| 88922 | طلاق کے احکام | صریح طلاق کابیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میرے والد صاحب نے ایک طلاق نامہ بنوایا تھا جب وہ دوسری شادی کر رہے تھے۔ بقول ان کے، میرا خیال تھا کہ طلاق تب ہوتی ہے جب زبان سے طلاق کے الفاظ بولے جائیں۔ بہرحال ہمیں گھر میں والد صاحب کی ایک یادداشت (جس کی کاپی منسلک ہے) ملی، جس میں طلاق کا تذکرہ تھا۔ جب ان سے اس بارے میں مطالبہ کیا گیا کہ یہ کیا معاملہ ہے، تو انہوں نے بیرونِ ملک سے طلاق نامے کی تصویر بھیجی، جو کہ منسلک ہے۔آپ بتائیں کہ اس سے طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟ اگر طلاق واقع ہو گئی ہے تو کب سے طلاق واقع سمجھی جائے گی؟ ہمیں اور ہماری والدہ کو ابھی چند دن قبل اس کا علم ہوا ہے۔
والد صاحب نے یہ طلاق نامہ 2015ء میں بنوایا تھا۔ ان کا کہنا ہے کہ میں نے بس ایک نمونہ (Sample) دیکھا اور کہا کہ ایسا بنا دو، اور کچھ بھی نہیں کہا تھا۔ ان کے ایک دوست پاکستان سے 90 دن بعد وہ لے کر آگئے، اور یہی دوست اسے بنوانے والے تھے۔ انہوں نے والد صاحب سےبس ان کا اور والدہ کا نام پوچھا۔ والد صاحب کا کہنا ہے کہ یہ جعلی (Fake) ہے، کیونکہ یونین کونسل والوں کو چند ڈالر دے کر بنوایا گیا تھا۔
تو اس حساب سے بتائیں کہ طلاق واقع ہوئی ہے یا نہیں؟اگر ہوئی ہے تو کتنی طلاقیں واقع ہوئیں؟
نیز والد صاحب جو خرچ وغیرہ والدہ کے لیے بھیج رہے ہیں، اس رقم کو استعمال میں لانا شرعاً جائز ہے یا نہیں؟
واضح رہے کہ سوال کے ساتھ منسلک پہلی تحریر ایک یادداشت ہے جو گھر کی صفائی کے دوران سائلہ کو ملی، اور پھر اس نے والد سے اس بارے میں پوچھا تو انہوں نے اصلی طلاق نامہ بھیجوایا جو دوسرے نمبر پر سوال کے ساتھ منسلک ہے، جس میں ایک طلاق کا ذکر ہے۔ والد کا کہنا ہے کہ اس کے علاوہ ان کے پاس طلاق کی کوئی تحریر نہیں ہے، اور یہ بھی انہوں نے دوسری شادی کرتے وقت مجبوری میں پیسے دے کر جعلی طور پر بنوایا تھا، اور دوست سے نمونہ (سیمپل) دیکھ کر صرف یہ کہا تھا کہ “بس ایسا بنا دو”، اور اس نے بنا دیا۔ واضح رہے کہ منسلکہ تحریر پر آخر میں والد کے دستخط بھی ہیں، اور بنوایا بھی انہوں ہی نے ہے، لیکن چونکہ انہوں نے زبانی طلاق نہیں دی تھی اور سمجھ رہے تھے کہ طلاق صرف زبانی ہوتی ہے، اس لیے انہوں نے اس طلاق نامہ کو جعلی کہا ہے۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر واقعی آپ کے والد نے منسلکہ طلاق نامہ اپنی مرضی سے دوست سے بنوایا — اگرچہ جعلی بنوایا ہو — اور اس میں اپنا اوربیوی کا نام درج کروایا اوراس پر دستخط کیے، تو یہ تحریری طلاق معتبر ہوگی، خواہ انہوں نے زبان سے طلاق کے الفاظ ادا نہ کیے ہوں۔
طلاق کے لیے زبان سےکچھ کہنا شرط نہیں، بلکہ اگر کسی شخص نے اپنےاختیارسے طلاق لکھ دی یا لکھوائی اور وہ اس کے مفہوم کو سمجھتا تھا، تو اس سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
لہٰذا اگر آپ کے والد صاحب نے اس سے پہلے یا بعد میں کوئی اور زبانی یا تحریری طلاق نہیں دی، تو مسئولہ صورت میں منسلکہ طلاق نامہ میں درج ایک رجعی طلاق واقع ہوچکی ہے، اور وہ ۲۰۱۵ء کی تاریخ سے مؤثر اور نافذ ہے۔
طلاقِ رجعی کے بعد چونکہ رجوع صحیح ہوتا ہے، لہٰذا اگر آپ کے والد نے عدت — یعنی طلاق کے بعد تین حیض — کے دوران زبانی رجوع کیا تھا یا میاں بیوی کےجنسی تعلقات بحال ہوئے تھے، تو رجوع ہو گیا تھا، اور اب آپ کے والد صاحب کو دو طلاقوں کا اختیار باقی رہے گا۔
اور اگر عدت کے دوران رجوع نہیں ہوا تھا، تو اب رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ فریقین کی رضامندی سے نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کیا جاسکتا ہے۔
جہاں تک بھیجے جانے والے خرچے کا تعلق ہے، تو اگر طلاق کے بعد رجوع ہو گیا تھا، توپھرآپ کے والد کا بھیجا ہوا خرچ شوہر کی طرف سے بیوی کے نفقے کے طور پر شمار ہوگا، جوکہ شوہر پر واجب ہوتا ہے۔
اور اگر طلاق کے بعد رجوع نہیں ہوا تھا اور عدت گزر گئی تھی، تو پھر وہ خرچ بطور نفقہ نہیں،بلکہ ہبہ اورحسان شمار ہوگا، جسے قبول کرنا جائز ہے، مگر اسے شوہر پر واجب نفقہ نہیں سمجھا جائے گا۔
حوالہ جات
لما فی الدر المختار- (3 / 251)
(وفي أنت الطلاق) أو طلاق (أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية إن لم ينو شيئا.
وفی الهداية في شرح بداية المبتدي - (1 / 371)
" وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لاملك بعد انقضائها".
قال رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم:
"وَلَهُنَّ عَلَيْكُمْ رِزْقُهُنَّ وَكِسْوَتُهُنَّ بِالْمَعْرُوفِ" [صحیح مسلم، الحج ،باب حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم ، حدیث 1218وسنن ابی داود ،المناسک ،باب صفۃ حجۃ النبی صلی اللّٰه علیہ وسلم حدیث 1905 ]
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
13/5/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


