03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
کہاوت ”مال عورت کے نصیب سے اور اولاد مرد کے نصیب سے” کی حقیقت
88898متفرق مسائلمتفرق مسائل

سوال

میرا سوال یہ ہے کہ ایک کہاوت مشہور ہے کہ مال عورت کے نصیب سے اور اولاد مرد  کے نصیب سے آتی ہے۔ اس بات میں کتنی سچائی ہے قرآن و حدیث فقہاء کی تعلیمات روشنی میں بتائے اور اگر غلط ہے تو قرآن و حدیث فقہاء کی تعلیمات روشنی میں دلائل مہیا کریں برائے کرم۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

یہ جملہ دراصل ایک عوامی کہاوت (محاورہ) ہے کوئی مسلمہ اصول نہیں،اولاد میاں بیوی دونوں کا نصیب ہوتا ہے، جبکہ رزق ہر ایک کا پہلے سے ہی متعین و مخصوص ہے۔ جیسا کہ حدیث مبارکہ میں آتا ہے کہ انسان جب ماں کے پیٹ میں ہوتا ہے تو چار چیزیں اس کے متعلق لکھی جاتی ہیں اس میں سے ایک رزق بھی ہے۔ اور رزق کا معنی عام ہے اس میں مال، اولاد شامل ہے ، لہذا اس سے معلوم ہوتا ہے کہ انسان کے پیدا ہونے سے پہلے اس کا رزق لکھا جا چکا ہوتا ہے۔

 باقی رزق میں برکت کے چند اسباب ہیں جس میں سے ایک سبب نکاح اور کثرت اولاد بھی ہے۔

حوالہ جات

القرآن المجید ( النور: 32)

قال الله تعالى: وانكحوا الايامى منكم والصالحين من عبادكم وامائكم ان يكونوا فقراء يغنهم الله من فضله

سنن الترمذي (4/ 216):

عن عبد الله بن مسعود، قال: حدثنا رسول الله صلى الله عليه وسلم وهوالصادق المصدوق: "إن أحدكم يجمع خلقه في بطن أمه في أربعين يوما...ويؤمر بأربع: يكتب رزقه وأجله وعمله وشقي أو سعيد

مجیب الرحمن بن محمد لائق

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

12/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

مجیب الرحمٰن بن محمد لائق

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب