03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ختم قادریہ کا پڑھناکیساہے؟
88892ایمان وعقائدایمان و عقائد کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم میرا سوال یہ ہے کہ میرے سسرال بریلوی   مسلک  سے تعلق رکھتے ہیں،وہ  ختمِ قادریہ پڑھتے ہیں ،میں نے کبھی نہیں پڑھا کیونکہ مجھے اس میں کچھ چیزیں صحیح نہیں لگتیں ،براہِ کرم مجھے اس کے بارے میں بتا ئیں  کہ یہ پڑھنا صحیح ہے کہ نہیں ،کیونکہ مجھے جانا پڑتا ہے میرے شوہر کہتے ہیں کہ صرف تم چلی جاؤ  ،رشتہ داری بھی تو ہے نا ،تم خالی بس چلی جایا کرو ،بھلے پڑھا   نہ کرو۔ اور میری ساس  کبھی کبھار کوئی چیز گر جائے تو یا غوث پاک کرتی رہتی ہے.. میری رہنمائی کر یں کہ مجھے کیا کرنا چاہیے میں کچھ کر نہیں سکتی،ان کو نہیں پتا کہ اس میں کیا ہے انہوں نے کبھی نہیں پڑھا اور میں نے ان کو بتایا کہ شروع میں تو قرانی آیت ہے لیکن بعد میں کچھ ایسے الفاظ ہیں جو مجھے شرکیہ لگتے ہیں ۔ لیکن میں کچھ کہہ نہیں سکتی ،کیوں کہ مجھے علم نہیں ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سائل نے جس ختم قادریہ کے متعلق سوال کیا ہے اس کے کل تین حصے ہیں ۔

۱۔پہلا حصہ درود شریف ،تیسرا کلمہ،سورۃالم نشرح،سورۃ الاخلاص اور         "یا باقی أنت الباقی"  پر مشتمل ہے ، اس   میں کوئی شرکیہ  الفاظ نہیں ہیں۔

۲  ۔دوسرا حصہ    "یا رسول اللہ أنظر حالنا  "سے لے کر "یا حبیب الاِلٰہ  "تک ہے  ، جس    میں  اللہ تعالی  کے سوا اپنی حاجات  رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم سے  مانگنا   ہے، اگرچہ اس کی تاویل کی جاسکتی ہےلیکن موہم شرک الفاظ سے بچنا بہتر ہے ،نیز جاہل لوگ اسے حقیقت سمجھتے ہیں اور یوں کھلے شرک میں مبتلا ہو جاتے ہیں۔

۳۔ ختم قادریہ کا تیسرا حصہ" یا صدیق یا عمر "سے لے کر "یاحضرت غوث أغثنا"تک ہے ،ان اشعار میں جن جن کا نام مذکو ر ہے  (صحابہ ،اولیاء )ان کو حاجت روا ماننا ،مشکل کشا سمجھنا  ،فریاد رسی  کرنے  والا یا  مختار کل سمجھنا ،یہ شرکیہ عقائد ہیں ، ان  جیسے عقائد سے براءت کرنا انتہائی ضروری ہے،کیونکہ ان  جیسی صفات کی حامل ایک اللہ تبارک وتعالی ٰ کی ذات ہے، اللہ  کے سوا کوئی بھی   نہ حاجت روا،اور نہ ہی مشکل کشا  ہے ،لہذا صورت مسؤلہ میں ختم قادریہ کا     دوسرا اور تیسرا حصہ   موہم شرک اور شرکیہ کلمات  پر مشتمل ہے لہذا ان الفاظ کے ساتھ اپنی حاجات اللہ کے سواکسی اور سے مانگنا  جائز نہیں ۔

یاد رہے کہ رسول اللہ  ﷺ،صحابہ کرام  یا اولیاء اللہ کو وسیلہ بنا کر اللہ تعالی سے اپنی حاجات مانگنا اس نیت سے  کہ جو رحمت اللہ تعالی  کی ان پر ہے وہ  ہم پر  بھی  ہو جاۓ،اس میں کوئی حرج نہیں ہے ،بلکہ اس میں زیادہ تواضع ہے کہ اپنے عمل کو اہم نہیں سمجھ رہا ۔

حوالہ جات

﴿وَإِنْ يَمْسَسْكَ اللَّهُ بِضُرٍّ فَلَا كَاشِفَ لَهُ إِلَّا هُوَ وَإِنْ يُرِدْكَ بِخَيْرٍ فَلَا رَادَّ لِفَضْلِهِ يُصِيبُ بِهِ مَنْ يَشَاءُ مِنْ عِبَادِهِ وَهُوَ الْغَفُورُ الرَّحِيمُ ﴾ )يونس: 107(

وقال اللہ  تعالی ٰقل لا أملک لنفسی نفعا ولا ضرا  اِلا ماشاء اللہ ۔

﴿قُلْ لَا أَمْلِكُ لِنَفْسِي ضَرًّا وَلَا نَفْعًا إِلَّا مَا شَاءَ اللَّهُ لِكُلِّ أُمَّةٍ أَجَلٌ إِذَا جَاءَ أَجَلُهُمْ فَلَا يَسْتَأْخِرُونَ سَاعَةً وَلَا يَسْتَقْدِمُونَ ﴾ )سورۃ یونس (49:

﴿قُلْ إِنِّي لَا أَمْلِكُ لَكُمْ ضَرًّا وَلَا رَشَدً  ،قُلْ إِنِّي لَنْ يُجِيرَنِي مِنَ اللَّهِ أَحَدٌ وَلَنْ أَجِدَ مِنْ دُونِهِ مُلْتَحَدًا سورۃ الجن)22﴾

والبدعۃ أصلها ما أحدث على غير مثال سابق وتطلق في الشرع في مقابل السنۃ فتكون مذمومۃ(فتح الباري باب فضل من قام رمضان(4/318

 حنبل اکرم

دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

  9/جمادی الاولی  /1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

حنبل اکرم بن محمد اکرم

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب