03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مستحاضہ کی عادت تبدیل ہونے کا حکم
88886پاکی کے مسائلاستنجاء کا بیان

سوال

ایک عورت کی صحت کی حالت میں عادت21 دن پاکی اور6 دن حیض کی تھی، ہارمونز کی خرابی کی وجہ سے اب کئی ماہ سے مستقل خون آ رہا ہے، اب دوائی شروع کی ہے، جس سے عادت کے مطابق 21 دن کےلیے خون روکنا ہوتا ہےاور دوا بند کرنے پر 6 دن حیض آنا ہوتا ہے،بعض مرتبہ دوائی کی وجہ سے ایام طہر و حیض میں فرق آتا ہے،جب دوا بند کر دے یا دوا کا اثر خراب ہو جائے تو پھر مستقل خون دس دن سے تجاوز کر جاتا ہے۔اس صورت میں حیض اور طہر حالتِ صحت کے مطابق ہوگا یا دس دن تک حیض اور دس سے زیادہ دن ہونے پر عادت کے مطابق حیض کے دن شمار کرے گی؟یا کوئی الگ حکم ہوگا؟نیز صورتِ مسئولہ کی فقہی تکییف کیا ہو گے؟ مستحاضہ معتادہ؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

صورتِ مسئولہ میں عورت کی عادتِ اصلیہ (جوشروع سے چلی آرہی ہو)اکیس  دن پاکی اور چھ دن حیض کی تھی، بعد میں مسلسل خون آنے کی وجہ سے وہ مستحاضہ ہو گئی اور مستحاضہ کا حکم یہ ہے کہ وہ ہر ماہ میں اپنی سابقہ عادت کے مطابق حیض اور باقی ایام میں آنے والے خون کو استحاضہ سمجھے گی، اس کے بعد جب دوائی استعمال کرنا شروع کی تو عادتِ اصلیہ کے مطابق اکیس دن پاکی اور چھ دن حیض آتا رہا، اور اب کبھی کبھار ایام طہر و حیض میں فرق آنے کا حکم یہ ہے کہ اگر ایام ِعادت میں خون دس دن سے اوپر چلا جاتا ہے تو اس صورت میں سابقہ عادت کے مطابق چھ دن حیض اور بقیہ ایام پاکی کے شمار ہوں گے اور اگر کبھی خون دس دن سے کم مثلا سات دن پر بند ہو جائے تو امام ابویوسف رحمہ اللہ کے قول کے مطابق یہی عادت بن جائے گی اور سابقہ عادتِ اصلیہ ختم ہو شمار ہو گی، علامہ شرنبلالی، علامہ ابن نجیم اور علامہ حصکفی رحمہم اللہ وغیرہ نے اس پر فتوی کی تصریح کی ہے، لہذا اس کے بعد اگر دوبارہ کسی ماہ خون دس دن سے بڑھ جائے تو آخری عادت یعنی سات دن کے مطابق حیض اور بقیہ خون  استحاضہ شمار ہو گا۔

اور یہ عورت فقہی اعتبار سے مستحاضہ معتادہ شمار ہوگی، معتادہ اس لیے کہ اس کے ایام حیض کی تعداد اور وقت معلوم ہے اور مستحاضہ اس لیے کہ دوائی استعمال نہ کرنے کی صورت میں اس کو خون جاری رہتا ہے، لہذا ہر مرتبہ یہ عورت سابقہ ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق عمل کرے گی۔

حوالہ جات

المبسوط للسرخسي (3/ 185) الناشر: دار المعرفة – بيروت:

 أن العادة الأصلية لا تنتقض برؤية المخالف مرة واحدة إلا على قول أبي يوسف - رحمه الله تعالى - حتى إذا كانت عادتها في الحيض خمسة، وفي الطهر عشرين فطهرت خمسة عشر ثم استمر بها الدم فعلى قول أبي حنيفة ومحمد رحمهما الله تعالى تصلي من أول الاستمرار خمسة تمام عادتها في الطهر، وعلى قول أبي يوسف - رحمه الله - تدع من أول الاستمرار خمسة، وقد انتقلت عادتها في الطهر إلى خمسة عشر بالرؤية مرة واحدة.

تبيين الحقائق شرح كنز الدقائق وحاشية الشلبي (1/ 64) المطبعة الكبرى الأميرية - بولاق، القاهرة:

إذا رأت الدم ابتداء قيل لا تترك الصلاة والصوم؛ لأنه يحتمل أن يكون دم استحاضة بالنقصان عن ثلاثة أيام وقيل تترك لما قلنا وهو الصحيح، ثم العادة لا تثبت إلا بمرتين عند أبي حنيفة ومحمد وقال أبو يوسف تثبت بمرة واحدة قال - رحمه الله –

حاشية الشرنبلالي على درر الحكام شرح غرر الأحكام (1/ 43) الناشر: دار إحياء الكتب العربية:

قوله: أو على عادة عرفت لهما) أقول لم يتعرض لما تثبت به العادة وقال الخلاصة، والكافي: الفتوى على قول أبي يوسف في ثبوت العادة بمرة واحدة وعندهما لا بد من الإعادة لثبوت العادة.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 224) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

 وإنما الخلاف في أنه يصير عادة لها أو لا إلا إن رأت في الثاني كذلك، وهذا بناء على نقل العادة بمرة أو لا فعندهما لا وعند أبي يوسف نعم وفي الخلاصة والكافي أن الفتوى على قول أبي يوسف، وإنما تظهر ثمرة الاختلاف فيما لو استمر بها الدم في الشهر الثاني فعند أبي يوسف يقدر حيضها من كل شهر ما رأته آخرا وعندهما على ما كان قبله.

البحر الرائق شرح كنز الدقائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (1/ 225) الناشر: دار الكتاب الإسلامي:

اختلفوا في العادة الجعلية إذا طرأت على العادة الأصلية هل تنتقض الأصلية قال أئمة بلخ لا؛ لأنها دونهاوقال أئمة بخارى نعم؛ لأنها لا بد أن تتكرر في الجعلية خلاف ما كان في الأصلية

فإن المرأة متى كانت عادتها الأصلية في الحيض خمسة فلا تثبت العادة الجعلية إلا برؤية ستة وسبعة وثمانية ويتكرر فيها خلاف العادة الأصلية مرارا فالعادة الأصلية تنتقل بالتكرار بخلافها، كذا في المحيط وفي المجتبى والعادة تنتقل عند أبي يوسف بأحد أمور ثلاثة بعدم رؤية مكانها مرة وبطهر صحيح صالح لنصب العادة يخالف الأول مرة ودم صالح مخالف مرة وعندهما بتكرر هذه الأمور مرتين على الولاء اه.

الدر المختار وحاشية ابن عابدين (1/ 300) الناشر: دار الفكر-بيروت:

(والزائد) على أكثره (استحاضة) لو مبتدأة؛ أما المعتادة فترد لعادتها وكذا الحيض، فإن انقطع على أكثرهما أو قبله فالكل نفاس. وكذا حيض إن وليه طهر تام وإلا فعادتها وهي تثبت وتنتقل بمرة به يفتى، وتمامه فيما علقناه على الملتقى.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب