03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
چار بیٹے ،دو بیٹیوں اور زوجہ کے درمیان میراث کی تقسیم
88915میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

صورت مسئلہ  یہ ہے کہ تقریبا 5 مرلہ کا ایک مکان ہے اس کی قیمت 85,00,000 (پچاسی لاکھ) ہے اب اس کو وارثوں میں تقسیم کرنا ہے ،ورثہ میں ہم  چار بھائی ،دو بہنیں ہماری والدہ )میت کی بیوی )ہے اس  ترکہ کو کیسے تقسیم کرنا ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

آپ کے والدنے اپنے انتقال کے وقت جوجائیداد،نقد رقم، سونا، چاندی، مکان، کاروبار ، راشن، ضرورت کی اشیاء، فرنیچر و برتن اور کپڑے وغیرہ غرض جو کچھ چھوٹا بڑا ساز و سامان چھوڑا ہے، یا اگر کسی کے ذمہ ان کا قرض تھا، وہ سب ان  کا ترکہ ہے،۔اس میں سے سب سے پہلے ان کی تجہیز و تکفین کےمتوسط اخراجات نکالے جائیں گے، بشرطیکہ یہ اخراجات کسی نے بطورِ احسان ادا نہ کیے ہوں۔ اس کے بعد دیکھا جائے گا، اگر ان کے ذمے کسی کا قرض ہو تو وہ ادا کیا جائے گا۔ اس کے بعد اگر انہوں نے کسی غیر وارث کے حق میں کوئی جائز وصیت کی ہو تو ایک تہائی ترکہ کی حد تک اس کو پورا کیا جائے گا۔ اس کے بعد جو کچھ بچے  اس میں سے فیصدی اعتبار سے میت کی بیوی کو 12.5%اور میت کی ہر ایک بیٹی کو8.75%  اور  ہر ایک بیٹے کو  17.5%  ملے گا۔صورت مذکورہ میں والدہ کو دس لاکھ باسٹھ ہزار  پانچ سوروپے (10,62,500)ملیں گے ،ہر ایک بہن کو سات لاکھ  تینتالیس ہزار سات سو پچاس روپے(743750) ملیں گے،اور ہر ایک بھائی کو چودہ لاکھ ستاسی ہزار چھ سو روپے (14,87,600) ملیں گے۔یاد رہے کہ  اگر فوری طور پر یہ تقسیم نہ ہوگی تو جب بھی تقسیم ہوگی اس وقت کی قیمت کے حساب سے تقسیم کی جائے گی۔

ورثہ

زوجہ

بیٹا

بیٹا

بیٹا

بیٹا

بیٹی

بیٹی

عددی حصہ

10

14

14

14

14

7

7

فیصدی حصہ

12.5%

17.5%

17.5%

17.5%

17.5%

8.75%

8.75%

حوالہ جات

يوصيكم الله في أولادكم للذكر مثل حظ الأنثيين(النساء:11)

 ولهن الربع مما تركتم إن لم يكن لكم ولد فإن كان لكم ولد فلهن الثمن مما تركتم (النساء:12)

 احسان اللہ گل محمد

 دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی

10/جمادی الاولی 7144ھ  

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

احسان ولد گل محمد

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب