| 88776 | طلاق کے احکام | عدت کا بیان |
سوال
ایک لڑکا ہے، اس کا نکاح ہو گیا تھا، لیکن ابھی تک رخصتی نہیں ہوئی تھی۔ لڑکی والوں کی طرف سے بار بار ٹال مٹول کی جاتی رہی، یہاں تک کہ لڑکے والوں کو طلاق دینے پر مجبور کر دیا گیا۔اب سوال یہ ہے کہ :
1۔ کیا رخصتی سے پہلے بھی عدت واجب ہوتی ہے؟
2۔ لڑکی والے اب کہہ رہے ہیں کہ لڑکا ڈیڑھ لاکھ روپے دے (یعنی عدت کے تین مہینوں کے لیے 50,000 روپے فی مہینہ دے)۔
3۔نکاح 2 جنوری کو ہوا تھا اور طلاق ستمبر میں ہوئی ۔ اب لڑکی والے جنوری سے ستمبر تک50,000 روپے ماہانہ کے حساب سے کل 4 لاکھ 50 ہزار روپے خرچہ کی مد میں ادا کرنے کامطالبہ کر رہے ہیں۔کیا ان کا یہ مطالبہ کرنا درست ہے؟
4۔ اگر نکاح نامے میں نان و نفقہ (خرچہ وغیرہ) کی کوئی رقم یا شرط نہ لکھی گئی ہو، تو اس کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
4،3،2،1۔ صورتِ مسئولہ میں طلاق دینے سے پہلے اگر میاں بیوی کے درمیان خلوتِ صحیحہ (خلوتِ صحیحہ کا مطلب یہ ہے کہ فریقین کسی ایسی جگہ اکٹھے ہوئے ہوں کہ بغیر کسی مانع شرعی یا طبعی کے شوہر حقوقِ زوجیت ادا کرنے پر قادر ہو) نہیں ہوئی تو رخصتی سے قبل طلاق دینے کی صورت میں عورت پر عدت واجب نہیں۔
مذکورہ صورت میں جب عورت پر عدت ہی واجب نہیں ہے تو طلاق کے بعد تین ماہ یعنی عدت کے خرچے کا مطالبہ کرنا بے معنی ہے، لہذا لڑکی والوں کا ڈیڑھ لاکھ روپے کا مطالبہ کرنا شرعا ناجائز اور سراسر ظلم ہے، اس لیے لڑکے والوں کے ذمہ اس کی ادائیگی لازم نہیں۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 504) الناشر: دار الفكر-بيروت:
(وسبب وجوبها) عقد (النكاح المتأكد بالتسليم وما جرى مجراه) من موت، أو خلوة أي صحيحة، فلا عدة بخلوة الرتقاء. وشرطها الفرقة. وركنها حرمات ثابتة بها كحرمة تزوج وخروج (وصحة الطلاق فيها) أي في العدة.
المبسوط للسرخسي (4/ 203) الناشر: دار المعرفة – بيروت:
حق النكاح بعد ارتفاعه إنما يبقى إذا كان النكاح متأكدا وتأكده بالموت أو بالدخول، ولهذا لا تجب العدة على المطلقة قبل الدخول.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب |


