| 88902 | جائز و ناجائزامور کا بیان | کھیل،گانے اور تصویر کےاحکام |
سوال
اسلام میں جاندار کی تصویر بنانا جائز نہیں ہے ایک حدیث میں ہے درخت اور ہر وہ چیز جس میں روح نہ ہو اس کی تصویر بنانے کی گنجائش ہے لیکن سائنس کے حساب سے تو درخت بھی جاندار ہےاب روح کس مخلوق میں ہے اور کس میں نہیں ہے کیا آپ یہ بتا سکتے ہیں تاکہ معلوم ہو جائے کہ کس جاندار کی تصویر بنا سکتے ہیں اور کس کی نہیں صرف جاندار کی تصویر بنانے میں اللہ تعالی کی تخلیق سے مشابہت کیوں ہے مشابہت تو ہر چیز میں ہونی چاہیے کیونکہ اللہ تعالی نے تو ہر چیز کو پیدا کیا ہے تصویر کا اطلاق جاندار کے ہر حصے میں ہوگا مثلا ہاتھ ،پیر سب میں یا صرف چہرے میں کیونکہ کچھ علماء کا بیان سنا وہ کہتے ہیں چہرہ مسخ کر دینے سے تصویر کے حکم سے نکل جائے گا ۔براہ کرم جلد مدلل جواب مطلوب ہے۔جزاکم اللہ خیرا
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حضرت ابن عباس رضی اللہ عنہ سے روایت ہے ،آپ ﷺنے فرمایا :"جو کوئی تصویر بنائے، اللہ تعالیٰ اسے عذاب دے گا جب تک کہ وہ اس میں روح نہ پھونکے، اور وہ کبھی اس میں روح نہیں پھونک سکے گا "(جو آدمی ان کے پاس آیا ،مورتیوں کی تصویریں بنانے سے متعلق پوچھاور کہا کہ میری کمائی کا ذریعہ یہی ہے)وہ بہت گھبرا گیا، اس کا چہرہ زرد پڑ گیا۔تو ابنِ عباس رضی اللہ عنہ نے فرمایا: افسوس! اگر تمہیں تصویری کام ہی کرنا ہے، تو درختوں یا ان چیزوں کی تصویر بناؤ جن میں روح نہیں ہوتی۔
یہ حدیث بتاتی ہے کہ ذی روح(انسان، جانور وغیرہ) کی تصویر بنانا منع ہے، اور غیر ذی روح (درخت، پہاڑ، عمارت وغیرہ) کی تصویر بنانا جائز ہے۔چنانچہ مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ علیہ اسی حدیث کی تشریح کرتے ہوۓغیر ذی روح کا مصداق بیان کرتے ہیں ۔
" کہ غیرذی روح سے مراد اس جگہ وہ چیزیں ہیں جن کو عرفا بے جان کہا جاتا ہے ، اگرچہ حقیقت میں حیوانات، نباتات ،جمادات سب میں روح اور ادراک موجود ہے ،لیکن پھر بھی ذی روح اور غیر ذی روح میں خاص ایک فرق ہے ،اسی فرق کی وجہ سے بعض چیزوں کا ادراک اس قدر مخفی ہو گیا ہے کہ عام نظریں اس کو محسوس نہیں کر سکتیں چنانچہ اسی بنا پر کائنات عالم کی یہ تقسیم سمجھی جاتی ہے کہ بعض جاندار ہیں اور بعض بے جان ۔ باقی آپ کا یہ سوال کہ تصویر بنانے کی ممانعت کی وجہ اللہ تعالیٰ کی تخلیق کےساتھ مشابہت ہے ، تو مشابہت تو ہر چیز میں پائی جاتی ہے اگرچہ وہ غیر ذی روح ہو تو ان کے درمیان وجہ فرق کیا ہے ؟
اس کا جواب میں مفتی اعظم محمد شفیع عثمانی رحمۃ اللہ لکھتے ہیں ۔
"کہ جو چیزیں غیر ذی روح ہو ں جیسے :درخت کی تصویر یا کسی بےجان شے کی تصویر اگرچہ اللہ تعالی کی مخلوق میں سے ہیں ، پھر بھی اس کی تخلیق میں انسان کچھ نہ کچھ دخل دے سکتا ہے جیسے :بیج بونا ،پانی دینا ،اس میں انسان کا کچھ نہ کچھ کردار ہوتا ہے، سواۓان کے کہ جن چیزوں میں روح ہو ان کی تصاویر بنانا ایسا ہے جیسے (جاندار چیز میں جان ڈالنا ) یہ ایسا کام ہے جس میں انسان کا کوئی دخل نہیں ہوتا نہ ظاہرا نہ حقیقتا یعنی روح ڈالنا ،زندگی دینا صرف اللہ تعالی کا کام ہے"
۲۔ ایسی ناقص تصویریں جن میں سر اور چہرہ نہ ہو (سر کٹی تصویریں )ممنوع تصویروں کے حکم سے نکل جاتیں ہیں چنانچہ اس پر حضرت ابوہریرہؓ کی روایت ہے ،کہ رسولِ اکرم ﷺ نے فرمایا:"میرے پاس جبریل علیہ السلام آئے اور فرمایا:اے محمد ﷺ! میں کل رات آپ کے پاس آیا تھا،مگر مجھے اندر آنے سے تین چیزوں نے روک دیا (1)دروازے پر مجسموں کی موجودگی،(2) گھر کے پردے پر تصویروں کا ہونا،(3) اور گھر میں کتے کا ہونا۔پس آپ حکم دیں کہ دروازے پر جو مجسمہ ہے، اس کا سر کاٹ دیا جائے تاکہ وہ درخت کی مانند ہو جائے۔
حوالہ جات
(صحيح البخاري: الرقم (3993
عن عبيد الله بن عبد الله بن عتبة بن مسعود، أن ابن عباس رضي الله عنهما قال: أخبرني أبو طلحة رضي الله عنه صاحب رسول الله صلى الله عليه وسلم وكان قد شهد بدرا مع رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "لا تدخل الملائكة بيتا فيه كلب ولا صورة"، يريد: التماثيل التي فيها الأرواح.
)سنن أبي داود:الرقم (4158
حدثنا أبو هريرة، قال: قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: أتاني جبريل عليه السلام، فقال لي: أتيتك البارحة فلم يمنعني أن أكون دخلت إلا أنه كان على الباب تماثيل، وكان في البيت قرام ستر فيه تماثيل، وكان في البيت كلب، فمر برأس التمثال الذي على باب البيت يقطع فيصير كهيئة الشجرة،
) تكملة فتح الملهم:(11/149
ما ذكر المفتي محمد شفیع العثماني رحمه الله في رسالته في أحكام التصوير انما ليس له روح وان كان مخلوقا لله تعالى مثل :ما فيه روح غير ان الانسان ربما يكون له دخل صورۃ في تسبيب وجود ما ليس له روح كغرس البزر والسقي في الشجر، بخلاف ايجاد الروح في شيء فانه لا يتوهم احد حتى في الظاهر، أن فيه دخلا لغير الله سبحانه وتعالى، والله سبحانه وتعالى أعلم.
حنبل اکرم
دارالافتاء ،جامعۃ الرشید ،کراچی
10/جمادی الاولیٰ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | حنبل اکرم بن محمد اکرم | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


