| 88913 | نماز کا بیان | سجدہ سہو کابیان |
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ محترم مفتی صاحب! براہِ کرم درج ذیل مسائل میں رہنمائی فرمائیں: 1️⃣ اگر نماز میں سورہ کے درمیان بسم اللہ پڑھ دی جائے یا ثناء کی جگہ بسم اللہ پڑھ دی جائے، یا ایسی جگہ پر بسم اللہ پڑھ لی جائے جہاں بسم اللہ پڑھنا نہیں چاہیے — تو کیا اس صورت میں سجدۂ سہو واجب ہوگا؟ 2️⃣ اگر ہم سے غلطی سے اللہ اکبر کہنا رہ جائے، مثلاً رکوع یا سجدے میں جانے کے وقت اللہ اکبر نہ کہا، اور ہم تھوڑا سا جھک گئے یا سجدے کی حالت میں آ گئے، پھر یاد آنے پر واپس سیدھے ہو کر اللہ اکبر کہہ کر رکوع یا سجدہ ادا کیا — تو کیا اس حالت میں سجدۂ سہو لازم ہوگا؟ مزید برائے کرم کوئی ایسی کتاب تجویز فرمائیں جس میں سجدۂ سہو کے تمام مسائل تفصیل سے بیان کیے گئے ہوں۔ براہِ کرم قرآن، سنت اور فقہ کی معتبر کتب سے حوالہ دے کر جواب عطا فرمائیں۔ جزاکم اللہ خیراً و احسن الجزاء
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
1)نماز میں سورۃ فاتحہ سے پہلے اور سورت شروع کرتے ہو ئے" بسم اللہ" پڑھنا مسنون ہے۔تاہم اگر کوئی سورت کے درمیان میں یا ثناء کی جگہ یا ایسی جگہ "بسم اللہ" پڑھ لیتا ہے جہاں "بسم اللہ "کا موقع نہیں ہے،تو اس سے سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا۔
2):نماز میں تکبیر تحریمہ کے علاوہ تمام تکبیریں مسنون ہیں ، واجب نہیں، یہ اگر چھوٹ جائیں تو سجدہ سہو واجب نہیں ہوگا، نماز سجدۂ سہو کے بغیر ہی مکمل ہو جائے گی۔
3): سجدہ سہو کے مسائل جاننے کے لیے "تسہیل بہشتی زیور " یا مفتی انعام الحق صاحب کی کتاب "نماز کے مسائل کا انسائیکلوپیڈیا" کا مطالعہ فرمائیں۔
حوالہ جات
(كتاب الصلاة، فصل بيان سبب وجوب سجود السهو، ج: 1، ص:۶۹۹، ط: مکتبہ رشیدیہ)
بدائع الصنائع میں ہے :
"ولو قرأ القرآن في ركوعه أو في سجوده أو في قيامه لا سهو عليه؛ لأنه ثناء وهذه الأركان
مواضع الثناء."
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي(1/ 476):
وسننها…(تكبير الركوع وكذا الرفع منه)(وتكبير السجود )و كذا نفس الرفع منه)
(کتاب الصلاۃ 'فتاویٰ عالمگیریہ= ج : ۱ ؛ ص:۱۳۹،دارالکتبالعلمیہ):
ولا يجب بترك التعوذ والبسملة في الأولى والثناء وتكبيرات الانتقالات إلا في تكبيرة ركوع الركعةالثانية من صلاة العيد .
عادل ارشاد
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
۱۰/جمادی ا لاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


