| 88904 | میراث کے مسائل | میراث کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ایک صاحب کا انتقال ہوا ان کے ورثہ میں ایک بیوہ ہے اور کچھ بیٹے اوربیٹیا ں ہیں اور مر حوم نے جو ترکہ چھوڑ حوم کےدکان سے کرایا آ تاہے ا ہےاس میں ایک مکان ااور دکان ایسی ہے جس کا کرایہ بھی آتا ہے ۔تو اب بیٹے یہ کررہے ہیں کہ ایک بیٹا مکان کا کرایہ لے رہا ہے اور دوسرا دکان کا کرایہ لے رہا ہے ،جتہ کی سارا کرایا دوبھائی رکھےتس میں سے وہ کچھ رقم اپنی والدہ کو بھی دے دیتے ہیں۔لیکن بہنوں سے انہوں نے یہ کہا ہوا ہے کہ جب یہ فروخت ہوں گے تو وراثت میں آپ کا حصہ ہے وہ ہم آپ کو دے دیں گے ۔تو سوال یہ ہے کہ والد صاحب کی پراپرٹی میں سے کوئی اگر بعد میں خریدی گئی دکان ہے یا اس وقت موجود تھی یا کوئی مکان ہے تو کیا اس کا جو کرایہ ا ٓرہا ہے اس میں بہنوں کا بھی حصہ بنتا ہے ؟یعنی مرحوم کی بیٹیوں کا بھی حصہ بنتا ہے یا نہیں بنتا ؟۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
صورت مسئولہ میں بہنوں کو بھی کرائے سے حصہ دیا جائے گا،اس لیے کہ کسی بھی انسان کی وفات کے بعد اس کا کل مال وارثہ کی طرف منتقل ہو جاتا ہےاور اس مال کے ہر ہر جزءکے ساتھ تمام ورثہ کا حق متعلق ہو جاتا ہے،خواہ وہ مال کسی بھی شکل میں ہو۔نیزاس کرائے سےاگر کوئی چیز خریدی جائے گی تو وہ بھی مشترک ہوگی اور اس میں بھی مرحوم کی بیٹیوں کا حق ہوگا۔
حوالہ جات
الفتاوى التاتارخانية(20/213):فنقول:لا شك أن أعيان الأموال يجري فيها الإرث.
البحرالرائق(8/557) المراد من التركة:ماتركه الميت خاليا عن تعلق حق الغير بعينه.
ردالمحتارعلى الدر المختار(10/497):
(ثم يقسم الباقي)بعد ذلك(بين ورثته)أي الذين ثبت إرثهم بالكتاب أو السنة.ردالمحتار:قوله : (الذين ثبت إرثهم بالكتاب)أي القرآن، وهم الأبوان والزوجان والبنون والبنات والإخوة والأخوات .
محمدوجیہ الدین
دارالافتاءجامعہ الرشیدکراچی
10/جمادالاولی/1447
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | محمد وجیہ الدین بن نثار احمد | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


