03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
باہمی جھگڑوں میں قتل ہونے والوں کا حکم
88931جنازے کےمسائلشہید کے احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں علماء اکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارا کچھ لوگوں کے ساتھ جگھڑا چل رہا ہے ہمیں پتا چلا کہ وہ ہمارے گاؤں پر حملہ کرنے والے ہیں اس کے دفاع کے لئے ہمارے گاؤں سے تقریبا گیارہ بارہ لوگ باھر نکلے تو وہ لوگ راستے میں چھپ کر بیٹھے تھے ان لوگوں نے ہمارے دو آدمیوں کو قتل کردیا کیا وہ شھید ہیں ان کو غسل دیا جائے گا مدلل اور واضح جواب دیکر عبداللہ مأجور ہوں

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مسلمانوں کی آپس کی لڑائی میں ضابطہ یہ ہےکہ جو شخص بھی ظلما قتل ہو جائے اس پر شہید کے دنیاوی احکام جاری ہوں گے۔ایک فریق اگر زمین پر موروثی قبضہ رکھتاہے، تو اس کا دفاع کرنا ایک جائز امر ہے، تاہم دوسرے کی زمین پر جارحیت کرنا حرام ہے ۔اگر کسی کا دعوی ہے تو اسےقانونی طریقے سےعدالت میں ثابت کرنا چاہیے، ایسے حملے کرنا اور مسلمانوں کی جان کو خطرے میں ڈالنا ناجائز اور گناہ ہے۔

سوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے دفاع کے لیے نکلے تھے کسی پر ظلم مقصود نہیں تھا، ان کو ظلما قتل کر دیا گیا لہذا یہ شہید کہلائیں گے۔اور اگر زخمی ہونے کے بعدکسی دنیاوی چیز سے استفادہ نہیں کیا (جیسے علاج، کھانا پینا وغیرہ) تو انہیں غسل نہیں دیا جائے، بلکہ انہی کپڑوں میں نماز جنازہ پڑھا کر دفنا دیا جائے گا۔البتہ اضافی کپڑے جیسے عمامہ، چادر گھڑی انگوٹھی وغیرہ اتاری جائے گی۔

حوالہ جات

رد المحتار (252/2)

(قوله: وكل ذلك) أي ما تقدم من الشروط وهي ست كما في البدائع: العقل، والبلوغ،والقتل، ظلما، وأن لا يجب به عوض مالي، والطهارة عن الحدث الأكبر وعدم الارتثاث.

فتح القدیر: (1/ 474)

(الشهيد من قتله المشركون، أو وجد في المعركة وبه أثر، أو قتله المسلمون ظلما ولم يجب بقتله دية فيكفن ويصلى عليه ولا يغسل) لأنه في معنى شهداء أحد، وقال عليه السلام فيهم زملوهم بكلومهم ودمائهم ولا تغسلوهم، فكل من قتل بالحديدة ظلما وهو طاهر بالغ ولم يجب به عوض مالي فهو في معناهم فيلحق بهم.

البناية في شرح الھدایۃ (3/309)

(لآنه) أي لأن الشهيد الموصوف المذكور (في معنى شهداء أحد) وشهداء أحد قتلوا ظلماً ، ولم يرتثوا ولم يجب بقتلهم دية، فمن كان على صفتهم فهو شهيد ، ومن لا فلا، وفي الذخيرة الشهيد كل مسلم مكلف طاهر قتل ظلماً في قتال ثلاثة مع أهل الحرب أو البغي أو قطاع الطريق بأي آلة قتل. ولم يرتث يعني ولم يأكل ولم يشرب ولم يعش في المصرع يوماً أو ليلة ولم يجب عن دمه عوض مالي حتى لو حمل للتمريض ومات في أثنائه أو على أيدي الناس يغسل ، وإن حمل كيلا يطأه الخيل ، لا للتحريف، فهو شهيد، انتهى.

ظہوراحمد

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

12 جمادی الاول 1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

ظہوراحمد ولد خیرداد خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب