| 88878 | جائز و ناجائزامور کا بیان | جائز و ناجائز کے متفرق مسائل |
سوال
السلام علیکم ورحمة الله وبرکاته محترم مفتیانِ کرام! میں درج ذیل مالی معاملے کے بارے میں شرعی رہنمائی چاہتا ہوں تاکہ یہ واضح ہو جائے کہ اس میں سود (ربا) یا کوئی غیر شرعی پہلو شامل تو نہیں۔ سال 2015 میں میری والدہ نے اپنے بھائی (یعنی میرے ماموں) کو سونا بطور قرض (قرضِ حسنہ) دیا تھا، جس کی کل مقدار تقریباً 16 تولے تھی۔ اس وقت ایک تولہ سونا کی قیمت تقریباً پچاس ہزار روپے تھی۔ ماموں نے وعدہ کیا تھا کہ وہ ایک سال بعد اتنی ہی مقدار (یعنی 16 تولے سونا) واپس کر دیں گے۔ بعد میں انہوں نے وہ سونا فروخت کر کے ایک فارمیسی (ادویات کی دکان) قائم کر لی۔ کئی سال بعد جب والدہ نے سونا واپس طلب کیا تو ماموں نے کہا کہ چونکہ اب سونا کی قیمت بہت زیادہ ہو چکی ہے، لہٰذا وہ فوراً پورا سونا واپس کرنے کے قابل نہیں۔ انہوں نے یہ طریقہ تجویز کیا کہ: “آپ جب بھی میرے اسٹور سے کوئی دوا لینا چاہیں تو قرض پر لے لیا کریں، جب میں سونا واپس کروں گا تو دوائی کا قرض آپ مجھ کو ادا کر دینا، اور وہ رقم میں سونا خریدنے کے لیے استعمال کروں گا۔” اس تجویز کے مطابق پچھلے پانچ سالوں سے ہم ان کی فارمیسی سے دوائی قرض پر لیتے رہے، اور اب تک تقریباً دو لاکھ روپے کی دوائی ہم ان سے لے چکے ہیں۔ اب موجودہ وقت میں جب سونا تقریباً چار لاکھ روپے فی تولہ ہے، ماموں نے ایک تولہ سونا واپس کر دیا ہے۔ انہوں نے حساب اس طرح کیا کہ: اس وقت ان کے پاس دو لاکھ روپے اپنی طرف سے موجود تھے، ہم نے دو لاکھ روپے دوائی کے قرض کے طور پر واپس کیے، ان دونوں رقموں (کل چار لاکھ) سے انہوں نے ایک تولہ سونا خریدا اور والدہ کو واپس کر دیا۔ اب ایک تولہ سونا ادا ہو چکا ہے، جبکہ باقی 15 تولے سونا ابھی ماموں کے ذمہ ہیں، اور آئندہ بھی وہ اسی اصول پر ادا کرنے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ سوالات برائے فتویٰ: کیا اس پورے معاملے (سونا قرض دینے، دوائی قرض پر لینے، اور دو قرضوں کی اس طرز کی ادائیگی) میں سود (ربا) یا کوئی غیر شرعی پہلو شامل ہے؟ اگر اس میں کوئی شبہ یا قباحت ہے تو برائے کرم اس کی درست شرعی صورت ارشاد فرمائیں تاکہ ہم اسی کے مطابق عمل کریں۔ کیا اس طرح ماموں کا اپنے اور ہمارے ادا کردہ پیسے ملا کر سونا خرید کر واپس کرنا شرعاً درست مصالحت (settlement) شمار ہوگا؟ اللہ تعالیٰ آپ حضرات کو علم و عمل میں برکت عطا فرمائے اور ہمیں صحیح شرعی راہنمائی نصیب فرمائے۔ جزاکم الله خیراً
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
سوناجتنی مقدار اورجس کیرٹ کاقرض لیاہے اتنی ہی مقدار اوراسی کریٹ کا واپس کرناضروری ہےچاہےسونے کی قیمت میں کتناہی اضافہ ہواہو۔الایہ کہ فریق ثانی کم کیرٹ کے سونے کو قبول کرلے توبھی قرض اداہوجائے گا۔
سوال میں ذکرکردہ صورت اگر جبر نہ ہو اورادویات کی ادھار قیمت میں کوئی بڑی رعایت نہ ہو بلکہ مارکیٹ ریٹ پر دوائی دی جائے تواس کی گنجائش ہے،اور یہ معاملہ درست ہے۔
حوالہ جات
حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي (5/161):
(عقد مخصوص) أي بلفظ القرض ونحوه (يرد على دفع مال) بمنزلة الجنس (مثلي) خرج القيمي (لآخر ليرد مثله) خرج نحو وديعة وهبة.
المبسوط للسرخسي (2/210):
الأصل بأن الديون تقضى بأمثالها.
الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية (3/202):
من آخر لو استقرض حنطة فأعطى مثلها بعدما تغير سعرها فإنه يجبر المقرض على القبول كذا في مختار الفتاوى.
بحوث في قضايافقهية معاصرة(ص:170):
والذي يتحقق من النظر في دلائل القرآن والسنة،ومشاهدة معاملات الناس ،أن المثلية المطلوبة في القرض هي المثلية في المقدار والكمية، دون المثلية في القيمة والمالية. ويدلُّ على ذلك دلائل : ١ - لو اقترض الرَّجل صاعاً من الحنطة وقيمتها يومئذ خمس ربيات مثلاً ، فلم يؤدّها إلى المقرض إلا بعدما صارت قيمتها ربيتين فحسب، فإنه لا يردّ إلى المقرض إلا صاعاً واحداً،رغم أن مالية الصاع الواحد قد انتقصت من خمس ربيات إلى ربيتين.
عزیزالرحمن
دارالافتاءجامعۃالرشیدکراچی
12جمادی الاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عزیز الرحمن بن اول داد شاہ | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


