03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
 عقداجارہ ختم ہونےپرپیشگی  لی ہوئی اجرت کی واپسی
88890اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائلکرایہ داری کے متفرق احکام

سوال

مالک مکان سے کرایہ داری معاہدہ ایک تاریخ سے لکھا تھا لیکن مالک مکان نے پانچ تاریخ تک مکان حوالے نہیں کیا اورکرایہ دار کی رضامندی سے تاریخ پانچ تک بڑھا دی ، اسی پانچ تاریخ کو کرایہ دار نے مکان کرایہ پر لینے سے کسی مجبوری کی وجہ منع کر دیا اس پر مالک مکان نے کہا کہ آپ کو ڈپازٹ تب واپس ملے گا جب دوسرا کرایہ دار آئے گا ، پندرہ دن بعد مالک مکان نے ڈپازٹ میں سے پورے ایک مہینے کا کرایہ کاٹ لیا، آپ سے یہ معلوم کرنا ہے کہ کیامالک کے لیے یہ کرایہ لیناجائز ہے؟

تنقیح:سائل نے فون بتایا کہ مالک نے ایک  تاریخ پر مکان حوالہ کرنے کا وعدہ کیاتھا پھر مقررہ مدت تک مکان تیار نہ ہونے کی وجہ سےکرایہ داری معاہدہ دونوں کی رضامندی سے ایک تاریخ کے بجائے پانچ تاریخ پرہوا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

اگرسائل کابیان حقیقت پرمبنی ہےتومالک مکان کے لیے یہ کرایہ  لیناجائزنہیں ہے،کیونکہ  مکان پرکرایہ دارکا قبضہ نہیں ہوا،اور معقودعلیہ پر قبضہ  کرنااجارہ کے نافذہونے کی شرائط میں سےہے۔لہذا اس صورت میں ایک مہینےکا کرایہ لینا شرعاًجائز نہیں  ،خاص طورپر جب کرایہ دار نے کسی مجبوری یا ضرورت کی وجہ سے مکان پرقبضہ کرنے سے پہلے ہی  مالک  کی رضامندی سے کرایہ داری کا معاہدہ ختم کردیاہو۔

 البتہ اگرمالک مکان کی جانب سےقبضےپرکوئی پابندی نہ تھی اوراس کےباوجودکرایہ دار مکان پر قبضہ نہیں کررہا تھا،تو ایسی صورت میں مالک مکان کرایہ کا مستحق ہوگا ۔

حوالہ جات

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية: (4/ 411)

(وأما شرائطها) فأنواع بعضها شرط الانعقاد وبعضها شرط النفاذ ومنها ‌تسليم ‌المستأجر ‌في ‌إجارة ‌المنازل ونحوها إذا كان العقد مطلقا عن شرط التعجيل عندنا حتى لو انقضت المدة من غير تسليم المستأجر لا يستحق شيئا من الأجر ولو مضى بعض المدة ثم سلم فلا أجر له فيما مضى.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع: (4/ 179)

ونعني ‌بالتسليم ‌التخلية والتمكين من الانتفاع برفع الموانع في إجارة المنازل ونحوها وعبيد الخدمة وأجير الوحد، حتى لو انقضت المدة من غير تسليم المستأجر على التفسير الذي ذكرنا لا يستحق شيئا من الأجر؛ لأن المستأجر لم يملك من المعقود عليه شيئا فلا يملك هو أيضا شيئا من الأجر؛ لأنه معاوضة مطلقة.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية

وكما يجب الأجر باستيفاء المنافع يجب بالتمكن من استيفاء المنافع إذا كانت الإجارة صحيحة حتى إن    المستأجر دارا أو حانوتا مدة معلومة ولم يسكن فيها في تلك المدة مع تمكنه من ذلك تجب الأجرة، كذا في المحيط.

حاشية ابن عابدين = رد المحتار ط الحلبي:( 6/11(

فيجب الأجر لدار قبضت ولم تسكن) لوجود تمكنه من الانتفاع.

الفتاوى العالمكيرية = الفتاوى الهندية:) 4/413(

‌فقالوا: ‌إن ‌كانت ‌الإجارة لغرض ولم يبق ذلك الغرض أو كان عذر يمنعه من الجري على موجب العقد شرعا تنتقض الإجارة من غير نقض كما لو استأجر إنسانا لقطع يده عند وقوع الأكلة أو لقطع السن عند الوجع فبرئت الأكلة وزال الوجع تنتقض الإجارة.

رشيدخان

دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی

12/جمادی الاولی/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

رشید خان بن جلات خان

مفتیان

فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب