| 88815 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
کلیم اللہ ولدغلام حیدر مرحوم،ساکن شہبازخیل،ضلع خیل لکی مروت نے اپنی ذاتی رہائشی مکان واقع آبادی،رقبہ چھ مرلہ بعوض 20لاکھ روپے بختاور علی ولد مٹھوخان پرفروخت کیا اورقبضہ بھی دیدیا،لیکن جب کلیم اللہ فوت ہواتواس کے ورثہ میں بیوی فیروزہ اورایک بھائی سیف اللہ زندہ تھے،ابھی سیف اللہ نےمرحوم بھائی کےفروخت شدہ مکان پرتالالگادیا اورکہاکہ یہ مکان توہمیں ورثہ میں ملاہے،جس کے بعد جرگہ قیام عمل میں لایاگیا،جرگہ کے ثالث نے مکان واپس کرکے کلیم اللہ مرحوم کے ورثہ کو20 لاکھ روپے واپس کرنے کاذمہ دارٹھہرایا،جوکہ ابھی تک بقایاہیں اورادانہیں کیے ہیں۔
معلوم یہ کرناہے شریعت کی روشنی میں بتائیں اس مکان میں مرحوم کی بیوہ فیروزہ اوربھائی سیف اللہ کاکتناحصہ بنتاہے؟دوسرایہ کہ 20 لاکھ روپے کس کے ذمہ ہے؟یعنی یہ قرض 20 لاکھ روپے کون اداکرے گا؟
تنقیح:سائل نے بتایاہے کہ کلیم اللہ بیمارہواتھا،بختاورنے بطورقرض کے اس کو20 لاکھ روپے دئیے علاج ومعالجہ کے لئے،بعد میں کلیم اللہ نے کہاکہ میرے پاس رقم نہیں ہے،میرایہ مکان اس قرض کے بدلہ میں لے لو اورکلیم اللہ نے اپنامکان پربختاورکوقبضہ بھی دیدیا،اس کے دوتین سال بعد کلیم اللہ کاانتقال ہوگیا،اب کلیم اللہ کابھائی کہتاہے کہ یہ میرےبھائی کامکان ہے اس کومیراث میں تقسیم کیاجائے،جرگہ بٹھایاگیا،جرگہ نے فیصلہ کیا سیف اللہ،بختاورکے20 لاکھ روپے دیدے اورمکان لےلے،اس فیصلہ کودونوں نے تسلیم کیا،اب سوال یہ ہے کہ اس مکان پربیوہ اورسیف اللہ دونوں کاحق ہے یاصرف سیف اللہ کا؟اوریہ20 لاکھ روپے کس کے ذمہ ہیں؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جومال کسی کے انتقال کے وقت اس کی ملکیت میں ہو،وہ مال ترکہ میں شمارہوکرورثہ میں شرعی حصوں کے مطابق تقسیم ہوتاہے اورجومال اورجائیدادانتقال سےپہلے ملکیت سے نکل چکی ہے وہ ترکہ میں شامل نہیں ہوتی،اوراس پروراثت کادعوی نہیں ہوسکتا،صورت مسؤلہ میں جب کلیم اللہ نے زندگی میں اپنے قرض کے بدلہ میں اپناذاتی مکان بختاورکوقبضہ سمیت دیدیاتھاتواب یہ مکان بختاورکاہے،سیف اللہ کااس مکان پروراثت کادعوی درست نہیں،اب اگرجرگہ کے فیصلہ کے مطابق سیف اللہ اس مکان کولیتاہے اوربختاوراس پرراضی ہے تویہ ایک خریدوفروخت کامعاملہ شمارہوگا اورسیف اللہ پرہی 20 لاکھ روپے لازم ہوں گے اوراگرسیف اللہ اوربیوہ (فیروزہ) دونوں مل کرلیناچاہتے ہیں تودونوں پرشراکت داری کے تناسب سے اتنی رقم لازم ہوں گی۔
حوالہ جات
۔۔۔
محمد اویس
دارالافتاء جامعة الرشید کراچی
۲/جمادی الاولی۱۴۴۷ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد اویس صاحب | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


