03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مطاف میں نفلی طواف کرنے کی غرض سے احرام پہننے کا حکم
88921حج کے احکام ومسائلاحرام اور اس کے ممنوعات کا بیان

سوال

کیافرماتے ہیں علماء کرام اس مسئلہ کے بارے میں کہ

سعودی عرب کے موجودہ قوانین کے مطابق جو افراد بیرونِ ملک سے عمرہ ادا کرنے کے لیے آتے ہیں، وہ جب مکہ مکرمہ پہنچتے ہیں تو ان کا احرام پہلے سے بندھا ہوتا ہے۔ انہیں پہلے بیت اللہ شریف میں داخل ہو کر طواف ادا کرنے اور صفا و مروہ کی سعی مکمل کرنے کے بعد ہی منزل (ہوٹل یا قیام گاہ) پر جانے کی اجازت دی جاتی ہے تاکہ ان کا عمرہ فوراً مکمل ہو جائے۔

تاہم بعض اوقات ایسا ہوتا ہے کہ جب یہ زائرین بعد میں، یعنی دوسرے یا تیسرے دن دوبارہ بیت اللہ شریف میں طوافِ نفل یا طوافِ قدوم وغیرہ کے لیے آنا چاہتے ہیں، تو رش کی وجہ سے حکومت انہیں صرف اوپر کی منزل پر طواف کرنے کی اجازت دیتی ہے، نیچے (مطاف) میں جانے کی اجازت نہیں دیتی۔ کچھ لوگ ایسا کرتے ہیں کہ وہ دوبارہ احرام باندھ لیتے ہیں تاکہ یہ ظاہر کریں کہ وہ نئے عمرہ کے ارادے سے آئے ہیں، تاکہ انہیں نیچے (مطاف) میں طواف کرنے کی اجازت مل جائے۔ درحقیقت وہ عمرہ کی نیت سے احرام نہیں باندھتے بلکہ صرف نیچے طواف کرنے میں آسانی حاصل کرنے کے لیے احرام باندھتے ہیں۔

سوال نمبر 1: کیا کسی شخص کے لیے یہ جائز ہے کہ وہ صرف حکومت کو ظاہر کرنے کے لیے احرام باندھے تاکہ اسے نیچے طواف کی اجازت مل جائے، حالانکہ وہ عمرہ کی نیت نہیں رکھتا؟

سوال نمبر 2: اگر رش بہت زیادہ نہ ہو اور حکومت پھر بھی نیچے جانے کی اجازت نہ دے، اور بندہ مجبوری کے طور پر احرام باندھ کر نیچے طواف کرنے کے لیے جائے، تو کیا اس صورت میں ایسا کرنا جائز ہے یا نہیں؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

﴿١،۲﴾۔واضح رہے کہ آج کل سعودی حکومت کی جانب سے مطاف میں صرف عمرہ کا احرام باندھنے والوں کو طواف کی اجازت ہوتی ہے، نفلی طواف کرنے والوں کو وہاں طواف کرنے سے منع کیا جاتا ہے، چونکہ یہ قانون زائرین ہی کے سہولت اور ان کو اذیت سے بچانے کے لیے بنایا گیا ہے، لہذا اس قانون کی رعایت کرنی چاہیے، محض مطاف میں نفلی طواف کرنے کی غرض سے احرام کی چادریں باندھنا حقیقتِ حال کے برعکس ظاہر کرنا ہے جو کہ صحیح نہیں ہے، اس لیے اس سے اجتناب کرنا چاہیے، تاہم اگر کوئی شخص احرام کی چادریں پہن کر مطاف میں نفلی طواف کرلے تو اس کا طواف ادا ہوجائے گا۔

حوالہ جات

الدر المختار: (کتاب القضاء، 422/5، ط: سعید(

امر السلطان انما ینفذ إذا وافق الشرع وإلا فلا یتبع ولا تجوز مخالفته.

بدائع الصنائع: (99/7، ط: دار الكتب العلمية(

واذا أمر عليهم يكلفهم طاعة الأمير فيما يامرهم به وينهاهم عنه لقول الله تبارك وتعالي {يا أيها الذين آمنوا أطيعوا الله وأطيعوا الرسول وأولي الأمر منكم} [النساء: ٥٩] وقال عليه الصلاة والسلام:" اسمعوا وأطيعوا ولو أمر عليكم عبد حبشي أجدع ما حكم فيكم بكتاب الله تعالي" ولانه نائب الإمام وطاعة الإمام لازمة كذا طاعته؛ لأنه طاعة الإمام إلا أن يأمرهم بمعصية فلا تجوز طاعتهم إياه فيها لقوله الصلاة والسلام: "لا طاعة لمخلوق في معصية الخالق" ولو أمرهم بشيء لا يدرون أينتفعون به أم لا ؟ فينبغي لهم أن يطيعوه فيه إذا لم يعلموا كونه معصية ؛ لأن اتباع الإمام في محل الاجتهاد واجب كاتباع القضاة في مواضع الاجتهاد والله تعالي أعلم.

سیدحکیم شاہ عفی عنہ

دارالافتاء جامعۃ الرشید

14/5/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

سید حکیم شاہ

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب