| 88777 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
1۔نکاح میں ایک لاکھ روپے مہر مقرر تھا، جس میں سے نصف (50) ہزار روپے) مؤجل اور نصف (50 ہزار روپے) غیر مؤجل تھا، جو لڑکا نکاح والے دن ادا کر چکا ہے۔
2۔ چونکہ رخصتی نہیں ہوئی تھی صرف نکاح ہوا تھاتو کیا اس صورت میں باقی نصف مہر (مؤجل حصہ) ادا کرنا لازم ہوگا یا نہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
2،1۔ خلوتِ صحیحہ (جس کی وضاحت سوال نمبر1کے جواب میں گزر چکی ہے) اور رخصتی سے قبل طلاق دینے کی صورت میں شوہر کے ذمہ شرعاً نصف حق مہر واجب ہوتا ہے اور صورتِ مسئولہ میں چونکہ لڑکا نکاح کے دن پچاس ہزار روپے نصف حق مہر (جو کہ غیرمؤجل تھا) ادا کر چکا ہے، اس لیے اب لڑکے کے ذمہ بقیہ نصف حق مہر (جو کہ مؤجل تھا) کی ادائیگی لازم نہیں ہے۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 199) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" ومن سمى مهرا عشرة فما زاد فعليه المسمى إن دخل بها أو مات عنها " لأنه بالدخول يتحقق تسليم المبدل وبه يتأكد البدل وبالموت ينتهي النكاح نهايته والشيء بانتهائه يتقرر ويتأكد فيتقرر بجميع مواجبه " وإن طلقها قبل الدخول بها والخلوة فلها نصف المسمى " لقوله تعالى: {وَإِنْ طَلَّقْتُمُوهُنَّ مِنْ قَبْلِ أَنْ تَمَسُّوهُنَّ} [البقرة: 237] الآية.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
28/ ربیع الثانی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب |


