03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ڈرائیور کے سفر میں گاڑی نہ روکنے پر جمع بین الصلاتین اور گاڑی میں نمازپڑھنے کا حکم(اہم)
88802نماز کا بیانقضاء نمازوں کا بیان

سوال

سوال یہ ہے کہ ایک آدمی فیصل آباد سےکراچی تک کا سفر کرنا چاہتا ہے، جس کی عموماً مسافت تقریبا پندرہ گھنٹے پر مشتمل ہوتی ہے، اس لیے بیچ میں نماز کا وقت لازمی آتا ہے، جبکہ کبھی ڈرائیور حضرات نماز کے لیے گاڑی نہیں روکتے، ایسےمیں سوال اول میں ذکر کی گئی دونوں صورتوں کے مطابق نماز پڑھنے کا کیا حکم ہے؟ جبکہ اس میں گاڑی تبدیل کرنے میں بھی کافی حرج ہوتا ہے، کیونکہ اس میں گاڑی جلدی نہ ملنے کی وجہ سے کافی وقت اور رقم بھی خرچ ہوتی ہے ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں لمبے سفر میں آدمی کو نماز کی ادائیگی کے سلسلہ میں  درج ذیل باتوں کا اہتمام کرنا چاہیے:

  1. سفرپرروانہ ہونے سے پہلے اولاً تو کوشش کی جائے کہ ایسی گاڑی کا انتخاب کیا جائے جس کی انتظامیہ سفر میں نماز کے لیے گاڑی روکنے کا اہتمام کرتی ہو، کیونکہ تجربہ اورمشاہدہ یہ ہے کہ بہت سے ڈرائیور حضرات لمبے سفر میں نماز پڑھانے کا اہتمام کرتے ہیں۔
  2. سفر شروع کرنے سے پہلے گاڑی والے سے وقت پر نماز پڑھانے کی بات کر لی جائے تو بھی نماز کا اہتمام کیا جا سکتا ہے، کیونکہ لمبے سفر پر چلنے والی گاڑیوں کے ڈرائیور حضرات کو ہر چار پانچ گھنٹے کے بعد قضائے حاجت وغیرہ کے لیے گاڑی روکنی پڑتی ہے تو اگر نمازوں کے اوقات کے حساب سے وقفہ (Stay) کیا جائے تو نماز کو قضاء ہونے سے بچایا جا سکتا ہے۔
  3.  سوال نمبر1کے جواب میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق بوقتِ ضرورت نمازوں کو صورتاً جمع کرنے کے ساتھ ساتھ ایسے وقت میں سفر کا آغاز کیا جائے کہ سفر میں کم سے کم نمازوں کا وقت آئے، مثلا فیصل آباد سے نمازِ مغرب پڑھ کر سفر شروع کیا جائے تو صبح صادق تک جہاں بھی گاڑی رکے عشاء کی نماز ادا کی جا سکتی ہے، اس کے بعدصبح صادق طلوع ہونے پرنمازِ فجر ادا کر لی جائے۔
  4. اگر بالفرض مذکورہ بالا صورتوں میں کوئی بھی صورت ممکن نہ ہو، جیسے بعض اوقات ایمرجنسی صورتِ حال میں سفر کرنا پڑتا ہے تو ایسی صورت میں اولاً ایک دو مرتبہ ڈرائیور یا کنڈیکٹر سے نمازکےلیےگاڑی روکنے کا مطالبہ کیا جائے، اگر پھر بھی وہ نماز کے لیے گاڑی نہ روکے توایسی صورت میں اگر ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے مسلک پر عمل کرتے ہوئے جمع بین الصلاتین حقیقتاً کرنے سے نماز کو قضاء ہونے سے بچایا جا سکتا ہوتوضرورتِ شدیدہ کے وقت اس پر بھی عمل کیا جا سکتا ہے،کیونکہ ان تینوں مسالک میں سفر،مرض اور بارش (جب زمین پر کیچڑ ہو اور کہیں بھی سواری سے اتر کر نماز پڑھنے کی جگہ میسر نہ ہو) کی حالت میں جمع بین الصلاتین حقیقتاً کرنا جائز ہے،اور علامہ ابن عابدین شامی رحمہ اللہ نے ضرورت کے وقت اس پر عمل کی اجازت دی ہے، اسی طرح حضرت مولانا اشرف صاحب تھانوی رحمہ اللہ نے ايك سوال كے جواب میں لکھا ہے کہ ضرورتِ شدیدہ میں امام شافعی رحمہ اللہ کی تقلید کرتے ہوئے جمع بین الصلاتین جائز ہے، عبارت ملاحظہ فرمائیں:

"البتہ ضرورتِ شدیدہ میں تقلیداً للشافعی جمع كر لينا مع شرائط مقررہ مذہب شافعی جائز ہے ، ولا بأس بالتقليد عندالضرورة در مختار في بحث الجمع والله أعلم."

(امداد الفتاوی: ج:5ص:94)

البتہ شافعیہ سمیت ائمہ ثلاثہ رحمہم اللہ کے مذاہب  میں صرف ظہر و عصر اور مغرب وعشاء کو تقدیما وتاخیرا جمع کرنے کی اجازت ہے، یعنی عصر کو مقدم کر کے ظہر کےوقت میں  پڑھنا یا ظہر کو مؤخر کرکے سورج غروب ہونےتک عصر کے ساتھ پڑھنے کی اجازت ہے، اسی طرح عشاء کو مقدم کر کے مغرب کے ساتھ اور مغرب کو مؤخر کرکے طلوع فجر تک عشاء کے ساتھ پڑھنا درست ہے، ان کے علاوہ کسی نماز کو اپنے مقررہ وقت کے علاوہ مقدم یا مؤخر کرکے پڑھنے کی قطعاً اجازت نہیں، یہی مالکیہ  اور حنابلہ كا مسلك ہے۔ نیزان کے ہاں جمع بین الصلاتین کی  بھی دو صورتیں ہیں: جمعِ تقدیم (جمع تقدیم کا مطلب یہ ہے کہ عصر کو ظہر کے وقت میں پڑھنا یا عشاء کو مغرب کے وقت میں پڑھنا) وجمع تاخیر(جمع تاخیر کا مطلب یہ ہے کہ ظہر کو عصر کے وقت میں پڑھنا یا مغرب کو عشاء کے وقت میں پڑھنا)پھرشافعیہ اور حنابلہ کے مذہب میں ان دونوں کی شرائط بھی بیان کی گئی ہیں، ذیل میں ان حضرات کے مسلک کے مطابق جمعِ تقدیم وجمعِ تاخیر دونوں کی بالترتیب شرائط بیان کی جاتی ہیں:

1۔جمع ِتقدیم کی شرائط: جمع تقدیم کی درج ذیل چار شرائط ہیں:

پہلی شرط: پہلی نماز کی تکبیر تحریمہ کہتے وقت جمع بین الصلاتین کی نیت کی جائے۔

دوسری شرط: دونوں نمازوں کے درمیان زیادہ فصل نہ کیا جائے، البتہ وضو، اذان اور اقامت وغیرہ کے لیے وقفہ کرنا جائز ہے، اس کے علاوہ معمولی وقفہ ہو تو اس کی گنجائش ہے، نیز پہلی نماز کی سنتیں پڑھنے کی بھی اجازت نہیں ہے، لہذا اگر دونوں نمازوں کے درمیان سنتوں کی ادائیگی یا کسی اور کام میں مشغولیت کی وجہ سےزیادہ وقفہ (عبارات میں تصریح کے مطابق سنن ونوافل زیادہ وقفہ کی مقدار کا اعتبار عرف پر ہو گا) کر دیا اور تو جمع بین الصلاتین درست نہیں ہو گا۔

تیسری شرط:حالتِ سفر میں جمع بین الصلاتین کی جائے، لہذا جمع تقدیم کی صورت میں اگر پہلی نماز سفر شروع کرنے سے پہلے پڑھ لی تو دوسری نماز کو جمع کی نیت سے وقت سے پہلے پڑھنا جائز نہیں ہو گا۔

چوتھی شرط:دونوں نمازوں کو ترتیب سے ادا کیا جائے، اگر خلافِ ترتیب یعنی پہلے والی نماز کو بعد میں اور بعد والی کو پہلے  ادا کیا تو جمع بین الصلاتین کرنا درست نہیں ہو گا۔

جمع تاخیرکی شرائط: شافعیہ اور حنابلہ کے نزدیک جمع تاخیر کی درج ذیل دو شرائط ہیں:

پہلی شرط: شافعیہ کے نزدیک پہلی نماز کواس کے وقت کے دوران  دوسری نماز کے وقت تک مؤخر کرنےکی نیت کرنا، ، جبکہ حنابلہ کے نزدیک جمع بین الصلاتین کی نیت کرنا شرط ہے، لیکن حاصل دونوں کا ایک ہی ہے کہ جمع بین الصلاتین کی نیت سے پہلی نمازکے وقت میں اس کو  مؤخر کرنے کی نیت کرنا شرط ہے۔

دوسری شرط: دوسری نماز ادا کرنے سے پہلے سفر ختم نہ ہونا، اگر دوسری نماز ادا کرنے سے پہلے سفرختم ہو گیا، اگرچہ نماز کی آخری رکعت میں ہو تو جمع بین الصلاتین کرنا درست نہ ہو گا۔

جمع تاخیر میں صرف یہی دو شرطیں ذکر کی گئی ہیں، لہذا جمع تاخیر کے وقت پہلی نماز کے بعد اس کی سنتیں ونوافل وغیرہ ادا کیے جا سکتے ہیں، کیونکہ اس میں عدمِ فصل ضروری نہیں، البتہ ترتیب کی رعایت رکھنا جمع تاخیر میں بھی مستحب قرار دی گئی ہے۔

البتہ علامہ شامی رحمہ اللہ نے مذہبِ غیر پر عمل کرنے میں صرف جمع تاخیر کی گنجائش دی ہے، کیونکہ کسی عذرکی بناء پراگر نماز مؤخر ہو جائے توحنفیہ کے مسلک پر بھی اس کو قضاءً کرنا  درست ہے اور عذر کی صورت میں عند اللہ آدمی گناہ گار بھی نہیں ہو گا، جیسا کہ نیند میں نماز کا قضاء ہو جانا۔ جبکہ جمعِ تقدیم میں نماز کو اپنے وقت سے پہلے پڑھنا لازم آتا ہے، جس کی عام حالات میں کوئی نظیر نہیں ملتی۔ اس لیے حنفی شخص کو اوّلاً یہی کوشش کرنا چاہیے کہ جمع تاخیر پر ہی عمل کرے، البتہ اگر کبھی اس پر عمل کرنا مشکل ہو، جیسے دونوں نمازوں کو اکٹھے پڑھنے کا موقع نہ ہو یا یہ کہ وضو کرنے میں دقت کا سامنا ہو تو ایسی مجبوری کی صورت میں جمع تقدیم پر بھی عمل کرنے کی گنجائش ہے۔

نیز جیسے مسافر کے لیے ضرورت کے وقت شافعیہ اور حنابلہ کے مسلک پر عمل کرنا جائز ہے، اسی طرح مریض اور ڈاکٹر وغیرہ کے لیے بھی اپریشن کے دوران ضرورت کے وقت (جب اپریشن کافی طویل ہو اوراس کو درمیان میں چھوڑنا مریض کے لیے نقصان کا باعث ہو اور جمع بین الصلاتین نہ کرنے کی صورت میں نماز قضاء ہونے کا قوی اندیشہ ہو) اس پر عمل کی گنجائش ہے، کیونکہ حنابلہ کے نزدیک کسی بھی ایسے عذر کی وجہ سے جمع بین الصلاتین جائز ہے، جس میں آدمی کی جان، مال یا عزت ضائع ہونے کا اندیشہ ہو۔حوالہ جات (1تا12) ملاحظہ فرمائیں۔

  1. اگر کبھی سفرکے دوران مذہبِ غیر پر عمل کرتے ہوئے جمع بین الصلاتین کرنا بھی ممکن ہو اور آدمی باوضو ہو یا سواری میں وضو کا انتظام ہو، جیسے ٹرین اور جہاز میں سہولت ہوتی ہے تو ایسی صورت میں حنفیہ کی بعض عبارات سے معلوم ہوتا ہے کہ سواری پر مجبوری کی صورت میں فرض نماز اشارہ سے پڑھنا بھی جائز ہے، چنانچہ حنفیہ کی المبسوط للسرخسی، فتاوی قاضی خان، بدائع الصنائع، المحیط البرہانی، مراقی الفلاح، البنایہ شرح الہدایہ، خلاصة الفتاوی اور شامیہ وغیرہ میں ضرورت کے وقت سواری پر فرض نماز اشارہ کے ساتھ پڑھنے کی اجازت دی گئی ہے اور ان حضرات نے قبلہ کے بارے میں بھی صراحت کی ہے کہ اگر قبلہ رُو ہو کر نماز پڑھنا ممکن ہو تو اس کی طرف منہ کر لیا جائے، لیکن اگر بالفرض قبلہ رُخ ہوناممکن نہ ہو تو دوسری طرف رُخ کر کے بھی سیٹ پر بیٹھ کر فرض نماز پڑھنے کی گنجائش ہے، ایسی صورت میں بھی نماز کی فرضیت ذمہ سے ساقط ہو جائے گی اور فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق نماز بھی واجب الاعادہ نہیں ہوگی۔ اس طرح سواری پر اشارہ سے نماز پڑھنے کی تائید حنابلہ کے مسلک سے بھی ہوتی ہے، کیونکہ حنابلہ کے نزدیک بھی سواری پر بیٹھ کراشارہ سےفرض نماز ادا کرنے کی اجازت ہے، اگرچہ سواری کا رُخ قبلہ کی طرف نہ ہو، جیسا کہ امام ابن قدامہ رحمہ اللہ نے المغنی میں تصریح کی ہے۔ حوالہ جات (13تا22) ملاحظہ فرمائیں۔

واضح رہے کہ بعض اردو فتاوی جیسے فتاوی محمودیہ میں ایسی صورت میں نماز کو واجب الاعادہ قرار دیا گیا ہے اور اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ نماز کو عذر کی بناء پر اشارہ سے پڑھنے کی دو صورتیں ہیں: اول یہ کہ عذر من جانب اللہ ہو تو نماز کی قضاء واجب نہیں۔ دوم یہ کہ عذر من جانب العباد ہو تو ایسی صورت میں اشارہ سے پڑھی گئی نماز واجب الاعادہ ہو گی، لیکن فقہائے کرام رحمہم اللہ کی عبارات میں صورتِ مسئولہ سے متعلق اس کی کہیں بھی تصریح نہیں ملی، البتہ سواری سے ہٹ کر اگر کوئی ڈاکو یا دشمن کسی شخص کووضواور نماز سے منع کرے، جیسے جیل میں موجود قیدی کو منع کیا جائے اور وہ قیدی بغیروضوکےاشارہ سے نماز پڑھ لے تو اس مسئلہ کے ضمن میں فتاوی قاضی خان، خلاصة الفتاوی اور البحرالرائق وغیرہ میں مذکورہے کہ یہ نماز واجب الاعادہ ہو گی،اور البحرالرائق میں من جانب العباد اور من جانب اللہ کی تفصیل بھی ذکر کی گئی ہے۔ حوالہ جات (23تا26) ملاحظہ فرمائیں۔

لیکن سواری پر مجبوری کی صورت میں باوضواشارہ سے پڑھی گئی نماز کے واجب الاعادہ ہونے کی تصریح کہیں نہیں ملی، بلکہ علامہ قاضی خان، علامہ شرنبلالی اورعلامہ شامی رحمہم اللہ وغیرہ نے ایسی صورت میں عدمِ وجوبِ اعادہ کی تصریح کی ہے اور امام سرخسی رحمہ اللہ نے اس کی وجہ یہ لکھی ہے کہ ضرورت کے مواقع عام حالات سے مستثنی ہیں۔باقی ان دونوں صورتوں میں فرق بھی واضح ہے کہ پہلی صورت میں بلا وضو وتیمم اشارہ کے ساتھ نماز پڑھی گئی ہے، جس کی حیثیت محض تشبہ بالمصلین کی ہے، جبکہ دوسری صورت میں  مجبوری میں وضو کے ساتھ اشارہ سے نمازپڑھی گئی ہے اور اس طرح سواری پر فرض نماز اشارہ سے پڑھنے کا ذکر مسند احمداور ترمذی شریف کی ایک روایت میں بھی موجودہے، جس کو حنابلہ کی کتب میں بطورِ استدلال ذکر کیا گیا ہے، اس لیے فقہائے کرام کی عبارات کی روشنی میں ایسی نماز کا اعادہ  لازم نہیں، ہاں البتہ ایسی صورت میں بھی اگر کوئی شخص احتیاطا دوبارہ نماز پڑھ لے تو بہتر ہے، کیونکہ عبادات میں احتیاط پر عمل کرنا اولی ہے۔

  1.   اگرسواری میں وضو کی سہولت موجود نہ ہواور تیمم کی بھی شرائط نہ پائی جائیں یا تیمم کی سہولت ہی نہ ہو تو ایسی مجبوری کے وقت میں گاڑی پر بیٹھے بیٹھے تشبّہ بالمصلین کر لیا جائے، یعنی نیت باندھ کر قرات کے بعد اشارہ سے رکوع وسجدہ  اوردیگرارکان ادا کرلیے جائیں اور پھر تشہد پڑھ کر سلام پھیر دیا جائے، اس کے بعد اپنے مقام پر پہنچ کر اس نماز کو قضاء کر لیا جائے اور ساتھ ساتھ وقت مقررہ پر نماز ادا نہ ہونے کی وجہ سے  اللہ تعالیٰ سے استغفار بھی کیا جائے، تاکہ اس عمل میں کمی کوتاہی کو  اللہ تعالیٰ معاف فرمادیں۔عبارت نمبر23ملاحظہ فرمائیں۔
حوالہ جات

جمع بین الصلاتین کے حوالہ جات

  1. الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 382) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(فإن جمع فسد لو قدم) الفرض على وقته (وحرم لو عكس) أي أخره عنه (وإن صح) بطريق القضاء (إلا لحاج بعرفة ومزدلفة) كما سيجيء. ولا بأس بالتقليد عند الضرورة لكن بشرط أن يلتزم جميع ما يوجبه ذلك الإمام لما قدمنا أن الحكم الملفق باطل بالإجماع.

قال ابن عابدين: (قوله: عند الضرورة) ظاهره أنه عند عدمها لا يجوز، وهو أحد قولين. والمختار جوازه مطلقا ولو بعد الوقوع كما قدمناه في الخطبة ط. وأيضا عند الضرورة لا حاجة إلى التقليد كما قال بعضهم مستندا لما في المضمرات: المسافر إذا خاف اللصوص أو قطاع الطريق ولا ينتظره الرفقة جاز له تأخير الصلاة؛ لأنه بعذر، ولو صلى بهذا العذر بالإيماء وهو يسير جاز. اهـ. لكن الظاهر أنه أراد بالضرورة ما فيه نوع مشقة تأمل.

 (قوله: لكن بشرط إلخ) فقد شرط الشافعي لجمع التقديم ثلاثة شروط: تقديم الأولى، ونية الجمع قبل الفراغ منها، وعدم الفصل بينهما بما يعد فاصلا عرفا، ولم يشترط في جمع التأخير سوى نية الجمع قبل خروج الأولى نهر. ويشترط أيضا أن يقرأ الفاتحة في الصلاة ولو مقتديا وأن يعيد الوضوء من مس فرجه أو أجنبية وغير ذلك من الشروط والأركان المتعلقة بذلك الفعل. والله تعالى أعلم.

2)الأم للشافعي (7/ 203) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

(قال: الشافعي) : أخبرنا مالك عن أبي الزبير المكي عن أبي الطفيل عامر بن واثلة عن معاذ بن جبل «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يجمع بين الظهر والعصر والمغرب والعشاء في سفره إلى تبوك» فأخذنا نحن، وأنتم به.

3)الحاوي الكبير (2/ 48) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

(فصل): فأما الجمع بين الصلاتين في وقت إحديهما، فإن كان مقدما للعصر إلى وقت الظهر والعشاء إلى وقت المغرب أذن وأقام للأولى ثم أقام للثانية ولم يؤذن، وإن كان مؤخرا للظهر إلى وقت العصر والمغرب إلى وقت العشاء كان حكم الأولى منهما في الأذان لها كالفائتة فيكون على ثلاثة أقاويل في الثانية فيقيم لها، ولا يؤذن.

حاشية البجيرمي على الخطيب (2/ 179) الناشر: دار الفكر،بيروت:

قوله: (بشرائط جمع التقديم) وهي الأربعة المتقدمة، ويجعل المرض هنا كالسفر هناك أج. فيكون الشرط الرابع دوام المرض إلى عقد الثانية، والشرط الثاني في جمع التأخير دوام المرض إلى تمامهما قوله: (بالأمرين المتقدمين) وهما نية الجمع في وقت الأولى والباقي يسعها، ودوام العذر إلى تمام الثانية قوله: (لأن تاركهما) أي الجمعة والجماعة.

4)إعانة الطالبين على حل ألفاظ فتح المعين (2/ 120) الناشر: دار الفكر للطباعة والنشر والتوريع:

(قوله: كأن كان يحم) تمثيل لزيادة المرض، فأصل المرض موجود في وقت الأولى ووقت الثانية، لكن يحم - زيادة على المرض الكائن به - في وقت الثانية.

(قوله: وقت الثانية) متعلق بكل من يزداد، ومن يحم.

(قوله: قدمها) أي الثانية، أي جمعها مع الأولى جمع تقديم.

(وقوله: بشروط جمع التقديم) هي: الترتيب، والولاء، ونية الجمع في الأولى.

ويشترط أيضا وجود المرض إلى عقد الثانية، كما يشترط في السفر دوامه، إلى ذلك.

(قوله: أو وقت الأولى) معطوف على وقت الثانية، أي أو كان يزداد مرضه وقت الثانية، كأن كان يحم فيه. (قوله: أخرها) أي الأولى، وهو جواب إن المقدرة.

(قوله: بنية الجمع) متعلق بأخرها، أي أخرها بنية إيقاعها مجموعة جمع تأخير.

5)المحرر في الفقه على مذهب الإمام أحمد بن حنبل (1/ 134) الناشر: مكتبة المعارف- الرياض:

ويشترط له في وقت الأولى أن ينويه عند افتتاحها ويقدمها على الثانية، وأن لا يفرق بينهما إلا بقدر الإقامة والوضوء فإن صلى بينهما سنة الصلاة بطل الجمع وعنه لا يبطل. ويشترط للجمع في وقت الثانية أن ينويه قبل أن يبقى من وقت الأولى بقدرها والترتيب.

6)الشرح الكبير على متن المقنع (2/ 122) الناشر: دار الكتاب العربي للنشر والتوزيع:

(وللجمع في وقت الأولى ثلاثة شروط: نية الجمع عند إحرامها ويحتمل أن تجزئه النية قبل سلامها، وأن لا يفرق بينهما إلا بقدر الإقامة والوضوء فإن صلى السنة بينهما بطل الجمع في إحدى الروايتين، وأن يكون العذر موجوداً عند افتتاح الصلاتين وسلام الأولى) نية الجمع شرط لجوازه في المشهور من المذهب.

7)مناهج التحصيل ونتائج لطائف التأويل في شرح المدونة وحل مشكلاتها (1/ 197) الناشر: دار ابن حزم:

وأما وقت عذر ورخصة: فهو أن يصلي الظهر في آخر وقتها المستحب، أو يعجل العصر في أول وقت الظهر المستحب الذي هو وقت الإباحة؛ وذلك في الجمع بين الصلاتين لمن يجوز له الجمع إما لعذر السَّفر، أو لعذر المرض أو لعُذر المَطَر.

وأما وقت التضييق والضرورة: فهو أن يُؤخر الظهر والعصر إلى غروب الشمس، أو يؤخر المغرب والعشاء إلى طلوع الفجر -إما اختيارًا وإما اضطرارًا.

8)مسائل الإمام أحمد برواية أبي داود السجستاني (ص: 108) مكتبة ابن تيمية، مصر:

باب: جمع الصلاتين: سمعت أحمد بن حنبل، " سأله رجل عن الجمع بين الصلاتين في السفر؟ قال: أخر المغرب حتى تصليهما جميعا، قال: أنعس؟ قال: إن نعست فتوضأ «.

سمعت أحمد،» سئل عن الجمع بين الصلاتين في السفر؟ قال: نعم، ويكون في وقت الآخر ".

9)المغني لابن قدامة (2/ 205) الناشر: مكتبة القاهرة:

وإن اختاروا تأخير الجمع، جاز. والمستحب أن يؤخر الأولى عن أول وقتها شيئا. قال الأثرم: سألت أبا عبد الله عن الجمع بين الصلاتين في المطر؟ قال: نعم، يجمع بينهما، إذا اختلط الظلام قبل أن يغيب الشفق، كذا صنع ابن عمر. قال الأثرم: وحدثنا أبو أسامة، حدثنا عبيد الله، عن نافع، قال: كان أمراؤنا إذا كانت الليلة المطيرة أبطئوا بالمغرب، وعجلوا العشاء قبل أن يغيب الشفق، فكان ابن عمر يصلي معهم، ولا يرى بذلك بأسا.

قال عبيد الله: ورأيت القاسم وسالما يصليان معهم، في مثل تلك الليلة. قيل لأبي عبد الله: فكأن سنة الجمع بين الصلاتين في المطر عندك أن يجمع قبل أن يغيب الشفق، وفي السفر يؤخر حتى يغيب الشفق. قال: نعم.

10)شرح منتهى الإرادات = دقائق أولي النهى لشرح المنتهى (1/ 298) الناشر: عالم الكتب:

ويجمع في ثمان حالات (بسفر قصر) نصا، لحديث معاذ مرفوعا «كان في غزوة تبوك إذا ارتحل قبل زيغ الشمس أخر الظهر (و) السابعة (لعذر) يبيح ترك جمعة وجماعة كخوفه على نفسه، أو ماله، أو حرمته والثامنة: ذكرها بقوله: (أو شغل يبيح ترك جمعة وجماعة) كمن يخاف بتركه ضررا في معيشة يحتاجها فيباح الجمع، لما تقدم بين الظهر والعصر وبين المغرب والعشاء.

11)الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (2/ 1378) الناشر: دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

يشترط لجمع التقديم ستة شروط(عندالشافعية):

الأول ـ نية الجمع: أي أن ينوي جمع التقديم، في أول الصلاة الأولى، وتجوز في أثنائها في الأظهر، ولو مع السلام منها.

الثاني ـ الترتيب أي البداءة بالأولى صاحبة الوقت: وهو أن يقدم الأولى، ثم يصلي الثانية؛ لأن الوقت للأولى، وإنما يفعل الثانية تبعا للأولى، فلا بد من تقديم المتبوع، فلو صلاهما مبتدئا بالأولى، فبان فسادها بفوات شرط أو ركن، فسدت الثانية أيضا، لانتفاء شرطها من البداءة بالأولى، ولكن تنعقد الثانية نافلة على الصحيح.

الثالث ـ الموالاة أي التتابع بألا يفصل بينهما فاصل طويل؛ لأن الجمع يجعلهما كصلاة واحدة، فوجب الولاء كركعات الصلاة أي فلا يفرق بينهما، كما لا يجوز أن يفرق بين الركعات في صلاة واحدة، فإن فصل بينهما بفصل طويل ولو بعذر كسهو وإغماء، بطل الجمع، ووجب تأخير الصلاة الثانية إلى وقتها، لفوات شرط الجمع، وإن فصل بينهما بفصل يسير، لم يضر، كالفصل بينهما بالأذان والإقامة والطهارة.

الرابع ـ دوام السفر إلى الإحرام بالصلاة الثانية، حتى ولو انقطع سفره بعد ذلك أثناءها. أما إذا نقطع سفره قبل الشروع في الثانية، فلا يصح الجمع، لزوال السبب.

الخامس ـ بقاء وقت الصلاة الأولى يقيناً إلى عقد الصلاة الثانية.

السادس ـ ظن صحة الصلاة الأولى: فلو جمع العصر مع الجمعة في مكان تعددت فيه لغير حاجة، وشك في السبق والمعيّة، لا يصح جمع العصر معها جمع تقديم.

ويشترط لجمع التأخير شرطان فقط:

الأول ـ نية التأخير قبل خروج وقت الصلاة الأولى، ولو بقدر ركعة: أي بزمن لو ابتدئت فيه، كانت أداء. وإلا فيعصي، وتكون قضاء. ودليل اشتراط النية: أنه قد يؤخر

للجمع، وقد يؤخر لغيره، فلا بد من نية يتميز بها التأخير المشروع عن غيره.

الثاني ـ دوام السفر إلى تمام الصلاة الثانية، فإن لم يدم إلى ذلك بأن أقام ولو في أثنائها، صارت الأولى (وهي الظهر أو المغرب) قضاء؛ لأنها تابعة للثانية في الأداء للعذر، وقد زال قبل تمامها.

12)الفقه الإسلامي وأدلته للزحيلي (2/ 1383) الناشر: دار الفكر - سوريَّة – دمشق:

ويشترط لصحة جمع التقديم شروط أربعة أخرى(عندالحنابلة):

الأول ـ نية الجمع عند الإحرام بالصلاة الأولى: لحديث «إنما الأعمال بالنيات».

الثاني ـ الموالاة: فلا يفرق بين المجموعتين إلا بقدر الإقامة والوضوء الخفيف؛ لأن معنى الجمع المتابعة والمقارنة، ولا يحصل ذلك مع التفريق الطويل، والخفيف أمر يسير وهو معفو عنه، وهما من مصالح الصلاة.

الثالث ـ وجود العذر المبيح للجمع من سفر أو مرض ونحوه عند افتتاح الصلاتين المجموعتين، وعند سلام الأولى؛ لأن افتتاح الأولى من موضع النية وفراغها، وافتتاح الثانية موضع الجمع، فلو انقطع المطر، ولم يوجد وحل بعده قبل ذلك، بطل الجمع.

الرابع ـ دوام العذر إلى فراغ الثانية شرط في السفر والمرض: فلو انقطع السفر قبل ذلك، بطل الجمع. ولا يشترط دوام العذر إلى فراغ الثانية في جمع مطر ونحوه كثلج وبرد إن خلفه وحل.

ويشترط لجمع التأخير شرطان:

الأول ـ نية الجمع في وقت الصلاة الأولى ما لم يضق وقتها عن فعلها، فإن ضاق وقت الأولى عن فعلها، لم يصح الجمع؛ لأن تأخيرها إلى القدر الذي يضيق عن فعلها حرام، ويأثم بالتأخير.

الثاني ـ استمرار العذر إلى دخول وقت الثانية؛ لأن المجوز للجمع العذر، فإذا لم يستمر، وجب ألا يجوز، لزوال المقتضي، كالمريض يبرأ، والمسافر يقدم، والمطر ينقطع. ولا أثر لزوال العذر بعد دخول وقت الثانية؛ لأنهما صارتا واجبتين في ذمته، فلا بد له من فعلهما.

سواری پر فرض نماز پڑھنے سے متعلق حوالہ جات

13)سنن الترمذي ت بشار (1/ 533) الناشر: دار الغرب الإسلامي – بيروت:

حدثنا يحيى بن موسى، قال: حدثنا شبابة بن سوار، قال: حدثنا عمر بن الرماح، عن كثير بن زياد، عن عمرو بن عثمان بن يعلى بن مرة، عن أبيه، عن جده، أنهم كانوا مع النبي صلى الله عليه وسلم في سفر، فانتهوا إلى مضيق، فحضرت الصلاة، فمطروا، السماء من فوقهم، والبلة من أسفل منهم، فأذن رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو على راحلته، وأقام،

فتقدم على راحلته، فصلى بهم يومئ إيماء: يجعل السجود أخفض من الركوع.

هذا حديث غريب، تفرد به عمر بن الرماح البلخي لا يعرف إلا من حديثه. وقد روى عنه غير واحد من أهل العلم. وكذلك روي عن أنس بن مالك أنه صلى في ماء وطين على دابته. والعمل على هذا عند أهل العلم. وبه يقول أحمد، وإسحاق.

14)بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (1/ 108) الناشر: دار الكتب العلمية:

وكذلك الصحيح إذا كان على الراحلة وهو خارج المصر وبه عذر مانع من النزول عن الدابة، من خوف العدو أو السبع، أو كان في طين أو ردغة يصلي الفرض على الدابة قاعدا بالإيماء من غير ركوع وسجود؛ لأن عند اعتراض هذه الأعذار عجز عن تحصيل هذه الأركان من القيام والركوع والسجود، فصار كما لو عجز بسبب المرض، ويومئ إيماء، لما روي في حديث جابر - رضي الله عنه - «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - كان يومئ على راحلته ويجعل السجود أخفض من الركوع» لما ذكرنا، ولا تجوز الصلاة على الدابة بجماعة سواء تقدمهم الإمام أو توسطهم في ظاهر الرواية.

15)مراقي الفلاح شرح نور الإيضاح (ص: 154) الناشر: المكتبة العصرية:

"لا يصح على الدابة صلاة الفرائض ولا الواجبات كالوتر والمنذور" والعيدين "و" لا قضاء "ما شرع فيه نفلا فأفسده ولا صلاة الجنازة و" لا "سجدة" تلاوة قد "تليت آيتها على الأرض إلا لضرورة" نص عليها في الفرض بقوله تعالى: {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالاً أَوْ رُكْبَاناً} [البقرة: 239] والواجب ملحق به "كخوف لص على نفسه أو دابته أو ثيابه لو نزل" ولم تقف له رفقته "وخوف سبع" على نفسه أو دابته "و" وجود مطر و "طين" في "المكان" يغيب فيه الوجه أو يلطخه أو يتلف ما يبسطه عليه أما مجرد نداوة فلا يبيح ذلك والذي لا دابة له يصلي قائما في الطين بالإيماء "وجموح الدابة وعدم وجدان من يركبه" دابته ولو كانت غير جموح "لعجزه" بالاتفاق ولا تلزمه الإعادة بزوال العذر والمريض الذي يحصل له بالنزول والركوب زيادة مرض أو بطؤ برء يجوز له الإيماء بالفرض على الدابة واقفة مستقبل القبلة إن أمكن وإلا فلا.

16)الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 40) الناشر: دار الفكر-بيروت:

 (فهي صلاة على الدابة، فتجوز في حالة العذر) المذكور في التيمم (لا في غيرها) ومن العذر المطر، وطين يغيب فيه الوجه وذهاب الرفقاء، ودابة لا تركب إلا بعناء(قوله ولو صلى على دابة إلخ) شروع في صلاة الفرض والواجب على الدابة كما سينبه عليه بقوله هذا كله في الفرائض. واعلم أن ما عدا النوافل من الفرض والواجب بأنواعه لا يصح على الدابة إلا لضرورة؛ كخوف لص على نفسه أو دابته أو ثيابه لو نزل، وخوف سبع وطين ونحوه مما يأتي؛ والصلاة على المحمل الذي على الدابة

كالصلاة عليها فيومئ عليها بشرط إيقافها جهة القبلة إن أمكنه، وإلا فبقدر الإمكان. وإذا كانت تسير لا تجوز الصلاة عليها إذا قدر على إيقافها وإلا بأن كان خوفه من عدو يصلي كيف قدر كما في الإمداد وغيره، ولا إعادة عليه إذا قدر بمنزلة المريض خانية.

17)المبسوط للسرخسي (1/ 251) الناشر: دار المعرفة - بيروت:

عندهما له أن يوتر على الدابة لما روي «عن النبي - صلى الله عليه وسلم - أنه كان مع أصحابه في سفر فمطروا فأمر مناديا ينادي حتى نادى صلوا على رواحلكم، فنزل ابن رواحة فطلب موضعا يصلي فيه، فأخبر بذلك رسول الله - صلى الله عليه وسلم - فدعاه، فلما أقبل إليه فقال: أما إنه يأتيكم وقد لقن حجته قال: ألم تسمع ما أمرت به أما لك في أسوة، قال: يا رسول الله أنت تسعى في رقبة قد فكت، وأنا أسعى في رقبة لم يظهر فكاكها، قال: ألم أقل لكم إنه يأتيكم وقد لقن حجته، ثم قال له: إني لأرجو على هذا أن أكون أخشاكم لله تعالى» فقد جوز لهم الصلاة على الدابة عند تعذر النزول بسبب المطر فكذلك بسبب الخوف من سبع أو عدو، ولأن مواضع الضرورة مستثناة.

18)البناية شرح الهداية (2/ 545) الناشر: دار الكتب العلمية – بيروت:

في " خلاصة الفتاوى": أما صلاة الفرض على الدابة لعذر فجائزة، ومن الأعذار المطر عن محمد إذا كان الرجل في السفر فأمطرت السماء لم يجد مكانا ما يشاء ينزل للصلاة فإنه يقف على الدابة مستقبل القبلة ويصلي بالإيماء إذا أمكنه إيقاف الدابة، فإن لم يمكنه يصلي مستدبر القبلة.

19)خلاصة الفتاوى (193/1):مكتبة رشيدية ، سركي روڈ كوئٹة:

فأما صلاة الفرض على الدابة بالعذر فجائزة ومن الاعذار المطر عن محمد إذا كان الرجل فى السفر فأ مطرت السماء  فلم يجد مكانا يا بسا ينزل للصلوة فانه يقف على الدابة مستقبل القبلة ويصلى بالإيماء إذا أمكنه إيقاف الدابة فإن لم يمكن يصلى مستدبراا لقبلة وهذا إذا كان الطين بجال یغیب وجهه، فإن لم يكن بهذه المثابة؛ لكن الأرض ندية مبتلة صلى هناك في النوازل هذا إذا كانت الدابة تسير بنفسها أما إذا كانت تسيرها صاحبها لا يجوز التطوع ولا الفرض ومن الأعذار أن يخاف الراكب من السباع أو العدو لو نزل، ومن الأعذارأن يكون الدابة جموحا لو نزل لايمكنه الركوب ومن الأعذار اللص والمرض.

20)فتاوى قاضيخان (1/ 171)المكتبة الرشيدية، كوئٹة:

ويجوز التطوع على الدابة خارج المصر في قولهم ولا تجوز المكتوبة إلا من عذر ومن الأعذار

أن يخاف من نزول الدابة على نفسه أو على دابته من سبع أو لص أو كان في طير وردغة لا يجد

على الأرض موضعاً يابساً أو كانت الدابة جموحاً لو نزل لا يمكنه الركوب إلا بمعين أو كان شيخاً كبيراً لو نزل لا يمكنه أن يركب ولا يجد من يعينه فتجوز الصلاة على الدابة في هذه أحوال لقوله تعالى {فإن خفت فرجالاً أو ركباناً} ولا تلزمه الإعادة إذا قدر بمنزلة المريض إذا صلى بالإيماء على الدابة وإن كانت الدابة تسير وإن قدر على إيقاف الدابة لا يجوز الإيماء على الدابة إن كانت الدابة تسير وكما تسقط الأركان عن الراكب يسقط عنه الانحراف إلى القبلة الرجل إذا حمل امرأته من القرية إلى المصر كان لها أن تصلي على الدابة في الطريق إذا كانت لا تقدر على الركوب والنزول وكذا الرجل لو خاف أن يصلي قائماً يراه سبع أو عدو ولو صلى قاعداً لا يراه كان له أن يصلي قاعداً وكذا لو خاف أنه لو صلى قاعداً يراه سبع أو عدو جاز له أن يصلي مستلقياً إذا صلى على الدابة في محمل وهو يقدر على النزول لا يجوز له أن يصلي على الدابة إذا كانت الدابة واقفة إلا أن يكون المحمل على عيدان على الأرض .

21)المغني لابن قدامة (1/ 429) الناشر: مكتبة القاهرة:

قال القاضي أبو يعلى: سألت أبا عبد الله الدامغاني، فقال: مذهب أبي حنيفة أن يصلي على الراحلة في المطر والمرض. وقال أصحاب الشافعي: لا يجوز أن يصلي الفرض على الراحلة لأجل المطر والمرض. وعن مالك كالمذهبين.

واحتج من منع ذلك بحديث أبي سعيد الخدري: «فأبصرت عيناي رسول الله - صلى الله عليه وسلم - انصرف وعلى جبهته وأنفه أثر الماء والطين.» وهذا حديث صحيح. ولنا، ما رويناه من الحديث. وفعل أنس قال أحمد، - رحمه الله -: قد صلى أنس وهو متوجه إلى سرابيط. في يوم مطر المكتوبة على الدابة رواه الأثرم بإسناده، وذكره الإمام أحمد، ولم ينقل عن غيره خلافه، فيكون إجماعا، ولأن المطر عذر يبيح الجمع، فأثر في أفعال الصلاة كالسفر يؤثر في القصر.

22)الجامع لعلوم الإمام أحمد بن حنبل (6/ 70)دار الفلاح للبحث العلمي ،جمهورية مصر العربية:  

قال الأثرم: قيل لأحمد بن حنبل: يصلي المريض المكتوبة على الدابة والراحلة؟

فقال: لا يصلي أحد المكتوبة على الدابة مريض ولا غيره إلا في الطين والتطوع، وكذلك بلغنا يصلي ويومئ. قال: وأما في الخوف فقد قال اللَّه تعالى: {فَإِنْ خِفْتُمْ فَرِجَالًا أَوْ رُكْبَانًا} قال ابن عمر: مستقبل القبلة وغير مستقبلها. قيل لأحمد: الصلاة على الدابة في الحضر؟ فقال: أما في السفر.

23)المبدع في شرح المقنع (2/ 112) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:

[صلاة الفرض على الراحلة] (وتجوز صلاة الفرض على الراحلة) واقفة وسائرة، وعليه الاستقبال، وما يقدر عليه (خشية التأذي بالوحل) نصره المؤلف، وقدمه جماعة، وجزم

به في " الوجيز "، وصححه في " الفروع " لما روى يعلى بن مرة «أن النبي - صلى الله عليه وسلم - انتهى إلى مضيق هو وأصحابه؛ وهو على راحلته، والسماء من فوقهم، والبلة من أسفل منهم، فحضرت الصلاة، فأمر المؤذن فأذن، وأقام، ثم تقدم النبي - صلى الله عليه وسلم - على راحلته، فصلى بهم يومئ إيماء، يجعل السجود أخفض من الركوع» رواه أحمد، والترمذي. وقال: العمل عليه عند أهل العلم، وفعله أنس، ذكره أحمد، ولم ينقل عن غيره خلافه.

24)فتاوى قاضيخان (1/ 28) لفخر الدين حسن بن منصور الأوزجندي المتوفى 592ھ:

 الأسير في دار الحرب إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج وكذا الرجل إذا قال له غيره إن توضأت حبستك أو قتلتك فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد بمنزلة المحبوس في المصر إذا لم يجد ماء ووجد تراباً نظيفاً فإنه يتيمم ثم يعيد ولو أن المحبوس إذا لم يجد ماء ولا تراباً نظيفاً لا يصلي في قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى .

 25)  خلاصة الفتاوى(39/1)مكتبة رشيدية، كوئٹة:

الأسير فى أيدى العده إذا منعه الكافر من الوضوء والصلوة يصلى بالإيماء ثم يعيد إذاخرج وكذا لو قال لعبد إن توضأت حبستك وقتلتك فإنه يصلى بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس .

26)البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 149) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

(قوله: أو خوف عدو أو سبع أو عطش أو فقد آلة) يعني يجوز التيمم لهذه الأعذار؛ لأن الماء معدوم معنى لا صورة أما إذا كان بينه وبين الماء عدو آدميا أو غيره يخاف على نفسه إذا أتاه؛ فلأن إلقاء النفس في التهلكة حرام فيتحقق العجز عن استعمال الماء وسواء خاف على نفسه أو ماله كذا في العناية وفي المبتغى ولو كان عنده أمانة يخاف عليها إن ذهب إلى الماء يتيمم وفي التوشيح إذا خافت المرأة على نفسها بأن كان الماء عند فاسق أو خاف المديون المفلس من الحبس بأن كان صاحب الدين عند الماء وفي الخلاصة وفتاوى قاضي خان وغيرهما الأسير في يد العدو إذا منعه الكافر عن الوضوء والصلاة يتيمم ويصلي بالإيماء ثم يعيد إذا خرج وكذا لو قال لعبده إن توضأت حبستك أو قتلتك، فإنه يصلي بالتيمم ثم يعيد كالمحبوس؛ لأن طهارة التيمم لم تظهر في منع وجوب الإعادة وفي التجنيس رجل أراد أن يتوضأ فمنعه إنسان عن أن يتوضأ بوعيد قيل ينبغي أن يتيمم ويصلي ثم يعيد الصلاة بعد ما زال عنه؛ لأن هذا عذر جاء من قبل العباد فلا يسقط فرض الوضوء عنه اهـ. فعلم منه أن العذر إن كان من قبل الله تعالى لا تجب الإعادةوإن كان من قبل العبد وجبت الإعادة.

ثم وقع الاختلاف في الخوف من العدو هل هو من الله فلا تجب الإعادة أو هو بسبب العبد فتجب الإعادة ذهب صاحب معراج الدراية إلى الأول وذهب صاحب النهاية إلى الثاني والذي يظهر ترجيح ما في النهاية لما نقلناه من مسألة منع السيد عبده بوعيد من الحبس أو القتل، فإنه ليس فيه إلا الخوف لا المنع الحسي وكذا ظاهر ما نقلناه عن التجنيس كما لا يخفى لكن قد يقال لا مخالفة بين ما في النهاية والدراية، فإن ما في النهاية محمول على ما إذا حصل وعيد من العبد نشأ منه الخوف فكان هذامن قبل العباد وما في الدراية محمول على ما إذا لم يحصل وعيد من العبد أصلا بل حصل خوف منه فكان هذا من قبل الله تعالى إذا لم يتقدمه وعيد بدليل أن صاحب الدراية ذكر مسألة الخوف في الأسير بدار الحرب وبه يندفع ما ذكره في فتح القدير من أن صاحب الدراية نص على مخالفة ما في النهاية كما لا يخفى ثم بعد هذا رأيت العلامة ابن أمير حاج صرح بما فهمته فقال وتحرر أن المراد بالخوف من العدو الخوف الذي لم ينشأ عن وعيد من قادر عليه ونحو ذلك.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

25/  ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب / سعید احمد حسن صاحب