| 88929 | تاریخ،جہاد اور مناقب کا بیان | متفرّق مسائل |
سوال
حضور نبی اکرم ﷺ نے اپنے کس ہاتھ (دائیں یا بائیں) کو حضرت عثمان رضی اللہُ تعالیٰ عنہ کا ہاتھ قرار دیا ؟
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
حضور ﷺ نے اپنے دائیں ہاتھ مبارک کو حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کا ہاتھ قرار دیا تھا ۔اس کی تفصیل یہ ہے کہ ماہ ذیقعدہ سن۶ ھ میں آپ ﷺ ایک ہزار چار سو صحابہ کرام رضی اللہ عنھم کے ساتھ عمرہ کے ارادے سے مکہ کی طرف روانہ ہوئے۔قریش نے مسلمانوں کو مکہ میں داخل ہونے سے روک دیا ،تو آپ ﷺ نے حدیبیہ کے مقام پر پڑاؤ ڈالا اورحضرت عثمان بن عفان رضی اللہ عنہ کو قریش کے ساتھ بات چیت کے لیے مکہ بھیجا۔جب حضرت عثمان رضی اللہ عنہ کی واپسی میں تاخیر ہوئی تو یہ افواہ پھیل گئی کہ انہیں شہید کر دیا گیا ہے ،اس خبر کو سنتے ہی آپﷺ نے فرمایا کہ جب تک عثمان رضی اللہ عنہ کا بدلہ نہ لے لیں گے یہاں سے نہیں جائیں گے ۔چناچہ اسی وقت آپﷺ ایک درخت کے نیچے بیٹھ گئے اور تمام صحابہ کرام سے جان نثاری کی بیعت لی۔آپ ﷺ نے اپنے دایاں ہاتھ حضرت عثمان کا ہاتھ قرار دے کر ان کی طرف سے بیعت لی اس بیعت کو بیعت رضوان کہا جاتا ہے ۔
حوالہ جات
صحيح البخاري (5/ 35): 3688
اخرجہ امام بخاری عن موسیٰ بن اسماعیل ………..وكانت بيعة الرضوان بعد ما ذهب عثمان إلى مكة، فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده اليمنى: "هذه يد عثمان فضرب بها على يده، فقال: هذه لعثمان"، فقال له ابن عمر: اذهب بها الآن معك.
سنن الترمذي (6/ 74):
اخرجہ امام ترمذی عن عثمان بن عبداللہ بن موھب …………وكانت بيعة الرضوان بعدما ذهب عثمان إلى مكة، قال: فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده اليمنى: هذه يد عثمان وضرب بها على يده، فقال: هذه لعثمان قال له: اذهب بهذا الآن معك.
فتح الباري لابن حجر (7/ 59 ط السلفية):
(فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم بيده اليمنى) أي أشار بها.
قوله: (هذه يد عثمان) أي بدلها، فضرب بها على يده اليسرى، فقال: هذه - أي البيعة - لعثمان أي: عن عثمان.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
12/جمادالاولیٰ 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


