| 88839 | طلاق کے احکام | خلع اور اس کے احکام |
سوال
ہمارا صرف نکاح ہوا ہے اور ابھی رخصتی نہیں ہوئی۔ میری منکوحہ ایک مغربی طرزِِ زندگی رکھتی تھی، مثلاً بے پردگی وغیرہ کرنا اور غیر محرم سے احتیاط نہ کرنا۔ میں اپنی منکوحہ کو بار بار ان اعمال سے روکتا تھا اور میسج پر ہماری اس موضوع پر اکثر لڑائی ہو تی تھی مگر اس نے اپنی اصلاح نہ کی۔ ایک دن اسی موضوع پر بحث شدت اختیار کر گئی اور میں نے شدید غصے اور مایوسی میں کچھ نامناسب الفاظ بول دئے، مثلا " تمہاری ان مسلسل غیر شرعی حرکات کرنے اور ان پر بضد رہنے سے مجھے شک پڑتا ہے کہ تم کل کسی غیر مرد کے ساتھ مجھے دھوکہ دے سکتی ہو یا دے رہی ہو" اور "میں تمہاری ایک غلطی پر تمہیں قبر تک معاف نہیں کروں گا"۔ اس واقعہ کے بعد بیوی کا کہنا ہے کہ وہ شوہر کے ان سخت الفاظ اور مسلسل بے پردگی سے روک ٹوک پر بہت متنفّر ہو چکی ہے لہٰذا اس نے عدالت سے یک طرفہ خلع حاصل کرلی۔ جبکہ شوہر غصے میں ادا کئے گئے الفاظ پر بارہا معذرت کر چکا ہے اور صلح اور رُخصتی چاہتا ہے اور ہر گز طلاق یا خلع پر راضی نہیں۔ ہم نے لڑکی والوں کو فتاوٰی جات بھیج کر بتایا کے ایسے یک طرفہ عدالت سے خلع نہیں ہوتی، مگر لڑکی والوں کا کہنا ہے کہ ہمارا نکاح منسوخ ہو چکا ہے۔ اس کے علاوہ لڑکی والے ایک غیرِ مفتی یوٹیوبر عالم (انجینیئر محمد علی مرزا) کی ویڈیو کا حوالہ دیتے ہیں جو کہتا ہے کہ ’’عورت بھی شوہر کی طرح بغیر عُذر کے یک طرفہ خلع لے سکتی ہے، گویا عورت بھی جب چاہے شوہر سے بِلا عذر علیحدگی اختیار کر سکتی ہے اور اس میں شوہر کی رضا مندی یا کسی عذر کی ضرورت نہیں‘‘۔ اس کے علاوہ انہوں نے ایک نامعلوم مُفسِر کی تفسیر کا حوالہ بھیجا ہے جو سورۃ البقرۃ آیت ۲۲۸ اور ۲۲۹ کی تفسیر کچھ یوں کرتے ہیں "عورت جب چاہے حق مہر واپس کر کے علیحدگی اختیار کر لے، اور اگر شوہر آمادہ نہ ہو تو قاضی فسخِ نکاح کردے" جبکہ اس میں شرعی عذر اور شوہر کی رضا مندی کا ذکر نہیں کیا گیا۔ کیا دئے گئے حوالہ جات قران و حدیث کی روشنی میں درست ہیں جبکہ جمہور عُلماء انکا رَد کر چکے ہیں؟ کیا بیان کردہ صورتِ حال میں ہمارا نکاح ختم ہو چکا؟ اگر شوہر عدالتی خلع کو تسلیم نہیں کرتا تو کیا بیوی اس صورت میں رخصتی سے پہلے فسخِ نکاح کروا سکتی ہے جبکہ نکاح کہ بعد متعدِد بار خلوتِ صحیحہ بھی ہو چکی ہے؟ اور شوہر کی طرف سے کوئی ظلم یا شرعی عُذر بھی موجود نہیں اور وہ نیک نیتی سے گھر بسانا چاہتا ہے۔ براہ کرم فتویٰ ارشاد فرمادیں۔ جزاکم اللہُ خیراً
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
بطور تمہید واضح رہے کہ خلع دیگر مالی معاملات کی طرح ایک مالی معاملہ ہے، جس طرح دیگر مالی معاملات معتبر ہونے کے لیے جانبین ( عاقدین ) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے ، اسی طرح خلع معتبر ہونے کے لئے بھی زوجین ( میاں بیوی) کی رضامندی ضروری ہوتی ہے۔ لہٰذا خلع کے لئے شوہر کی رضامندی اور اجازت ضروری ہے ، شوہر کی رضامندی کے بغیر عدالت کی طرف سے جاری کیا گیا یک طرفہ فیصلہ شرعاً نافذ نہیں ہوتا اور بیوی بدستور سابقہ شوہر کے نکاح میں رہتی ہے، جبکہ شوہر کی رضامندی کے بغیر فسح نکاح کا اختیار جج کو صرف غیر معمولی حرج کی صورتوں میں حاصل ہوتا ہے۔جیسے :
ا۔ شوہر نامرد ہو۔
2۔متعنت ہو ، یعنی نان نفقہ نہ دیتا ہو اور نہ ہی طلاق دیتا ہو۔
3۔مفقود یعنی ایسا لاپتہ ہو کہ اس کے حال احوال معلوم نہ ہوں۔
4۔غائب ہو یعنی پتہ تو معلوم ہو، لیکن نہ خود بیوی کے پاس آتا ہو اور نہ بیوی کو اپنے پاس بلاتا ہو اور نہ اسے نان نفقہ فراہم کرتا ہو۔
5۔ ایسا پاگل ہو یا ایسا تشدد کرتا ہو کہ اس کے ساتھ رہنے میں نا قابل برداشت تکلیف پہنچنے کا اندیشہ ہو۔
مذکورہ بالا اعذار کے علاوہ محض عورت کی نفرت کی بناء پر جج کو فسخ نکاح کا اختیار حاصل نہیں ہوتا، نیز فسخ نکاح کی ان وجوہات میں سے ہر ایک وجہ کی الگ الگ تفصیلی شرائط ہیں، نکاح فسخ کرتے وقت ان کی رعایت رکھنا لازم ہے، اگر ان میں سے کسی شرط کی رعایت نہ رکھی جائے تو فسخ نکاح کا فیصلہ شرعانافذ نہیں ہوتا۔ ( فقہی مقالات : 192/2)
مثلاً، ایک شرط یہ ہے کہ عورت مذکورہ بالا وجوہ میں سے جس وجہ کی بنیاد پر بھی فسخ نکاح کا دعوی دائر کرے ،اسے اپنے دعوی کو شرعی شہادت (کم از کم دو نیک و صالح مردوں یا انہی صفات کی حامل دو عورتوں اور ایک مرد کی گواہی) سے ثابت کرنا پڑے گا، شرعی شہادت کے بغیر محض عورت کے دعوی کی بنیاد پر عدالت کو فسح نکاح کا حق حاصل نہیں ہوتا۔
صورت مذکوہ میں سائل کی طرف سے عائد دینی پابندیوں کی وجہ سے اس کی منکوحہ ساتھ رہنے پر آمادہ نہیں ، جو کہ نہ صرف کوئی ناقابل اعتبار عذر ہے بلکہ ایک غیر شرعی مطالبہ ہے۔لہذا اس بنیادپر جاری شدہ خلع کی ڈگری شرعاً معتبر نہیں اور جب تک اس خاتون کا شوہر اسے طلاق نہ دے یا بیوی شوہر کی رضامندی سے خلع نہ لے اس وقت تک نکاح باقی رہے گا۔ (مأخوذ از تبویب جامعۃ الرشید: 87257)
جہاں تک مذکورہ آیات مبارکہ کا تعلق ہے تو اٰیت نمبر 228 میں تو خلع سے متعلق احکام نہیں ہیں البتہ اٰیت نمبر 229 میں خلع کا حکم موجود ہےجس کی تفصیل معارف القران(مفتی شفیع عثمانی صاحب) کے صفحہ 553 جلد 1سےدرج ذیل ہے:
اور تمہار ے لئے یہ حلال نہیں کہ (بیویوں کو چھوڑنے کے وقت ان سے ) کچھ بھی لو(اگرچہ وہ لیا ہو)اسی (مال) میں سے (کیوں نہ ہو) جو تم نے (ہی مہرمیں) ان کو دیا تھا مگر( ایک صورت البتہ حلال ہےوہ )یہ کہ (کوئی) میاں بیوی( ایسے ہوں کہ) دونوں کو خطرہ ہو کہ ( دوباره حقوق زوجیت) وہ اللہ تعالیٰ کے قائم کردہ ضابطوں کو قائم نہ رکھ سکیں گے سو اگر تم کو (یعنی میاں بیوی کو) یہ خطرہ ہو کہ وہ دونوں ضوابط خداوندی کو قائم نہ رکھ سکیں گے تو دونوں پر کوئی گناہ نہ ہوگا، اس (مال کے لینے دینے) میں جس کو دے کر عورت اپنی جان چھڑائے، بشرطیکہ مہر سے زیادہ نہ ہو ...۔
اس اٰیت سے واضح ہے کہ خلع باہمی رضا مندی کا معاملہ ہے یک طرفہ نہیں۔
حوالہ جات
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (3/ 145):
وأما ركنه فهو الإيجاب والقبول؛ لأنه عقد على الطلاق بعوض فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول بخلاف النوع الأول فإنه إذا قال: خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع الطلاق عليها، سواء قبلت أو لم تقبل؛ لأن ذلك طلاق بغير عوض فلا يفتقر إلى القبول.
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (3/ 441):
(قوله: وشرطه كالطلاق) وهو أهلية الزوج وكون المرأة محلا للطلاق منجزا، أو معلقا على الملك. وأما ركنه فهو كما في البدائع: إذا كان بعوض الإيجاب والقبول لأنه عقد على الطلاق بعوض، فلا تقع الفرقة، ولا يستحق العوض بدون القبول، بخلاف ما إذا قال خالعتك ولم يذكر العوض ونوى الطلاق فإنه يقع.
حماد الدین قریشی عفی عنہ
دارالافتاءجامعۃ الرشید، کراچی
3/جمادی الاولیٰ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حماد الدین قریشی بن فہیم الدین قریشی | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


