03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کسی سے بھی رابطے کی کوشش کی تو تم مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاؤ گی تو کیاسوشل میڈیا پر کسی کو فرینڈ لسٹ میں شامل کرنے سے طلاق واقع ہوگی؟
88925طلاق کے احکامطلاق کو کسی شرط پر معلق کرنے کا بیان

سوال

میری شادی کو تین سال ہو چکے ہیں اور ان تین سالوں میں میری بیوی سے میرے روابط کچھ اچھے نہیں تھے۔ گزشتہ کچھ عرصے سے میری بیوی میرے آفس میں لوگوں سے رابطے کر کے  میری جاسوسی کر رہی تھی جب مجھے علم ہوا تو میں سخت ناراض ہوا اور اسے ایک طلاق دے دی جس پر میں نے اس شرط پر رجوع کیا کہ آج کے بعد اگر میرے دفتر میں کسی ایک بندے سے بھی رابطے کی کوشش کی تو تم مجھ پر ہمیشہ کے لیے حرام ہو جاؤ گی (میرے الفاظ یہی تھے جو میں نے ذکر کیے) ۔ بعد ازاں میری بیوی نے اپنی ایک الگ نام سے ٹک ٹاک آئی ڈی بنا کر میرے آفس کی ایک لڑکی کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہوئی اور مزید اسکی بہنوں کی آئی ڈی میں بھی شامل ہوئی  اور وہاں اس نے میری اور اپنی تصاویر سٹوری کی صورت میں اپلوڈ کیں تا کہ وہ خواتین دیکھ سکیں۔۔۔ مختصر یہ کہ میری بیوی پہلے بھی کچھ آفس کی خواتین سے رابطے کی کوشش کرتی رہی تھی اور ایک طلاق اور میری مندرجہ بالا شرط کے باوجود بھی اس نے یہ ٹک ٹاک والی حرکت کی۔ براہ کرم راہنمائی فرمائیں کہ اسکی اس حرکت سے جو ٹک ٹاک پر کی اس سے طلاق واقع ہوگی یا نہیں؟ اور کس قسم کی احتیاط کریں کہ طلاق واقع نا ہو۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

 ٹک ٹاک پر آپ کی بیوی کا آپ کے دفتر کے ملازمین کی فرینڈ لسٹ میں شامل ہونا اور پھر اپنی ٹک ٹاک آئی ڈی پر اپنی اور آپ کی تصویر اپلوڈ کرنا، رابطہ کرنے کی کوشش شمار ہوگی لہذا آپ کی بیوی پر ایک طلاق بائن واقع ہوگئی ہے۔ اب آپ عدت کے دوران ازخود رجوع نہیں کرسکتے، البتہ اگر آپ دونوں باہمی رضامندی سے دوبارہ نکاح کرنا چاہیں تونئے مہر کے ساتھ دو گواہوں کی موجودگی میں نکاح کرسکتے ہیں۔ لیکن یاد رہے دوبارہ نکاح کرنے کے بعد آپ کے پاس صرف ایک طلاق کا اختیار باقی رہے گا، اگر پھر کبھی طلاق دی تو نکاح ہمیشہ کے لیے ختم ہوجائے گا۔

حوالہ جات

رد المحتار علی الدر المختار لابن عابدین  (4/ 447)

مطلب ‌الصريح ‌نوعان رجعي وبائن ففي البدائع أن ‌الصريح ‌نوعان: صريح رجعي، وصريح بائن. فالأول أن يكون بحروف الطلاق بعد الدخول حقيقة غير مقرون بعوض ولا بعدد الثلاث لا نصا ولا إشارة ولا موصوف بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف ولا مشبه بعدد أو صفة تدل عليها. وأما الثاني فبخلافه، وهو أن يكون بحروف الإبانة  و بحروف الطلاق، لكن قبل الدخول حقيقة أو بعده، لكن مقرونا بعدد الثلاث نصا أو إشارة أو موصوفا بصفة تنبئ عن البينونة أو تدل عليها من غير حرف العطف، أو مشبها بعدد أو صفة تدل عليها.

رد المحتار علی الدر المختار لابن عابدین (4/450)

(قوله: ومن الالفاظ المستعملۃ الطلاق یلزمنی ... وعلی الحرام  فيقع بلا نية للعرف) أي فيكون صريحا لا كناية، بدليل عدم اشتراط النية وإن كان الواقع في لفظ الحرام البائن لأن الصريح قد يقع به البائن كما مر، لكن في وقوع البائن به بحث سنذكره في باب الكنايات، وإنما كان ما ذكره صريحا لأنه صار فاشيا في العرف في استعماله في الطلاق لا يعرفون من صيغ الطلاق غيره ولا يحلف به إلا الرجال، وقد مر أن الصريح ما غلب في العرف استعماله في الطلاق بحيث لا يستعمل عرفا إلا فيه من أي لغة كانت، وهذا في عرف زماننا كذلك فوجب اعتباره صريحا كما أفتى المتأخرون في أنت علي حرام بأنه طلاق بائن للعرف بلا نية مع أن المنصوص عليه عند المتقدمين توقفه على النية۔

الدر المختار و حاشیۃ ابن عابدین (4/578)

باب التعليق (هو) لغة من علقه تعليقا.قاموس: جعله معلقا. واصطلاحا (ربط حصول مضمون جملة بحصول مضمون جملة أخرى) ويسمى يمينا مجازا وشرط صحته كون الشرط معدوما على خطر الوجود؛ فالمحقق كإن كان السماء فوقنا تنجيز، والمستحيل كإن دخل الجمل في سم الخياط لغووكونه متصلا إلا لعذر وأن لا يقصد به المجازاة، فلو قالت يا سفلة فقال: إن كنت كما قلت فأنت كذاتنجيز كان كذلك أو لا وذكر المشروط، فنحو أنت طالق إن لغو به يفتى ووجود رابط حيث تأخر الجزاء كما يأتي(شرطه الملك) حقيقة كقوله لقنه: إن فعلت كذا فأنت حر أو حكما، ولو حكما (كقوله لمنكوحته) أو معتدته (إن ذهبت فأنت طالق) .

زبیر احمد بن شیر جان

دارالافتاء جامعۃ الرشیدکراچی

12/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب