| 88948 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | ملازمت کے احکام |
سوال
میں جرمنی کی IT کمپنی میں Software Developer ہوں۔ یہ کمپنی مختلف قسم کے سافٹ ویئر بناتی ہے۔ یہ سافٹ ویئر pharmaceutical industry, media industry, electricity companies and e-commerce کے لیے ہوتے ہیں۔ میں e-commerce کے سافٹ ویئر بناتا ہوں۔ لیکن میرے پاس ایک اور پراجکٹ ہے جس میں ایک ایسا سافٹ ویئر بنانا اور اسے Maintain کرنا ہے جو TV چینلز کی Subscription کو مینیج کرتا ہے۔
یہ سافٹ ویئر TV چینلز کے مواد (content) کو نہ بناتا ہے نہ اپنے پاس محفوظ کرتا ہے اور نہ ہی اسے نشر کرتا ہے ۔ یہ سافٹ ویئر چینل کی Subscription کو active اور deactivate کرتا ہے ۔
اس سافٹ ویئر کو کیبل آپریٹرز استعمال کرتے ہیں، اپنے کسٹمرز کی سبسکرپشن کو مینیج کرنے کے لیے،یہ سافٹ ویئر مندرجہ ذیل کام کرتا ہے ۔
- کیبل آپریٹرز اس پر چینل کے پیکیجز بناتے ہیں۔ ایک پیکیج میں مختلف چینل ہوتے ہیں مثلاً News, Sports, Entertainment, Movies, Music وغیرہ ۔ یہ پیکیج وہ کسٹمرز کو بیچتے ہیں۔
- کسٹمرز چینل کی سبسکرپشن ایک مدت کے لیے خریدتے ہیں ۔ اس سافٹ ویئر میں اس مدت کی start date اور end date محفوظ ہوتی ہے ۔ جب سبسکرپشن کی مدت شروع ہوتی ہے تو یہ سافٹ ویئر چینل activation کمانڈ بھیجتا ہے TV device کو اور کسٹمر چینل دیکھ سکتے ہیں۔ جب مدت ختم ہوتی ہے تو یہ سافٹ ویئر چینل deactivate کی کمانڈ بھیجتا ہے اور چینل بند ہو جاتا ہے ۔
- کسٹمرز کی سبسکرپشن کے لحاظ سے ہر ماہ بل بھی یہ سافٹ ویئر جنریٹ کرتا ہے۔
- کچھ چینلز پر کچھ ایسا مواد بھی دکھایا جاتا ہے جس کا Maturity level اس سافٹ ویئر کے ذریعے کنٹرول ہوتا ہے ۔ یہ سافٹ ویئر maturity level کی کمانڈ بھیجتا ہے TV device کو، اس سافٹ ویئر کو ایک Schedule دیا جاتا ہے کہ کب سے کب تک کیا maturity level رکھنا ہے۔میچورٹی لیول یہ بتاتا ہے کہ دکھایا جانے والا مواد کون دیکھ سکتا ہے اور کون نہیں۔ یعنی کوئی ایسی چیز جو بچے نہیں دیکھ سکتے ، یا صرف ماں باپ کے ساتھ ہی دیکھ سکتے ہیں وغیرہ ۔ اس میں فحش مواد بھی شامل ہوتا ہے جو بچے نہیں دیکھ سکتے۔
- اگر چینل پر دکھایا جانے والے مواد کا maturity level high ہے (کوئی فحش مواد دکھایا جا رہا ہے) تو اس چینل پر password لگ جاتا ہے ۔ password ڈالنے سے وہ چینل دیکھ سکتے ہیں ۔ یہ password اس سافٹ ویئر کے ذریعے سے سیٹ یا تبدیل کیا جا سکتا ہے، TV device کو کمانڈ بھیج کر۔
یہ5 اہم کام ہیں۔ ان میں سے جو 4 کام ہیں، جن میں کمانڈ بھیجی جاتی ہے، وہ کمانڈ یہ ڈائریکٹ tv device کو نہیں بھیجتا بلکہ یہ tv device اور content manage کرنے والی کمپنی کے server کو بھیجتا ہے اور وہ tv device کو کمانڈ بھیجتے ہیں ۔ یعنی یہ سافٹ ویئر خود tv device سے directly connect نہیں ہوتا۔
اس کے علاوہ یہ سافٹ ویئر کچھ اور بھی کام کرتا ہے۔ جیسے tv device کو لاک کرنا، ریفریش کرنا، device کے چینل exchange کرنا وغیرہ ۔
سوال: کیا ایسے سافٹ ویئر کو بنانا، اسے maintain (bug fixing , adding new feature etc.) کرنا جائز ہے ؟ اس نوکری کی تنجواہ حلال ہوگی؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پہلے اصولی جواب ملاحظہ ہو؛
1. اگرسافٹ ویئر بنانے والی کمپنی،جائز و ناجائزدونوں طرح کے کام کرنے والے اداروں کے لیے سافٹ ویئر بناتی ہو تو ایسی کمپنی میں ملازمت کرنا جائز ہے،لیکن ناجائز کاموں کے لیے سافٹ ویئر بناناجائز نہیں ہے،لہٰذا اس سے مکمل اجتناب کرنا چاہیے،البتہ اگر مجبوراً ناجائز کاموں کے لیے بننے والے سافٹ ویئرز میں خدمات دینی پڑیں تو ایسی صورت میں توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ اس کام میں خرچ ہونے والے وقت کے بقدر اپنی تنخواہ میں سےصدقہ کرنا لازم ہوگا۔
2. اگر سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی صرف ایسے سافٹ ویئر بناتی ہو جو ناجائز کام کرنے والی کمپنی میں،صرف ناجائز کاموں کے لیےہی استعمال ہوتے ہوں یا ان سافٹ ویئر کا استعمال جائز اور ناجائز دونوں طرح کے معاملات میں ہوتا ہو لیکن سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی ناجائز معاملات میں معاونت کی نیت سے معاملہ کرتی ہو ،اپنا سافٹ ویئر بیچتی ہو اور دیگرخدمات فراہم کرتی ہو یا عقد کرتے وقت مذکورہ سافٹ ویئر کے ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت کردی گئی ہو تو ایسی صورت میں ایسی سافٹ ویئر کمپنی میں ملازمت جائز نہیں،البتہ اگر وہ سافٹ ویئرز جائز معاملات میں بھی استعمال ہوتے ہوں اور عقد کرتے وقت، ناجائز معاملات میں استعمال کی صراحت نہ کی گئی ہواورنہ سافٹ ویئرز ناجائز معاملات مین تعاون کی نیت سے بیچے گئے ہوں اور نہ بیچتے وقت یہ معلوم ہو کہ ناجائز کام کرنے والی کمپنی ان سافٹ ویئرز کو لازماً ناجائز معاملات میں استعمال کرے گی تو ایسی صورت میں ایسی سافٹ ویئر بنانے والی کمپنی میں ملازمت کی گنجائش ہے ۔
رہی بات آپ کے سوال میں موجود تفصیل کے نتیجے میں آپ کی ملازمت اور آمدن کے حکم کی تو اس حوالے سے تفصیل یہ ہے کہ چونکہ آپ کا بنیادی کام آپ کی کمپنی کے کلائنٹ کو اس کے اپنے کام کی ضروریات کے موافق سافٹ ویئر بناکر دینے اور اس سے متعلقہ خدمات فراہم کرنے کا ہے تو اس میں بنیادی طور پر تین صورتیں بنیں گی؛
1) اگر کلائنٹ کا بنیادی کام جائز ہے اور اسے وہ جائز طریقے سے سرانجام دے رہا ہے تو اس کے کام کی انجام دہی میں سہولت کے لیے سافٹ ویئر بناکر دینا اور اس سے متعلقہ دیگر خدمات انجام دینے میں کوئی حرج نہیں،لہٰذا اس طرح کے سافٹ ویئر کے عوض ملنے والی آمدن کمپنی اور اس کےملازم دونوں کے لیے حلال ہوگی۔
2) اگر کلائنٹ کا بنیادی کام ناجائز ہو تو اسے اس کے کسی ناجائز کام کی انجام دہی کے لیے سافٹ ویئر بناکر دینا جائزنہیں ہےاور نہ اس کے عوض ملنے والی آمدن حلال ہوگی ۔
3) اگر کلائنٹ کا بنیادی کام مخلوط ہو یعنی کچھ کام اس کا ناجائز ہو اور کچھ کام جائز ہوتو ایسے کسی کلائنٹ کے لیے سافٹ ویئر بنانے کے حوالے سے بہتر تو یہ ہے کہ اجتناب کرے،البتہ ملازم ہونے کی حیثیت سے اگر کام کرنا پڑے تو پھر اس میں دو صورتیں ہیں؛
· پہلی صورت یہ ہے کہ سافٹ ویئر اس نوعیت کا ہوکہ اس کے کچھ مخصوص فیچرز ناجائز کام ہی کے لیے مختص ہوں،جیسے فحش مواد تک رسائی وغیرہ تو اس طرح کے فیچرز بناکردینا جائز نہیں ہے ،البتہ مجموعی طور پر اس طرح کے فیچرز بھی اگر مجبوراً ایڈ کرنے پڑیں تو توبہ استغفار کے ساتھ ساتھ اس کام میں خرچ ہونے والے وقت کے بقدر اپنی تنخواہ میں سےصدقہ کرنا لازم ہوگا۔
· دوسری صورت یہ ہے کہ سافٹ ویئر اس نوعیت کا ہو کہ اس کا کوئی فیچر ناجائز کام ہی کے لیےمختص نہ ہو بلکہ استعمال کرنے والے کے اختیار سے جائز وناجائز دونوں کام اس کے ذریعے کیے جاسکتے ہوں تو ایسے سافٹ ویئر بناکر دینا اور اس کے عوض تنخواہ لینا ابتدا میں بیان کردہ اصولی جواب کی دوسری شق کی تفصیل کے مطابق جائز ہے۔
درج بالا تفصیل کی روشنی میں مذکورہ پراجیکٹ یعنی ٹی وی چینل سے استفادے کے لیے کیبل آپریٹرز کو سافٹ ویئر بناکر دینے کے حوالے سے یہ تفصیل ہے کہ ہماری معلومات کے مطابق ٹی وی چینل بنیادی طور پر تین طرح کے کام کر رہے ہوتے ہیں؛
1) نیوز چینل
2) اسپورٹس
3) ڈرامہ اور فلم وغیرہ سے متعلق چینل
نیوز چینل سے استفادے کے لیے کیبل آپریٹرز کو سافٹ ویئر بناکردینے میں تو کوئی حرج معلوم نہیں ہوتا،اسپورٹس چینل کابھی معتد بہ حصہ فی نفسہ مباح معلوم ہوتا ہے ،اس لیے بظاہر اس سے متعلق سافٹ ویئر کی خدمات دینے میں بھی حرج نہیں،البتہ ڈرامہ اور فلم سے متعلق چینلز میں حرام ایکٹیوٹیز کا عمل دخل کافی ہوتا ہے،اس لیے اس طرح کے چینلز سے استفادے کے لیے کیبل آپریٹرزکو سافٹ ویئر بنا کر دینے کا حکم اوپر بیان کردہ دوسری(اگر کلائنٹ کا بنیادی کام ناجائز ہو۔۔۔) اور تیسری صورت(اگر کلائنٹ کا بنیادی کام مخلوط ہو۔۔۔) کے مطابق ہوگا۔
حوالہ جات
الدر المختار وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)
(و) جاز (بيع عصير) عنب (ممن) يعلم أنه (يتخذه خمرا) لأن المعصية لا تقوم بعينه بل بعد تغيره وقيل يكره لإعانته على المعصية ونقل المصنف عن السراج والمشكلات أن قوله ممن أي من كافر أما بيعه من المسلم فيكره ومثله في الجوهرة والباقاني وغيرهما زاد القهستاني معزيا للخانية أنه يكره بالاتفاق.
وحاشية ابن عابدين (رد المحتار) (6/ 391)
(قوله وجاز تعمير كنيسة) قال في الخانية: ولو آجر نفسه ليعمل في الكنيسة ويعمرها لا بأس به لأنه لا معصية في عين العمل.
(فقہ البیوع:۲/۱۰۳۱)
وقد اشتھر علی الألسُن أن حکم التعامل مع من کان مالُہ مخلوطا بالحلال والحرام أنہ اؔن کان الحلال فیھا أکثر،جاز التعامل معہ بقبول ھدیتہ وتعاقد البیع والشراء معہ،وبذٰلک صدرت بعض الفتاوی،ولکن مایتحقق بعد سبر کلام الفقہاء الحنفیۃ فی ھذا الموضوع أن اعتبار الغلبۃ انما ھو فیما اذا کان الحلال متمیزا عن الحرام عند صاحبہ،ولا یعلم المتعامل معہ أن مایعطیہ من الحلال أو من الحرام ،فحینئذ تعتبر الغلبۃ،بمعنی انہ ان کان اکثر مالہ حلالا،یفرض أن مایعطیہ من الحلال،والعکس بالعکس،کما قدمنا نصوصہ فی الصورۃ الاولی.أما اذا کان مخلوطا بالحرام دون تمییز أحدھما بالآخر،فانہ لا عبرۃ بالغلبۃ فی ھذہ الحالۃ فی مذھب الحنفیۃ، بل یحل الانتفاع من المخلوط بقدر الحلال، سواء اکان الحلال قلیلا ام کثیرا.
(الاختیار لتعلیل المختار:۳/۶۱)
والملک الخبیث ،سبیلہ التصدق بہ…
(فقہ البیوع:۱/۱۹۴)
قال الشیخ المفتی محمد تقی العثمانی حفظہ اللہ :ویتلخص منہ، أن الانسان اذا قصد الاعانۃ علی المعصیۃ باحدی الوجوہ الثلاثۃ المذکورۃ(أن یقصد الاعانۃ علی المعصیہ،بتصریح المعصیۃ فی صلب العقد،بیع اشیاء لیس لھا مصرف الا فی المعصیۃ)، فان العقد حرام لا ینعقد والبائع آثم۔اما اذا لم یقصد ذٰلک، وکان البیع سببا للمعصیۃ، فلا یحرم العقد ،ولکن اذا کان سببا محرکا، فالبیع حرام ،وان لم یکن محرکا ، وکان سببا قریبا بحیث یستخدم فی المعصیۃ فی حالتھا الراھنۃ ، ولا یحتاج الی صنعۃ جدیدۃ من الفاعل کرہ تحریما والا فتنزیھا…
وکذٰلک الحکم فی برمجۃ الحاسب الآلی (الکمبیوتر)لبنک ربوی، فان قصد بذٰلک الاعانۃ، او کان البرنامج مشتملا علی مالا یصلح الا فی الاعمال الربویۃ،أو الأعمال المحرمۃ الأخری،فان العقد حرام باطل.أما اذا لم یقصد الاعانۃ ،ولیس فی البرنامج ما یتمحض للأعمال المحرمۃ ،صح العقد وکرہ تنزیھا.
محمد حمزہ سلیمان
دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی
11.جمادی الاولیٰ1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان | مفتیان | سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب |


