03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کیا میت پر قرضہ ورثہ کے ذمہ ادا کرنا واجب ہے؟(ضعیف العمر شخص کے انتقال کی صورت میں واجب الاداء قرض کی ذمہ داری کس پرہوگی؟)
88769میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

میں نے کچھ رقم اپنے ایک دوست کو دی تھی جس کی تین بیٹیاں ہیں،  اُس نے کہا میں اس رقم سے پراپرٹی خریدوں گا، اُس نے یہ رقم کسی کو دے کر ایک پراپرٹی خرید لی اور فائل اُس کے پاس کسی اور کے نام پر ہے ابھی  دوست نے کہا کہ بیچنے والے نے دستاویزات میں کچھ فراڈ کیا ہے۔ اب میرا دوست فروخت کرنے والے کو کہہ رہا ہے  کہ اسے واپس لے لو اور میرے پیسے دے دو، لیکن وہ پیسے دینے میں ٹال مٹول کر رہا ہے اور نہیں دے رہا ہے، جبکہ میرا دوست کہہ رہا ہے جب وہ رقم دے گا تو میں آپ کو واپس دے سکوں گا۔

 اب  میرا سوال یہ ہے کہ اگر خدا نخواستہ میرا دوست جو کہ ستر سال کا ہے پیسے واپس کرنے سے پہلے اللہ کو پیارا ہو جاتا ہے تو کیا یہ رقم اُس کی بیٹیاں شرعاً ادا کریں گی یا جس سے پراپرٹی خریدی ہے وہ ذمہ دار ہے جبکہ نہ میں اُسے جانتا ہوں نہ وہ مجھے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے پاس قرض کا ثبوت ہو یا ورثہ تسلیم کرلیں تو دوست  کے ترکہ میں  اس کی تجہیز و تکفین  کا خرچہ نکالنے کے بعد آپ کا اور دیگر قرضداروں کا قرضہ دیا جائے گا،پھر باقی ماندہ ترکہ  ورثہ میں تقسیم ہوگا۔  تاہم  اگر دوست کے ترکہ میں گنجائش نہ ہو تو بیٹیاں اپنے مال سے والد کے قرضے  ادا کرنے کی  ذمہ دار نہیں۔

حوالہ جات

سورۃ النساء آية 11 

یُوصِیکُمُ اللّهُ فِی أَوْلَادِکُمْ ۚ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَیَیْنِ ۚ فَإِن کُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَإِن کَانَتْ وَاحِدَۃ فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَیْهِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ إِن کَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ یَکُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن کَانَ لَهُ إِخْوَۃ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِّن بَعْدِ وَصِیّةٍ یُوصِی بِهَا أَوْ دَیْنٍ ۗ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ لَا تَدْرُونَ أَیُّهُمْ أَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ۚ فَرِیضة مِّنَ اللّه ۗ إِنَّ اللّه کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا۔

الفتاوی الهنديه (٦/٤٩٧)

 التَّرِکة تَتَعَلَّقُ بِهَا حُقُوقٌ أَرْبَعة جِهَازُ الْمَیِّتِ وَدَفْنُهُ، وَالْوَصِیّة، وَالْمِیرَاثُ۔ فَیُبْدَأُ أَوَّلًا بِجِهَازِهِ وَکَفَنِهِ... ثُمَّ بِالدَّیْنِ... ثُمَّ تُنَفَّذُ وَصَایَه مِنْ ثُلُثِ مَا یَبْقَی مِنْ بَعْدِ الْکَفَنِ وَالدَّیْنِ إِلَّا أَنْ تُجِیْزَ الْوَرَثة أَکْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، ثُمَّ یُقْسَمُ الْبَاقِی بَیْنَ الْوَرَثة عَلَی سِهَامِ الْمِیرَاثِ۔

البحر الرائق (٩/٣٦٥) 

یُبْدَأُ مِنْ تَرِکة الْمَیِّتِ بِتَجْهِیزِهِ، ثُمَّ بِدَیْنِهِ، ثُمَّ وَصِیَّتِهِ، ثُمَّ یُقْسَمُ عَلَی وَرَثَتِهِ...

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

26/ربیع الآخر/1447ھ

 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب