| 88783 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
غلط بیانی سےعدالتی خلع لے کر لڑکی کے والدین نے اس کا دوسری جگہ کسی شیعہ لڑکے سے نکاح کر دیا، جو کہ اثنا عشری شیعہ ہے اور اپنے مکتبِ فکر کا مبلغ ہے اور شیعوں کے تمام رسوم ورواج بھی کرتا ہے، اب پانچ سال کا عرصہ گزر چکا ہے، اب لڑکی کو فکر لاحق ہوئی ہے، پہلے اس کو ان مسائل کا علم نہیں تھا، اب وہ بہت پریشان ہے،
سوال یہ ہے کہ اس دوسرے نکاح کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورتِ مسئولہ میں چونکہ شریعت کی رُو سے پہلا نکاح ختم نہیں ہوا تھا اس لیے لڑکی کے والدین کا دوسری جگہ نکاح کرنا ہرگز جائز نہیں تھا، کیونکہ کسی شخص کی منکوحہ عورت سے نکاح کرنا شرعا باطل اور کالعدم شمار ہوتا ہے، اس لیے اثنا عشری شیعہ (یاد رہے کہ جوشخصتحریف قرآن، حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا پر تہمت لگانااور حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ اورحضرت عمر فاروق رضی اللہ عنہ کی تکفیر کامرتکب ہووہ دائرہ اسلام سے خارج ہے، کذا فی احسن الفتاوی:۸/۴۰۳) سے تعلق رکھنے والے شخص سے کیا گیا نکاح شرعاً منعقد نہ ہونے کی وجہ سے لڑکی پر لازم ہے کہ فوری طور پر اس لڑکے سے علیحدگی اختیار کرے، نیز جتنا لڑکی نے عرصہ اس لڑکے كے ساتھ گزارا ہے اس پر اللہ تعالیٰ سے توبہ واستغفار کرنا بھی لازم ہے۔اورلڑکی علیحدگی کے بعد عدت (یہ عدت وطی بالشبہ کی وجہ سے واجب ہو گی) گزار کر اپنے شوہر(جس سے پہلا نکاح ہوا تھا)کے پاس جا سکتی ہے۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 268) دار الكتب العلمية:
ومنها أن لا تكون منكوحة الغير، لقوله تعالى: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] معطوفا على قوله عز وجل: {حرمت عليكم أمهاتكم} [النساء: 23] إلى قوله: {والمحصنات من النساء} [النساء: 24] وهن ذوات الأزواج، وسواء كان زوجها مسلما أو كافرا.
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 46) دار الفكر-بيروت:
وبهذا ظهر أن الرافضي إن كان ممن يعتقد الألوهية في علي، أو أن جبريل غلط في الوحي، أو كان ينكر صحبة الصديق، أو يقذف السيدة الصديقة فهو كافر لمخالفته القواطع المعلومة من الدين بالضرورة.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
27/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


