03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
والد نامعلوم ہونے کی صورت میں بچے کی نسبت کسی اور کی طرف کرنے کا حکم( متبنی کی ولدیت کامسئلہ)
88768جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

 السلام عليكم  و رحمۃ اللہ وبرکاتہ کیا فرماتے ہیں علماء کرام و مفتیان دین متین اس مسئلے کے بارے میں کہ ایک لڑکا، جس کی عمر تقریباً اٹھارہ سال ہے، اپنے والد کے بارے میں کسی قسم کی معلومات نہیں رکھتا۔ اس کی والدہ کو کافی عرصہ پہلے (غالباً بچے کی پیدائش کے وقت ہی) طلاق ہوگئی تھی۔ طلاق کے بعد والدہ اس بچے کو اپنے ہمراہ ننھیال لے آئی، جہاں اس کی پرورش اس کے نانا اور ماموں کی زیرِ نگرانی ہوئی۔ وہیں وہ لڑکا جوان ہوا اور تاحال اپنے نانا کے ساتھ مقیم ہے۔ اس دوران لڑکے کی والدہ نے دوسری جگہ نکاح کر لیا، لیکن لڑکا اپنے نانا کے ساتھ ہی رہتا ہے اور اپنے آپ کو انہی کی طرف منسوب کرتا ہے۔ نانا بھی اسے اپنا بیٹا ظاہر کرتے ہیں۔ البتہ لڑکے کو اتنا علم ہے کہ اس کا اصل والد کوئی اور ہے جو کبھی حیدرآباد میں مقیم تھا، لیکن اس کا نام، پتہ، موجودہ حالت یا شکل و صورت ان میں سے کسی چیز کی بھی اسے کوئی خبر نہیں۔ ظاہر یہ ہوتا ہے کہ نانا، ماموں یا شاید والدہ کو کچھ علم ہو، مگر خاندان میں سے کوئی بھی اس کے والد سے متعلق کوئی معلومات فراہم کرنے یا تعاون کرنے پر آمادہ نہیں۔ اب موجودہ صورتحال یہ ہے کہ اس لڑکے کو نادرا میں اپنا قومی شناختی کارڈ (CNIC) بنوانا ہے، مگر نادرا حکام کی جانب سے والد کا شناختی کارڈ نمبر لازمی قرار دیا جاتا ہے۔ چونکہ والد سے کسی قسم کا رابطہ یا شناخت ممکن نہیں، اس لیے درج ذیل سوالات قابلِ غور ہیں: 1. شرعی اعتبار سے یہ لڑکا اپنے آپ کو کس کی طرف منسوب کرے جبکہ اسے اپنے حقیقی والد کا نام تک معلوم نہیں؟ 2. اگر والد سے کوئی رابطہ یا شناخت ممکن نہ ہو، تو نادرا میں CNIC بنوانے کے لیے شرعاً کیا طریقہ اختیار کیا جائے؟ 3. کیا شرعاً کسی دوسری نسبت (مثلاً نانا یا والدہ کے دوسرے شوہر کے نام پر) CNIC بنوانا درست ہوگا؟ اگر ایسا کرنا درست نہیں تو ایسی حالت میں شریعت کی روشنی میں اس مسئلے کا عملی اور جائز حل کیا ہو سکتا ہے؟ اللہ تعالیٰ آپ کو جزائے خیر عطا فرمائے اور امتِ مسلمہ کی شرعی رہنمائی کی توفیق عطا فرمائے۔ والسلام

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

قرآن کریم کے واضح ہدایات کے مطابق لڑکا  کو اپنے حقیقی والد کی طرف ہی منسوب کرنا ضروری ہے، شناختی کارڈ میں باپ کی جگہ کسی اور کا نام لکھنا ہرگز درست نہیں۔  ایسی صورت میں جبکہ والد زندہ ہے اور نانا، ماموں اور ماں کو معلوم بھی  ہے  تو   لڑکا قانونی کاروائی کرے اور قانون کے ذریعے اپنے باپ تک پہنچے۔

اگر ممکن نہ ہو تو نانا کا نام بطور سرپرست لکھوائیں، ولدیت میں کسی اور کا نام نہ لکھوایا جائے،ہماری معلومات کے مطابق نادرا یہ سہولت فراہم کرتا ہے۔

حوالہ جات

الأحزاب آية (٥)

''اُدْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللّه فَإِن لَّمْ تَعْلَمُوا آبَاءَهُمْ فَإِخْوَانُكُمْ فِی الدِّیْنِ وَمَوَالِیكُمْ  وَلَیْسَ عَلَیْكُمْ جُنَاحٌ فِیمَا أَخْطَأْتُم بِه وَلٰكِن مَّا تَعَمَّدَتْ قُلُوبُكُمْ وَكَانَ اللّه غَفُورًا رَّحِیمًا''۔

صحیح البخاری (٤٧٨٢) 

عن عبد الله بن عمر: إن زید بن حارثة، مَوْلَى رسولِ الله ﷺ، ما كنا ندعوه إلا زید بن محمد، حتى نزل القرآن: ''ادْعُوهُمْ لِآبَائِهِمْ هُوَ أَقْسَطُ عِندَ اللّٰهِ''۔

صحیح البخاری (٦٧٦٦)

عن سعد بن أبی وقاص وأبی بَكْرَة ''منِ ادَّعَى إلى غَيْرِ أَبِيهِ، وَهُوَ یَعْلَمُ أَنَّهُ غَيْرُ أَبِيهِ، فَالْجَنَّةُ عَلَیْهِ حَرَامٌ''۔

زبیر احمد ولد شیرجان

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

26/ربیع الآخر1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب