03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
عدالتی یک طرفہ خلع کی شرعی حیثیت
88823طلاق کے احکامخلع اور اس کے احکام

سوال

مفتی صاحب! میرا نام...............ی ہے۔ اور میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں۔ میری بیوی نے ایک جگہ سے فتویٰ لیا کہ :عدالتی یک طرفہ خلع حرام ہوتی ہے یا نہیں؟جو کہ اسے کہا گیا کہ یہ حرام ہے۔ اس کے بعد بھی اس نے کیس کر دیا ہے۔ مجھے عدالت کی طرف سے کوئی نوٹس نہیں ملا ہے، لیکن مجھے کیس کا علم تھا کہ اس نے کیس کر دیا ہے۔ میں عدالت میں حاضر نہیں ہوا ہوں۔ بیوی نے جو الزامات کیس میں لگائے ہیں، وہ سب بھی جھوٹ ہیں۔ بیوی کا لیا گیا فتویٰ، خلع کا کیس ،اور جج کا فیصلہ لف ہے۔ میں نے مہر بھی ادا کر دیا تھا،۔میرے پاس ثبوت بھی ہے،لیکن اس نے جھوٹ بولا کہ: میں حق مہر معاف کرتی ہوں، اگر خلع مل جائے۔۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 سوال میں ذکر کردہ بیان اگر واقعتادرست ہو، تو   شرعایہ خلع  معتبر نہیں ہے،نکاح سابقہ برقرار ہے۔کیونکہ خلع فریقین کی رضا مندی سے ہوتی ہے،صرف ایک فریق  کے مطالبہ پر خلع شرعا واقع نہیں ہوتی ۔

البتہ فسخ نکاح کی شرائط میں سے اگر کوئی شرط پائی جائے ،اور عورت  قاضی کے سامنے گواہوں کے ذریعے اس کو ثابت کرے ،تو قاضی کو   فسخِ نکاح کا اختیار  حاصل ہوتا ہے۔پھر قاضی اگر فسخ نکاح کا فیصلہ کرلے ،تو اس سے ایک طلاق بائن واقع ہو جاتی ہے۔لہذا عورت اگر  پہلے شوہر  کے پاس  فسخ نکاح کے بعد رہنا پسند کرتی ہو،تو نکاح جدید کے بعد رہ سکتی ہے۔

فسخ نکاح کی چھ شرائط ہیں  جو احسن الفتای جلد نمبر ۵صفحہ نمبر۳۸۴  میں ذکر ہیں:

(۱)عنین: جبکہ شوہر نکاح سے پہلےہی مکمل نامرد ہو،جماع پر ایک بار بھی قدرت نہ ہوئی ہو،اور بیوی کو بوقت نکاح اس کا علم نہ ہو،اور علم ہونے کے بعد اس کے ساتھ رہنےپر رضا کا کبھی اظہار نہ کیا ہو۔

(۲)متعنت:وہ شخص  جو بیوی  کو نہ نفقہ  دیتا ہو،اورنہ ہی طلاق پر راضی ہو،حاکم کے  کہنے پر بھی دونوں صورتوں میں سے کوئی قبول نہ کرے۔

(۳)غائب:وہ شخص جو نہ نفقہ دیتا ہو نہ طلاق ،اور نہ ہی  عدالت میں جواب دہی کے لیے حاضر ہو۔

(۴)معسر:جو تنگدستی کی وجہ سے نفقہ پر  قادر نہ ہو اور طلاق بھی نہ دے۔

(۵)مفقود :ایسا لاپتہ کہ انتہائی تلاش اور تمام ترذرائع جستجو استعمال کرنے کے باوجود بھی اس کا کوئی سراغ نہ لگ سکا ہو۔

(۶)مجنون : جبکہ وہ نفقہ پر قادر نہ ہو، یا اس سے قتل کا خوف ہو،یا اس کے ساتھ رہنا نا قابل برداشت ہو۔

ان  مذکورہ صورتوں میں قاضی کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل ہوتا ہے۔

حوالہ جات

 [البقرة: 229]

"ولا يحل لكم أن تأخذوا مما آتيتموهن شيئا إلا أن يخافا ألا يقيما حدود الله ؕ فإن خفتم ألا يقيما حدود الله فلا جناح عليهما فيما افتدت به تلك حدود الله فلا تعتدوها ومن يتعد حدود الله فأولئك هم الظالمون "

صحيح البخاري (5/ 2021):

حدثنا أزهر بن جميل: حدثنا عبد الوهاب الثقفي: حدثنا خالد، عن عكرمة، عن ابن عباس:أن امرأة ثابت بن قيس أتت النبي صلى الله عليه وسلم فقالت: يا رسول الله، ثابت بن قيس، ما أعتب عليه في خلق ولا دين، ولكني أكره الكفر في الإسلام، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (أتردين عليه حديقته). قالت: نعم، قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: (اقبل الحديقة وطلقها تطليقة).

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145):

وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول.

المبسوط للسرخسي (6/ 173):

والخلع جائز عند السلطان وغيره؛ لأنه عقد يعتمد التراضي كسائر العقود، وهو بمنزلة الطلاق بعوض، وللزوج ولاية إيقاع الطلاق، ولها ولاية التزام العوض.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (2/ 271):

لا ولاية لأحدهما في إلزام صاحبه بدون رضاه والطلاق بائن؛ لأنها ما التزمت المال إلا لتسلم لها نفسها وذلك بالبينونة.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 498):

قوله: وإلا بانت بالتفريق) لأنها فرقة قبل الدخول حقيقة، فكانت بائنة ولها كمال المهر وعليها العدة لوجود الخلوة الصحيحة بحر (قوله: من القاضي إن أبى طلاقها) أي إن أبى الزوج لأنه وجب عليه التسريح بالإحسان حين عجز عن الإمساك بالمعروف، فإذا امتنع كان ظالما فناب عنه وأضيف فعله إليه.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (1/ 524):

إن اختارت الفرقة أمر القاضي أن يطلقها طلقة بائنة فإن أبى فرق بينهما هكذا ذكر محمد - رحمه الله تعالى - في الأصل كذا في التبيين والفرقة تطليقة بائنة كذا في الكافي ولها المهر كاملا وعليها العدة بالإجماع إن كان الزوج قد خلا بها.

ابن امین صاحب دین

دارالافتاء جامعۃ  الرشید کراچی

28/ربیع الثانی 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ابن امین بن صاحب دین

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب