| 88801 | نماز کا بیان | قضاء نمازوں کا بیان |
سوال
سوال یہ ہے کہ ایک آدمی فیصل آباد سے عبدالحکیم تک کا سفر کرنا چاہتا ہے، ان کے درمیان ڈیڑھ سو (150)کلو میٹر کا فاصلہ ہے،اس دوران اگر ڈرائیور نماز کےلیے بس نہ روکےتو درج ذیل دو صورتوں میں نماز پڑھنے یا چھوڑنے کے متعلق کیا حکم ہے؟
پہلی صورت یہ ہے کہ آدمی باقی ماندہ کرایہ واپس لے کر ، یا بسا اوقات وہ کرایہ واپس نہ کریں یا کم واپس کریں ، بہرحال ان صورتوں میں وہ بس سے اتر جائے اور نماز پڑھ کر دوسری بس تلاش کرے اور اس میں از سر نو کرایہ دے کر آئے۔
دوسری صورت یہ کہ سفر موٹر وے کا ہو، سواری باوضو ہو اور نماز کی ادائیگی کےلیےتنگئ وقت کے باعث اس کو وہیں موٹر وے کے اوپر راستے میں ہی اترنا پڑ جائے جہاں سے دوسری بس عموما نہیں اٹھاتی، کیونکہ موٹر وے پر "بس سٹاپ" کے علاوہ راستے میں کھڑی سواری کو عموما نہیں اٹھایا جاتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطورِ تمہید جاننا چاہیے کہ قرآن وسنت میں سب سے زیادہ جس حکم کی تاکید فرمائی گئی وہ فرض نماز کو اپنے وقت پر ادا کرنا ہے، اس لیے نماز کو بغیر کسی عذر کے چھوڑنے پر سخت وعیدیں وارد ہوئی ہیں، چنانچہ المعجم الاوسط للطبرانی (3/343) کی ایک حدیث میں حضوراکرم صلی اللہ علیہ وسلم نے یہاں تک ارشاد فرمایا:«من ترك الصلاة متعمّدا فقد كفر جهارا» یعنی جس نے جان بجھ کر نماز چھوڑ دی تو اس نے اعلانیہ کفر کیا۔اسی لیے بعض فقہائے کرام جیسے حنابلہ کا مسلک یہ ہے کہ بلاعذرجان بوجھ کر نماز چھوڑنے سے آدمی دائرہ اسلام سے خارج ہو جاتا ہے، اس لیے حتی الامکان آدمی کو چاہیے کہ کسی معمولی عذر کی بناء پر نماز کو قضاء نہ کرے،بلکہ اپنے دنیوی معاملات کو آگے پیچھے کر کے نماز کو مقررہ وقت کے اندر ادا کرنے کی پوری کوشش کرے۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں فیصل آباد سے عبدالحکیم تک ڈیڑھ سو (150)کلومیٹر پر مشتمل زیادہ مسافت نہیں ہے، آج کل تیزرفتار گاڑیاں موٹروے پر اتنی مسافت سوا یا ڈیڑھ گھنٹہ میں بآسانی طے کر لیتی ہیں، لہذا اتنے کم وقت کےسفر میں نماز قضاء کرنے یا تشبہ بالمصلین کرنے کی اجازت نہیں دی جا سکتی، بلکہ ایسی صورت میں آدمی پر لازم ہے کہ سفر ایسے وقت میں شروع کرے کہ جس میں نماز قضاء ہونے کا اندیشہ نہ ہو، البتہ اس میں اتنی گنجائش ہے کہ اگر بالفرض ظہر کے بعد سفر شروع کرنا ہے تو حضراتِ صاحبین رحمہما اللہ کے مسلک کے مطابق عصر کی نماز مثل اول ختم ہونے پر پڑھ لی جائے اور پھر اگر مغرب میں کچھ تاخیر ہو جائے تو مجبوری کے پیشِ نظر امام ابو حنیفہ رحمہ اللہ کے مسلک کے مطابق شفقِ ابیض ختم ہونے سے پہلے پہلے مغرب کی نماز پڑھی جا سکتی ہے، اس طرح ڈیڑھ سو کلومیٹر کی مسافت کا سفر بآسانی نماز قضاء کیے بغیر طے کیا جا سکتا ہے اورایسی حالت میں سوال میں ذکر کی گئی کسی بھی صورت پر عمل کرنے کی ضرورت پیش نہیں آئے گی۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع (1/122) الناشر: دار الكتب العلمية:
روى الحسن عن أبي حنيفة أن آخر وقتها إذا صار ظل كل شيء مثله سوى فيء الزوال ، وهو قول أبي يوسف ومحمد وزفر والحسن والشافعي ، وروى أسد بن عمرو وعنه إذا صار ظل كل شيء مثله سوى فيء الزوال خرج وقت الظهر، ولا يدخل وقت العصر ما لم يصر ظل كل شيء مثليه ، فعلى هذه الرواية يكون بين وقت الظهر والعصر وقت مهمل كما بين الفجر والظهر ، والصحيح رواية محمد عنه، فإنه روي في خبر أبي هريرة.
المحيط البرهاني للإمام برهان الدين ابن مازة (1/273) دار الكتب العلمية، بيروت:
اختلفوا في آخر وقت الظهر روى الحسن عن أبي حنيفة أن آخر وقت الظهر: أن يصير ظل كل شيء مثله سوى الظل الأصلي، فإذا صار ظل كل شيء مثله خرج وقت الظهر ودخل وقت العصر، وهو قول أبي يوسف ومحمد. وذكر في «الأصل»: أنه لا يدخل وقت العصر حتى يصير الظل قامتين ولم يتعرض لآخر وقت الظهر، وروى أسد بن عمرو عن أبي حنيفة أنه إذا صار ظل كل شيء مثله خرج وقت الظهر، ولا يدخل وقت العصر حتى يصير ظل كل شيء مثله، وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة أنه إذا صار الظل أقل من قامتين خرج وقت الظهر، ولا يدخل وقت العصر حتى يصير ظل كل شيء مثليه، قال أبو الحسن: وهذه الرواية أصح.
المبسوط للسرخسي (1/ 142) الناشر: دار المعرفة - بيروت:
اختلفوا في آخر وقت الظهر، فعندهما إذا صار ظل كل شيء مثله خرج وقت الظهر ودخل وقت العصر وهو رواية محمد عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى وإن لم يذكره في الكتاب نصا في خروج وقت الظهر. وروى أبو يوسف عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أنه لا يخرج وقت الظهر حتى يصير الظل قامتين. وروى الحسن عن أبي حنيفة رحمهما الله تعالى أنه إذا صار الظل قامة يخرج وقت الظهر ولا يدخل وقت العصر حتى يصير الظل قامتين، وبينهما وقت مهمل.
مجمع الأنهر (1/ 116) الناشر: دار إحياء التراث العربي:
روى حسن بن زياد عنه إذا صار كل شيء مثله سوى فيء الزوال خرج وقت الظهر ودخل وقت العصر وبه أخذ أبو يوسف ومحمد ، وروى أسد بن عمر عنه إذا صار ظل كل شيء مثله سواء خرج وقت الظهر ولم يدخل وقت العصر ، وعلى هذه الرواية بين الظهر والعصر وقت مهمل لا على رواية الحسن فافهم .
تحفة الفقهاء (1/ 100) الناشر: دار الكتب العلمية، بيروت:
روى محمدعنه إذا صار ظل كل شيء مثليه سوى فيء الزوال يخرج وقت الظهر ويدخل وقت العصر وبه أخذ أبو حنيفة وروى الحسن بن زيادعنه أنه قال إذا صار ظل كل شيء مثله سوى في الزوال يخرج وقت الظهر ويدخل وقت العصر وبه أخذ أبو يوسف ومحمد وزفر والشافعي وروى أسد بن عمروعنه أنه قال إذا صار ظل كل شيء مثله سوى فيء الزوال يخرج وقت الظهر ولا يدخل وقت العصر حتى يصير ظل كل شيء مثليه فيكون بين وقت الظهر والعصر وقت مهمل كما بين الظهر والفجر.
الحجة على أهل المدينة (1/ 8) الناشر: عالم الكتب - بيروت:
عبَادَة بن الصَّامِت وَشَدَّاد بن اوس يصليان الْعشَاء اذا غَابَتْ الْحمرَة ويريان انها الشَّفق وكان ابو حنيفة يقول لا يفوت المغرب حتى يغيب الشفق ( الابيض ) ولكنه كان يكره تأخيرها اذا غاب الشفق ( الاحمر ) ويقول وقتها حتى يغيب الشفق ( الابيض )
البحر الرائق (2/ 258) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:
وهو البياض ) أي الشفق هو البياض عند الإمام وهو مذهب أبي بكر الصديق وعمر ومعاذ وعائشة رضي الله عنهم وعندهما وهو رواية عنه هو الحمرة وهو قول ابن عباس وابن عمر وصرح في المجمع بأن عليها الفتوى ورده المحقق في فتح القدير بأنه لا يساعده رواية ولا دراية ، أما الأول فلأنه خلاف الرواية الظاهرة عنه ، وأما الثاني فلما في حديث ابن فضيل { وإن أخر وقتها حين يغيب الأفق } وغيبوبته بسقوط البياض الذي يعقب الحمرة وإلا كان باديا ويجيء ما تقدم يعني إذا تعارضت الأخبار لم ينقض الوقت بالشك ورجحه أيضا تلميذه قاسم في تصحيح القدوري وقال في آخره فثبت أن قول الإمام هو الأصح وبهذا ظهر أنه لا يفتى ويعمل إلا بقول الإمام الأعظم ولا يعدل عنه إلى قولهما أو قول أحدهما أو غيرهما إلا لضرورة من ضعف دليل أو تعامل.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
25/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سعید احمد حسن صاحب / مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


