| 88931 | جنازے کےمسائل | شہید کے احکام |
سوال
کیا فرماتے ہیں علماء اکرام اس مسئلے کے بارے میں کہ ہمارا کچھ لوگوں کے ساتھ جگھڑا چل رہا ہے ہمیں پتا چلا کہ وہ ہمارے گاؤں پر حملہ کرنے والے ہیں اس کے دفاع کے لئے ہمارے گاؤں سے تقریبا گیارہ بارہ لوگ باھر نکلے تو وہ لوگ راستے میں چھپ کر بیٹھے تھے ان لوگوں نے ہمارے دو آدمیوں کو قتل کردیا کیا وہ شھید ہیں ان کو غسل دیا جائے گا مدلل اور واضح جواب دیکر عبداللہ مأجور ہوں
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
مسلمانوں کی آپس کی لڑائی میں ضابطہ یہ ہےکہ جو شخص بھی ظلما قتل ہو جائے اس پر شہید کے دنیاوی احکام جاری ہوں گے۔ایک فریق اگر زمین پر موروثی قبضہ رکھتاہے، تو اس کا دفاع کرنا ایک جائز امر ہے، تاہم دوسرے کی زمین پر جارحیت کرنا حرام ہے ۔اگر کسی کا دعوی ہے تو اسےقانونی طریقے سےعدالت میں ثابت کرنا چاہیے، ایسے حملے کرنا اور مسلمانوں کی جان کو خطرے میں ڈالنا ناجائز اور گناہ ہے۔
سوال سے یہ معلوم ہوتا ہے کہ یہ اپنے دفاع کے لیے نکلے تھے کسی پر ظلم مقصود نہیں تھا، ان کو ظلما قتل کر دیا گیا لہذا یہ شہید کہلائیں گے۔اور اگر زخمی ہونے کے بعدکسی دنیاوی چیز سے استفادہ نہیں کیا (جیسے علاج، کھانا پینا وغیرہ) تو انہیں غسل نہیں دیا جائے، بلکہ انہی کپڑوں میں نماز جنازہ پڑھا کر دفنا دیا جائے گا۔البتہ اضافی کپڑے جیسے عمامہ، چادر گھڑی انگوٹھی وغیرہ اتاری جائے گی۔
حوالہ جات
رد المحتار (252/2)
(قوله: وكل ذلك) أي ما تقدم من الشروط وهي ست كما في البدائع: العقل، والبلوغ،والقتل، ظلما، وأن لا يجب به عوض مالي، والطهارة عن الحدث الأكبر وعدم الارتثاث.
فتح القدیر: (1/ 474)
(الشهيد من قتله المشركون، أو وجد في المعركة وبه أثر، أو قتله المسلمون ظلما ولم يجب بقتله دية فيكفن ويصلى عليه ولا يغسل) لأنه في معنى شهداء أحد، وقال عليه السلام فيهم زملوهم بكلومهم ودمائهم ولا تغسلوهم، فكل من قتل بالحديدة ظلما وهو طاهر بالغ ولم يجب به عوض مالي فهو في معناهم فيلحق بهم.
البناية في شرح الھدایۃ (3/309)
(لآنه) أي لأن الشهيد الموصوف المذكور (في معنى شهداء أحد) وشهداء أحد قتلوا ظلماً ، ولم يرتثوا ولم يجب بقتلهم دية، فمن كان على صفتهم فهو شهيد ، ومن لا فلا، وفي الذخيرة الشهيد كل مسلم مكلف طاهر قتل ظلماً في قتال ثلاثة مع أهل الحرب أو البغي أو قطاع الطريق بأي آلة قتل. ولم يرتث يعني ولم يأكل ولم يشرب ولم يعش في المصرع يوماً أو ليلة ولم يجب عن دمه عوض مالي حتى لو حمل للتمريض ومات في أثنائه أو على أيدي الناس يغسل ، وإن حمل كيلا يطأه الخيل ، لا للتحريف، فهو شهيد، انتهى.
ظہوراحمد
دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
12 جمادی الاول 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | ظہوراحمد ولد خیرداد خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


