| 88835 | خرید و فروخت کے احکام | خرید و فروخت کے جدید اور متفرق مسائل |
سوال
بائنانس ایپ کے ذریعے ڈالر خریدنا اور منافع رکھ کر آگے بیچنے کا کیا حکم ہے؟نیز اس سے حاصل ہونے والی آمدن کا کیا حکم ہے؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
ہماری معلومات کے مطابق بائنانس ایکسچینج کے ذریعے فی الحال صرف کرپٹو/ورچوئل کرنسی ہی کا لین دین ہوتا ہے،رائج کرنسیاں (Legal tender) جیسے پاکستانی روپے یا امریکی ڈالر وغیرہ کا لین دین بائنانس ایکسچینج کے ذریعے فی الحال نہیں ہوتا،اس سے معلوم ہوتا ہے کہ سوال میں مذکور ڈالر سے مراد USDT ہے نہ کہ رائج امریکی ڈالر،اور USDT کا حکم وہی ہے جو دیگر کرپٹو کرنسیوں کے لین دین کا ہے۔
کرپٹو یاورچوئل کرنسی کے حوالے سے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی آفیشل ویب سائٹ (almuftionline.com) پر موجود فتاوی (فتوی نمبر 81020 بعنوان "بائنانس(Binance) اور کرپٹو ٹریڈنگ کا حکم"اورفتوی نمبر 84734 بعنوان "کرپٹو کی ٹریڈنگ کے ذریعے پیسے کمانے کا حکم) میں درج کی گئی تفصیلات کے مطابق فی الحال کرپٹو کے لین دین سے اجتناب لازم ہے،لہٰذا اب تک کی معلومات کی روشنی میں دارالافتاء جامعۃ الرشید کی رائے یہی ہے کہ اس سے اجتناب کیا جائے،کوئی اور غیر مشتبہ جائز کام بطور روزگار اختیار کیا جائے۔
نوٹ: جواب میں جن فتاوی کا تذکرہ کیا گیا ہے انہیں ایک مرتبہ لازمی ملاحظہ فرمالیں۔
حوالہ جات
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
02.جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


