| 88807 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
ایک بیوه عورت کے پاس گزشتہ پندرہ سال سے تین تولہ سونے کا زیور ہے، جو کہ اس کو شادی میں ملا تھا، اس عورت کا کوئی کمانے والا نہیں ہے، ایک چھوٹا بچہ ہے جو پڑھتا ہے اور ایک بیٹی تھی اس کی شادی ہو چکی ہے، اس نے پندرہ سال سے اب تک اس زیور کی زکوة ادا نہیں کی، سوال یہ ہے کہ کیا اس پر اس زیور کی زکوة کرنا لازم ہے یا نہیں؟ اگر ہے تو کس طرح زکوة ادا کرے گی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں اگرمذکورہ عورت کے پاس زیور کے ساتھ کچھ نقدی یا چاندی یا مالِ تجارت بھی موجود رہا ہے، جیسا کہ عام طور پر عید وغیرہ کے موقع پر ہر عورت کے پاس کچھ نہ کچھ پیسے ضرور ہوتے ہیں، تو اس صورت میں اس خاتون پر ہرسال اس زیور کی زکوة ادا کرنا فرض تھا، لیکن چونکہ اس نے گزشتہ سالوں کی زکوة ادا نہیں کی اس لیے اولا تو اس تاخیر پر اللہ تعالیٰ سےتوبہ استغفار کرنا ضروری ہے اور ثانیااب اس کے ذمہ لازم ہے کہ وہ ہرسال کا حساب لگا کرزکوة ادا کرے، حساب لگانے میں راجح اور محتاط قول یہ ہے کہ جس دن زکوة ادا کرنا ہو اسی دن کی بازاری قیمت (Market value) لگا کرزکوة ادا کی جائے، لیکن بعض فقہائے کرام رحمہم اللہ نے اس بات کی بھی گنجائش دی ہے کہ يوم الوجوب كی قیمت کا اعتبار کرتے ہوئے ہر سال کا علیحدہ علیحدہ حساب کر کے زکوةادا کر دی جائے (کذا فی احسن الفتاوی:278/4) اورہرسال کی زکوۃ نکالتے وقت پہلے سال کی زکوۃ کی مقدار (ڈھائی فیصد) کو بقیہ مال سے منہا کرکے حساب لگائے، پھر اس سے اگلے سال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ دوسالوں کی زکوۃ کی مقدار کو منہا کرکے بقیہ کل مال کا ڈھائی فیصد نکالے، اسی طرح ہرسال کا حساب کرتے ہوئے گزشتہ سالوں کی زکوۃ کی مقدار منہا کرکے زکوۃ دے۔ اگر مکمل زکوة یک مشت ادا کرنا ممکن نہ ہو تو حساب کر کے رکھ لیا جائے اور تھوڑی تھوڑی رقم بطورِ زکوة ادا کر دی جائے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 22) الناشر: دار الكتب العلمية:
وعند أبي يوسف ومحمد إن أدى من عينها يؤدي خمسة أقفزة في الزيادة والنقصان جميعا، كما قال أبو حنيفة: وإن أدى من القيمة يؤدي في النقصان درهمين ونصفا وفي الزيادة عشرة دراهم؛ لأن الواجب الأصلي عندهما هو ربع عشر العين وإنما له ولاية النقل إلى القيمة يوم الأداء فيعتبر قيمتها يوم الأداء، والصحيح أن هذا مذهب جميع أصحابنا؛ لأن المذهب عندهم أنه إذا هلك النصاب بعد الحول تسقط الزكاة سواء كان من السوائم أو من أموال التجارة.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (2/ 286) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(وجاز دفع القيمة في زكاة وعشر وخراج وفطرة ونذر وكفارة غير الإعتاق) وتعتبر القيمة يوم الوجوب، وقالا يوم الأداء. وفي السوائم يوم الأداء إجماعا، وهو الأصح.
الفتاوى الهندية (1/ 179) الناشر: دار الفكر:
" إذا كان له مائتا قفيز حنطة للتجارة تساوي مائتي درهم فتم الحول ثم زاد السعر أو انتقص فإن أدى من عينها أدى خمسة أقفزة، وإن أدى القيمة تعتبر قيمتها يوم الوجوب؛ لأن الواجب أحدهما ولهذا يجبر المصدق على قبوله وعندهما يوم الأداء. وكذا كل مكيل أو موزون أو معدود".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


