| 88906 | سود اور جوے کے مسائل | مختلف بینکوں اور جدید مالیاتی اداروں کے سود سے متعلق مسائل کا بیان |
سوال
السلام علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ، امید ہے کہ آپ خیریت سے ہوں گے۔ میرا نام علی ہے، اور میں اس وقت اٹلی میں اپنی فیملی (بیوی کے ساتھ) رہتا ہوں۔ یہاں پر ایک مشکل صورتِ حال کا سامنا ہے۔ اٹلی میں اسلامی فنانس یا حلال مورگیج کا کوئی مناسب آپشن دستیاب نہیں ہے، اور جو گھر کرائے پر ملتے ہیں وہ بہت زیادہ مہنگے ہیں۔ ہر سال کرایہ بڑھتا جا رہا ہے اور فیملی بھی بڑی ہوتی جا رہی ہے، جس کی وجہ سے ایک مستقل گھر لینا ضرورت بن گیا ہے۔ ابھی صرف ایک ہی آپشن موجود ہے کہ بینک سے انٹرسٹ (سود) پر مبنی مورگیج لینا۔ میرا سوال یہ ہے کہ: کیا اس حالت میں ـجب اسلامی فنانس مہنگا (تقریباً ۱۰ تا ۲۰ فیصد زیادہ) اور عملی طور پر مشکل ہو، اور انٹرسٹ بیسڈ مورگیج نسبتاً سستا اور آسانی سے دستیاب ہو ـ ایک مسلمان اٹلی جیسے ملک میں اپنے گھر کے لیے ایسا مورگیج لے سکتا ہے؟ (یعنی یہ کاروبار یا سرمایہ کاری کے لیے نہیں، بلکہ صرف رہائش کے لیے ہے) اگر اس صورت میں کوئی رخصت (اجتہادی رائے) یا ضرورت کا پہلو ہے تو براہِ کرم رہنمائی فرما دیں۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سود کا لین دین خواہ کسی بھی جگہ میں کسی بھی غرض کے لیے ہو حرام اور ناجائز ہے ، جس طرح سود پر قرض دینا حرام ہے اسی طرح سود پر کسی بھی غرض کے لیے قرض لینا بھی حرام ہے۔سودی معاملات میں ملوث لوگوں کے لیے قرآن کریم اور احادیث مبارکہ میں سخت وعیدیں آئی ہیں، یہاں تک کہ ایسے لوگوں کے لیے قرآن کریم میں اللہ تعالی اور اس کے رسولﷺ کی طرف سے جنگ کا اعلان ہے ۔
لہذا انٹرسٹ بیسڈ مورگیج جو کہ عام طور پر سودی بینکوں میں رائج ہے واضح طور پر ایک سود ی معاملہ ہونے کی وجہ سے حرام ہے اور اس سے مکمل اجتناب ضروری ہے۔ لہذا سائل کو چاہیے کہ کسی مستند اسلامی بینک سے شرکت یا اجارہ کی بنیاد پر معاملہ کر کے اپنی رہائشی ضرورت پوری کرے، اگر چہ وہ سودی بینک کے بنسبت مہنگا پڑے ۔اور یہ بھی واضح رہے کہ صرف مہنگے ہونے کی وجہ سے کسی سودی معاملے میں ملوث ہونا ہر گز جائز نہیں ۔
حوالہ جات
قال اللہ تعالی: ٱلَّذِينَ يَأۡكُلُونَ ٱلرِّبَوٰاْ لَا يَقُومُونَ إِلَّا كَمَا يَقُومُ ٱلَّذِي يَتَخَبَّطُهُ ٱلشَّيۡطَٰنُ مِنَ ٱلۡمَسِّۚ ذَٰلِكَ بِأَنَّهُمۡ قَالُوٓاْ إِنَّمَا ٱلۡبَيۡعُ مِثۡلُ ٱلرِّبَوٰاْۗ وَأَحَلَّ ٱللَّهُ ٱلۡبَيۡعَ وَحَرَّمَ ٱلرِّبَوٰاْۚ ﵞ [البقرة: 275]
وقال: يَمۡحَقُ ٱللَّهُ ٱلرِّبَوٰاْ وَيُرۡبِي ٱلصَّدَقَٰتِۗ وَٱللَّهُ لَا يُحِبُّ كُلَّ كَفَّارٍ أَثِيمٍ [البقرة: 276]
وقال: يَٰٓأَيُّهَا ٱلَّذِينَ ءَامَنُواْ ٱتَّقُواْ ٱللَّهَ وَذَرُواْ مَا بَقِيَ مِنَ ٱلرِّبَوٰٓاْ إِن كُنتُم مُّؤۡمِنِينَ 278 فَإِن لَّمۡ تَفۡعَلُواْ فَأۡذَنُواْ بِحَرۡبٖ مِّنَ ٱللَّهِ وَرَسُولِهِۦۖ [البقرة: 278-279]
صحيح مسلم (1/ 64):
عن أبي هريرة: أن رسول الّله صلى الّله عليه وسلم قال: « اجتنبوا السبع الموبقات. قيل: يا رسول الّله، وما هن؟ قال: الشرك بالّله، والسحر، وقتل النفس التي حرم الّله إلا بالحق، وأكل مال اليتيم، وأكل الربا، والتولي يوم الزحف، وقذف المحصنات الغافلات المؤمنات .»
صحيح مسلم (5/ 50):
عن جابر قال: « لعن رسول الّله صلى الّله عليه وسلم آكل الربا وموكله، وكاتبه وشاهديه، وقال: هم سواء .»
الدر المختار مع رد المحتار ط: الحلبي (5/ 168):
"وهو لغة: مطلق الزيادة، وشرعا: (فضل) ولو حكما فدخل ربا النسيئة.. (خال عن عوض)... (مشروط) ذلك الفضل (لأحد المتعاقدين) أي بائع أو مشتر."
الهداية في شرح بداية المبتدي ط: دار إحياء التراث العربي (3/ 61):
"الربا : هو الفضل المستحق لأحد المتعاقدين في المعاوضة الخالي عن عوض شرط فيه."
محمد جمال
دار الافتاء جامعۃ الرشیدکراچی
9/جمادی الاولی/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد جمال بن جان ولی خان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


