03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مدرس کی تنخواہ اور مدرسے کی ذمہ داری
88848اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

سوال: ایک شخص کو کسی مدرسے نے تعلیمی سال کے لیے ۲۰،۰۰۰ روپے ماہانہ تنخواہ پر ابتدائی درجات (خصوصاً درجہ اولیٰ) کی تدریس کے لیے مقرر کیا۔ سال کے آغاز میں درجہ اولیٰ میں طلبہ موجود نہ تھے، لیکن مدرس نے دیگر درجات (مثلاً: درجہ ثانیہ و ثالثه) میں تدریس کا عمل جاری رکھا۔ پانچ مہینے کے بعد مدرسے نے بغیر کسی ٹھوس الزام یا رسمی کاروائی کے مدرس کو فارغ کر دیا اور یہ مؤقف اپنایا کہ چونکہ آپ کو درجہ اولیٰ کے لیے رکھا گیا تھا، اور اس درجہ میں طلبہ موجود نہیں، اس لیے آپ کی خدمات کی ضرورت نہیں رہی، لہٰذا تنخواہ بھی نہیں دی جائے گی۔ پوچھا گیا ہے  کہ :کیا مدرسے کے لیے درجہ اولیٰ کے طلبہ لانا مدرس کی ذمہ داری ہے حالانکہ معاھدہ کے وقت یہ شرط نہیں لگائی تھی اورکیا سال کے درمیان میں مدرس کو فارغ کرنا جائز ہے؟ اگر مدرس کو فارغ کر دیا جائے تو کیا وہ بقیہ سال کی تنخواہ کا مستحق ہوگا یا نہیں؟ ۔ نیز تنخواہ کی ابتدا کس وقت عقد سے ہوتا ہے يا شوال سے ؟ اور دونوں صورتوں میں کونسی مہینے تک جاری ہوگا۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مدرسین اجیر خاص ہیں ،جن کا عقد اجارہ عمل کی بجائے وقت پر ہے ، جس کی مدتِ عرف مدارس دینیہ میں ایک سال ہے۔ بلا عذر اجارہ یکطرفہ طور پر ختم کرنا درست نہیں،کیونکہ اجارہ عقد لازم ہے ۔لہذا اگر مدرس کو صرف  درجہ اولی کے لیے رکھا تھا اور وہ درجہ ختم ہوگیا تو یہ عذر ہے ،مہتمم چاہےتو مناسب وقت دے کر مدرس کو رخصت کرسکتا ہے ۔ اور اگر مدرس کو ابتدائی درجات(اولی ، ثانیہ ، ثالثہ)کے لیے رکھا تھا تو مدرس کو نہیں نکالنا چاہیے،بلکہ دوسرےدرجات میں کام لے۔ بلا عذر نکالنا جائز نہیں کیونکہ عقد تدریس مسانہہ(باہمی طور پر طے ہونے والا سالانہ معاہدہ)ہے۔

نیز تنخواہ کی ابتدا کا تعلق عقد کے بعد خود کو تدریس کے لیے حوالہ کرنے سے ہے،اور سال کا اختتام رمضان المبارک تک ہے۔تاہم اگر ابتداء سے معاہدہ ہی اس طرح ہوا ہو کہ آپ کو ایک ماہ یا دو ماہ کے لیے مدرس رکھ رہے ہیں، یا کوئی اور شرط  موجود ہو تو اس کے مطابق عمل ہوگا۔ اگر تحریری یا زبانی کوئی خاص معاہدہ نہیں ہوا تھا تو مدارس کے عرف کے مطابق یہ عقد مسانہہ )سال بھر کا عقد )ہی سمجھا جائے گا۔

حوالہ جات

«حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي» (4/ 372):

قال العلامہ ابنِ عابدین رحمہ اللّہ:

(مطلب فيمن ‌لم ‌يدرس لعدم وجود الطلبة)

وفي ‌الحموي ‌:سئل ‌المصنف ‌عمن ‌لم ‌يدرس لعدم وجود الطلبة، فهل يستحق المعلوم؟ أجاب: إن فرغ نفسه للتدريس بأن حضر المدرسة المعينة لتدريسه استحق المعلوم ؛لامكان التدريس لغير الطلبة المشروطين ،قال في شرح المنظومة: المقصود من المدرس يقوم بغير الطلبة بخلاف الطالب؛ فإن المقصود لا يقوم بغيره اهـ وسيأتي قبيل الفروع أنه لو درس في غيرها لتعذره فيها ينبغي أن يستحق العلوفة، وفي فتاوى الحانوتي :يستحق المعلوم عند قيام المانع من العمل ولم يكن بتقصيره سواء كان ناظرا أو غيره كالجابي.

(حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي): (6/ 69):

(والثاني) وهو الأجير (الخاص) ويسمى أجير وحد (وهو من يعمل لواحد عملا مؤقتا بالتخصيص ،ويستحق الأجر بتسليم نفسه في المدة وإن لم يعمل.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي) (6/ 70):

(وإن هلك في المدة نصف الغنم أو أكثر) من نصفه (فله الأجرة كاملة) ما دام يرعى منها شيئا؛ لما مر أن المعقود عليه تسليم نفسه جوهرة.

وظاهر التعليل بقاء الأجرة لو هلك كلها، وبه صرح في العمادية.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (6/ 81):

وفي جامع الفصولين :كل فعل هو سبب نقص المال أو تلفه فهو عذر لفسخه كما لو استأجره ليخيط له ثوبه أو ليقصر أو ليقطع أو يبني بناء أو يزرع أرضه ،ثم ندم له فسخه.

عادل ارشاد

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

09/جمادی الاولی/1447ھ 

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب