دی کہ اس (کفایت اللہ )کو زندگی میں والد نے جو حصہ دیا تھا وہ جگہ اس نے فروخت کر لی تھی اور باقی جگہ تو مدرسہ کی ہے ۔ تقریباً 8 سال سے کیس زیر سماعت ہے۔ اب قاری عبداللہ برادری سے کہتا ہے کہ میری جگہ جو دس مرلےہے باقی حضرات لکھ کر دیں کہ قاری عبداللہ کو دس مرلےجگہ کی رجسٹریشن کرانے کے پابند ہوں گے ۔
آپ سے سوال یہ ہے کہ چند عزیز و اقارب گواہی دیتے ہیں کہ ان کے والد قاری گل محمد نے15مرلے جگہ زبانی وقف برائے مدرسہ کی تھی جبکہ والد کی زندگی میں ان کو بتایا گیا کہ مدرسہ وقف کیا ہے تو آپ رجسٹریشن کرادیں اور رجسٹریشن آفس نے کہا کہ آپ کے والد پٹواری کے پاس فرد میں لکھوا دیں اور فرد لے ائیں تو 6-7 سال تک والد صاحب زندہ رہے اس کے باوجود والد صاحب اور نہ ہی بڑے بھائی قاری عبداللہ نے جو امام مسجد ہےرجسٹریشن درج کروائی؟ کیا یہ مدرسہ بنانا پڑے گا یا وراثت ہوگی؟
مسجد کی جگہ نکال کر باقی وراثت میں جن دو بھائیوں نے والد کی زندگی میں جگہ فروخت کر لی تھی کیا اب ان کا وراثت میں حصہ بنتا ہے؟
کیا مرحومہ بہن کے وارثین کا وراثت میں حصہ بنتا ہے؟
کیا قاری عبداللہ جس دس مرلے میں رہائشی ہے اوراس کی رجسٹریشن نہیں ہوئی ہے اس کو دس مرلے کی رجسٹریشن انتقال کروانے کے ہم پابند ہیں یا نہیں ؟اسی طرح قاری عبداللہ کی دس مرلے بھی وارثین میں تقسیم ہوں گے ؟ جواب سے مفصل آگاہ فرمائیں جزاک اللہ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ کے مطابق مرحوم قاری گل محمد کے نام کل 50مرلے زمین تھی۔ اس 50مرلے زمین سے متعلق درج ذیل تفصیل سامنے آتی ہے۔
مرحوم نے اپنی زندگی میں 15 مرلے زمین مسجد کے لیے اور 15 مرلے زمین مدرسہ کے لیے وقف کر دی تھی۔باقی 20مرلے زمین اپنے چاروں بیٹوں میں پانچ، پانچ مرلے کے حساب سے بطور ہبہ تقسیم کر دی تھی اور ہر ایک کو اس پر قبضہ بھی دے دیا تھا۔لہٰذا مرحوم کے چاروں بیٹے اپنے پانچ، پانچ مرلے کے مالک ہیں اور یہ مرحوم کے ترکہ (میراث) میں شامل نہیں ہوگی۔تاہم مرحوم نےاگر اپنی زندگی میں اپنی بیٹیوں اوراپنی اہلیہ کو جائیداد میں سے کچھ نہیں دیا تھا تومحض اس وجہ سے کہ رجسٹری مرحوم کے نام ہے بھائیوں پر لازم نہیں کہ وہ انہیں اپنے حصص میں سے دیں کیونکہ یہ بیس مرلےجگہ مرحوم کی وفات سے پہلے ہی ان کے بیٹوں کی ملکیت بن چکی تھی اس پر میراث کا حکم عائد نہیں ہوگا۔
نیز عبداللہ جس دس مرلے زمین میں رہائش پذیر ہے، وہ بھی اس کی ذاتی ملکیت ہے۔ پانچ مرلے اسے والد نے اپنی زندگی میں بطور ہبہ دیے تھے اور پانچ مرلے اپنے والد سے باقاعدہ خریدے تھے،لہٰذا یہ پورے دس مرلے عبداللہ کی ذاتی ملکیت ہے ، انہیں میراث کا حصہ قرار دینا شرعاً درست نہیں۔ لہذاعبداللہ اگر اپنی اس زمین کی رجسٹری اپنے نام منتقل کرنے کا مطالبہ کرتا ہے تو اس کا یہ مطالبہ درست اور جائز ہے۔
مدرسہ کے لیے مختص 15مرلے زمین مرحوم نے اپنی زندگی میں اسے زبانی وقف کیا تھا اور اس پر ان کی زندگی میں دو کمرے بھی تعمیر کیے گئے ، جبکہ باقی حصہ خالی پلاٹ کی صورت میں موجود ہے،لہٰذا یہ پوری 15مرلے زمین مدرسہ ہی کے لیے ہوگی اور اسے مرحوم کی میراث میں شامل کرکے ورثہ میں تقسیم کرنا جائز نہیں، خواہ سرکاری ریکارڈ یا رجسٹری اب بھی مرحوم کے نام ہی کیوں نہ ہو۔ اس زمین کو اسی مقصد کے لیے استعمال کیا جائے گا جس کے لیے اسے وقف کیا گیا تھا، یعنی اس پر مدرسہ کی تعمیر اور دینی تعلیم کا انتظام کیا جائے گا۔
حاصل یہ کہ قاری گل محمد مرحوم کی کل 50مرلے زمین سے 20مرلے جن بیٹوں کودیے تھے وہ زمین ان بیٹوں کی ہے اور دوبیٹوں کے فروخت کرنے کے بعد اب وہ خریدار کی ہے ،ورثہ کااس میں حق نہیں ۔
15مرلےپر مسجد تعمیر ہے اور 15مرلے مدرسہ کے لیے وقف ہے،لہذااس زمین میں بھی ورثہ کاحق نہیں ۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (6/ 264):
للمالك أن يتصرف في ملكه أي تصرف شاء.
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 15):
وعندهما حبس العين على حكم ملك الله تعالى فيزول ملك الواقف عنه إلى الله تعالى على وجه تعود منفعته إلى العباد فيلزم ولا يباع ولا يوهب ولا يورث.
تكملةفتح الملهم (71/2):
فالذي يظهر لهذا العبد الضعيف عفا الله عنه : أن الوالد إن وهب لأحد أبنائه هبة أكثر من غيره اتفاقاً، أو بسبب علمه ، أو عمله ، أوبره بالوالدين ، من غير أن يقصد بذلك إضرار الآخرين ، ولا الجور عليهم ، كان جائزا على قول الجمهور.
عزیزالرحمن
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
/15محرم الحرام /1448ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


