| 88877 | طلاق کے احکام | بچوں کی پرورش کے مسائل |
سوال
سوال یہ ہے کہ کیا نوزائیدہ بچی کے خرچ کی ادائیگی اس کے والد پر واجب ہے، جب کہ چار ماہ گزرنے کے باوجود اس نے کچھ ادا نہیں کیا؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
جی ہاں! بچی کے تمام اخراجات اس کے والد کے ذمہ ہی لازم ہیں، جس میں بچی کی غذا، علاج معالجہ اور تعلیمی اخراجات وغیرہ شامل ہوں گے اور ان اخراجات پر ہونے والے خرچہ کی ایک متوسط مقدار عدالت طے کرے گی، نیز سوال نمبر1 میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق چونکہ فریقین کے درمیان علیحدگی ہو چکی ہے، اس لیے فقہائے کرام رحمہم اللہ کی تصریحات کے مطابق آپ بچی کے والد سے اس کو دودھ پلانے کی اجرت بھی وصول کر سکتی ہیں اور یہ اجرت بھی عدالت اپنی حسبِ صواب دید طے کر سکتی ہے۔
یاد رہے کہ یہ بچی بالغ ہونے تک شرعاً اپنی ماں کی پرورش میں رہے گی، بشرطیکہ ماں بچی کے کسی غیرمحرم سے شادی نہ کرے اور کوئی ایسی مستقل ملازمت بھی اختیار نہ کرے کہ جس سے بچی کی پرورش میں خلل واقع ہوتا ہو، ورنہ اس کی پرورش کا حق نانی کو حاصل ہو گا، اگر نانی نہ ہو یا نانی انکار کرے تو پھر دادی کو پرورش کا حق ہو گا۔
حوالہ جات
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 291) دار احياء التراث العربي – بيروت:
" ونفقة الأولاد الصغار على الأب لا يشاركه فيها أحد كما لا يشاركه في نفقة الزوجة " لقوله تعالى: {وعلى المولود له رزقهن} [البقرة: 233] والمولود له هو الأب " وإن كان الصغير رضيعا فليس على أمه أن ترضعه " لما بينا أن الكفاية على الأب وأجرة الرضاع كالنفقة ولأنها عساها لا تقدر عليه لعذر بها فلا معنى للجبر عليه ...........وإن انقضت عدتها فاستأجرها " يعني لإرضاع ولدها " جاز " لأن النكاح قد زال بالكلية وصارت كالأجنبية " فإن قال الأب لا أستأجرها وجاء بغيرها فرضيت الأم بمثل أجر الأجنبية أو رضيت بغير أجر كانت هي أحق " لأنها أشفق فكان نظرا للصبي في الدفع إليها "
الدر المختار وحاشية ابن عابدين ( (3/ 567) دار الفكر-بيروت:
(ولا خيار للولد عندنا مطلقا) ذكرا كان، أو أنثى خلافا للشافعي. قلت: وهذا قبل البلوغ، أما بعده فيخير بين أبويه، وإن أراد الانفراد فله ذلك مؤيد زاده معزيا للمنية.
الهداية في شرح بداية المبتدي (2/ 283) دار احياء التراث العربي - بيروت:
" وإذا وقعت الفرقة ين الزوجين فالأم أحق بالولد " ولا تجبر الأم عليه " لأنها عست تعجز عن الحضانة " فإن لم تكن له أم فأم الأم أولى من أم الأب وإن بعدت " لأن هذه الولاية تستفاد من قبل الأمهات " فإن لم تكن أم الأم فأم الأب أولى من الأخوات " لأنها من الأمهات فإن لم تكن له جدة فالأخوات أولى من العمات والخالات.
محمد نعمان خالد
دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی
11/جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد نعمان خالد | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب |


