| 88781 | طلاق کے احکام | الفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان |
سوال
اگر کوئی شوہر اپنی اہلیہ کو یہ الفاظ کہہ دے کہ "میری طرف سے تمھیں طلاق ہے تم اپنے گھر چلی جاؤ" اور پھر اس کے والد کو بھی فون پر کہے کہ میں نے آپ کی بیٹی کو طلاق دی ہے، آپ اسے گھر لے جائیں اور پھر کچھ دن یا کبھی کچھ گھنٹے بعد ہی اس سے رجوع کر لیتے ہیں اور کہتے ہیں میرا یہ مطلب نہیں تھا، ان حالات میں نیت نہیں تھی یا غصے میں دے دی کیا اس سے ایک طلاق ہوگی ؟اور اگر یہی عمل تین یا اس سے زیادہ دفعہ کیا ہو تو کیا پوری تین طلاقیں ہو جائیں گی ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جب کوئی شخص اپنے ہوش وحواس میں اپنی بیوی کو صریح طلاق کے الفاظ کہہ دے تو فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریح کے مطابق اس میں متکلم کی نیت کا اعتبار نہیں ہوتا، بلکہ بغیر نیت کے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، نیز طلاق دینے کے بعد شرعاً یہ طلاق واپس نہیں لی جا سکتی، البتہ طلاق کے صریح الفاظ ایک یا دو مرتبہ استعمال کرنے کے بعد بیوی کو دوبارہ اپنے نکاح میں واپس لوٹا لینے سے طلاق کا اثر ختم کیا جا سکتا ہے، یعنی قولا یا فعلاً رجوع (جیسے ازدواجی تعلقات قائم کرنا یا شہوت کے ساتھ چھو لینا وغیرہ) کرنے سے نکاح برقرار رہے گا، اگرچہ دی گئی طلاقیں واقع ہو جائیں گی۔لیکن اگر یہ الفاظ تین مرتبہ کہے ہوں یا کنائی الفاظ سے طلاق دی ہو تو ایسی صورت میں نکاح فورا ختم ہو جاتا ہے، جس کے بعد رجوع کی کوئی گنجائش باقی نہیں رہتی۔
لہذا صورتِ مسئولہ میں شخصِ مذکور کے اپنی بیوی کو سوال میں ذکر کیے گئے الفاظ "میری طرف سے تمھیں طلاق ہے تم اپنے گھر چلی جاؤ" کہنے سے اس کی بیوی پر ایک طلاق رجعی واقع ہو چکی ہے، اگر اس نے یہ الفاظ تین یا تین سے زیادہ مرتبہ کہے ہیں تو اس کی بیوی پر تین طلاقیں واقع ہو کر حرمتِ مغلظہ ثابت ہو چکی ہے، ایسی صورت میں رجوع یا بغیر حلالہ کے دوبارہ نکاح بھی نہیں ہو سکتا۔
نوٹ: واضح رہے کہ طلاقِ رجعی کے بعد یہ الفاظ کہنا کہ: " تم اپنے گھر چلی جاؤ" اگرچہ کنایاتِ طلاق کے الفاظ ہیں، مگر یہ الفاظ ہمارے معاشرے میں عام طور پر طلاق دینے کے بعد تتمہٴ کلام اور اس کے نتیجہ کے طور پر بولے جاتے ہیں، اس سے دوسری طلاق دینا یا پہلی کلام میں شدت پیدا کرنا مقصود نہیں ہوتا ، اس لیے ان الفاظ سے کوئی طلاق واقع نہیں ہو گی، اسی طرح طلاق دینے کے بعد شوہر کا بیوی کے والد کو فون کر کے یہ کہنا"میں نے آپ کی بیٹی کو طلاق دی ہے، آپ اسے گھر لے جائیں" سے بھی اگرپہلی طلاق کی خبر دینا مقصود ہوتو ان الفاظ سے بھی مزید کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (3/ 397):
(هي استدامة الملك القائم) بلا عوض ما دامت (في العدة) ... (بنحو) متعلق باستدامة (رجعتك) ورددتك ومسكتك بلا نية لأنه صريح (و) بالفعل مع الكراهة (بكل ما يوجب حرمة المصاهرة) كمس.
(قوله: بنحو راجعتك) الأولى أن يقول بالقول نحو راجعتك ليعطف عليه قوله الآتي وبالفعل ط، وهذا بيان لركنها وهو قول، أو فعل... (قوله: مع الكراهة) الظاهر أنها تنزيه كما يشير إليه كلام البحر في شرح قوله والطلاق الرجعي لا يحرم الوطء رملي، ويؤيده قوله في الفتح - عند الكلام على قول الشافعي بحرمة الوطء -: إنه عندنا يحل لقيام ملك النكاح من كل وجه، وإنما يزول عند انقضاء العدة فيكون الحل قائماً قبل انقضائها. اهـ. ... (قوله: كمس) أي بشهوة، كما في المنح".
الفتاوى الهندية (الباب السادس في الرجعة، ١/ ٤٧٠، ط: رشيدية):
وإذا طلق الرجل إمرأته تطليقةً رجعيةً او تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض، كذا في الهداية".
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
/28ربیع الثانی1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


