03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
ورک ویزے کا معاوضہ لے کر معاہدے کے مطابق اپنی ذمہ داری سے دستبردار ہونے کا حکم
88930اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

کیا فرماتے ہیں مفتیان کرام اس مسئلہ کے بارے میں۔میں نے ایک شخص مثلا زاہد سے سعودیہ کا ورک ویزہ لیا ساڑھے چھ لاکھ روپے میں ،ہم سے زاہد نے کہا کہ ہم 3 پارٹنر ہیں ایک کا نام عباسی جو کہ سرگودھا میں ہوتا ہے اور ایک بلال کے نام سے سعودیہ میں ہے ۔ہم سے کہا گیا کہ آپ کو دو سال کا ورک ویزہ دو سال کا اقامہ اور دو سال کا ورک کنٹریکٹ دیا جائے گا اور کام ہوٹل ویٹر کا ہے 1500ریال تنخواہ ہوگی۔ کھانا پینا رہائش واپسی ریٹرن ٹکٹ سب کمپنی کی طرف سے ہوگی اور یہ سب ہماری ذمہ داری ہوگی ۔اور جب آپ سعودیہ میں داخل  ہوں گے تو آپ کوجیب خرچ کے لیے 200ریال دیےجائینگے۔اور تمام معاملات الف سے لیکر ی تک سب کچھ اسی زاہد نامی شخص نے ہمارے ساتھ طے کیے ،اور رقم بھی اسی کے دیےہوئے اکاؤنٹ میں ٹرانسفر کی اور ان کی تمام تر ذمہ داریوں کا واٹسپ ریکارڈ گفتگو کی صورت میں ہمارے پاس موجود ہے جس میں یہ شخص تمام ذمہ داریوں کا اقرار کر رہا ہے ۔اب جب ہم سعودیہ پہنچے تو سعودیہ میں موجود ان کےپارٹنر بلال نے پہلے دو دن ہمیں بھوکا رکھا اور پھر کوئی 20 یا 30 ریال 4بندوں کے کھانے کے لیے دیتے رہے اور کبھی بھوکے سوتے رہے ۔ہم نے اس ریاض کے ذمہ دار بلال سے کہا کہ جناب ہم سے زاہد نے کہا تھا کہ سعودیہ میں آپ کو کھانا پینا رہائش 200ریال فی کس دیےجائیں گے تو اس ذمہ دار بلال نے صراحتا اس بات کی نفی کی اور کہا کہ آپ سے یہ باتیں جس شخص نے کی ہیں وہ اس کاذمہ دار ہے ،میں نے کام کے علاوہ کسی چیز کی ذمہ داری نہیں لی ۔اور کام کی ذمہ داری بھی اس وقت لی تھی جب ایک ہوٹل سے میرا معاہدہ ہوا تھا کہ میں آپ کو بندے فراہم کرونگا مگر پاکستان کے ایجنٹ زاہد اور عباسی نے وقت پر بندے نہیں بھیجے اس لیےمیں کام کا بھی ذمہ دار نہیں کیونکہ میں نے کہا تھا کہ مجھے بندے وقت پر بھیج دینا مگر یہ نا بھیج سکے اور آج ہمیں سعودیہ میں 72 ،دن ہوگئے اب تک ہم بیروزگار ہیں اور تین دفعہ رہائش سے ذلیل کرکے نکالا گیا جس کی ویڈیوز ہمارے پاس ثبوت کے طور پر موجود ہے رہائش سے اس لئے نکالا گیا کہ ریاض کے ایجنٹ بلال نے کرایہ نہیں دیا تھا ۔بلال کا کہنا تھا کہ یہ میری ذمہ داری نہیں یہ ذمہ داری پاکستان میں موجود زاہد اور عباسی کی ہے ۔اب پاکستان میں ہم نے زاہد کو پیسے دیے تھے اور تمام معاملات زاہد سےطے کیے تھے جن سے ویزہ لیا تھا اب زاہد کہہ رہا ہے کہ میں ایک رابطہ کار تھا میں نے سب کچھ سرگودھا کے پارٹنر عباسی کے کہنے پر کہا تھا اور تمام ذمہ داری یا عباسی کی ہے یا بلال کی ہے میں ذمہ دار نہیں جبکہ اس ایجنٹ زاہد نے نہ ہی ہمارا رابطہ کبھی سرگودھا والے عباسی سے کروایا اور ناہی ریاض والے بلال سے بلکہ سارا معاملہ خود طے کیا اور اب اپنی ذمہ داری سے بھاگ رہے ہیں ۔اب اس مسئلہ میں مفتیان کرام کیا فرماتے ہیں کہ ہمارا ذمہ دار کون ہے ؟آیا وہ زاہد ذمہ دار ہے جس سے ہم نے ویزہ لیا اور رقم دی یا سرگودھا والاعباسی اور ریاض والا بلال جس سے نا تو ہم نے ویزہ لیا اور ناہی اسکو ہم نے رقم دی،اور کیا شرعی اور اخروی اعتبار سے یہ زاہد ذمہ دار ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تفصیل کے مطابق اگر ساڑھے چھ لاکھ میں ساری ذمہ داری زاہد نامی شخص نے لی ہے  ،معاہدہ اور پیسے کا لین دین بھی اسی سے ہوا ہےاور سارا معاملہ خود طے کیا ہے ،باقی دونوں شخص اس کنٹریکٹ میں شریک نہیں تھے ،تو  آپ صرف زاہد نامی شخص سے مطالبہ کر سکتے ہیں۔ اگر وہ شخص معاہدےکے مطابق  معقود علیہ (دوسال کا  کام  دلوانے،خرچہ دینے، کھانا پینا رہائش ،واپسی کی ٹکٹ)سے قاصر ہے تو وصول کی ہوئی رقم واپس کرے۔اور اپنی ذمہ داری سےدستبردار نہ ہو ،مؤمن آدمی کی یہ شان نہیں کہ وہ دھوکہ وفریب دے ۔

حوالہ جات

( المائدة :11)

قال الله تعالى : يَا أیھا الذین آمنوا اوفوا بالعقود ).

وقال تعالى : ( يَا أَيھاالذین آمنوا لاتأکلوا  اموالکم بینکم بالباطل} .

( تفسیر الثعلبي ، سورة البقرة ، ج : 3 ، ص : 83 )

قال الثعلبي : بالباطل أي : من غير الوجه الذي أباحه الله تعالى .

(سنن الترمذي، أبواب السير ، باب ما جاء أن لكل غادر لواء يوم القيامة ج ۴، ص ۱۴۴ ، ط ، دار احياء التراث العربي - بيروت)

" عن ابن عمر قال : سمعت رسول الله صلى الله عيله وسلم يقول :إن الغادر ينصب له لواء يوم القيامة."

(ردالمحتار: جلد:9،  ص :111؛ باب فسخ الاجارہ ، دارالکتب العلمیہ)

كل فعل هو سبب نقص المال أو تلفه فهو عذر لفسخه كما لو استأجره ليخيط له ثوبه أو ليقصر أو ليقطع أو يبني بناء أو يزرع أرضه ثم ندم له فسخه اهـ.

(وفیہ ص:126 )

إن لم يسلم الوكيل العين المؤجرة (إليه) أي إلى الموكل حتى مضت المدة) فالأجر على الوكيل لأنه أصيل في الحقوق۔

و فی الرد:

والحاصل أن كل عذر لا يمكن معه استيفاء المعقود عليه إلا يضرر يلحقه في نفسه أو ماله يثبت له حق الفسخ .

عادل ارشاد

دارالافتاء جامعۃ الرشید کراچی

     ۱۲/جمادی الاول/۱۴۴۷ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

عادل ولد ارشاد علی

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب