| 88963 | اجارہ یعنی کرایہ داری اور ملازمت کے احکام و مسائل | دلال اور ایجنٹ کے احکام |
سوال
السلام علیکم مفتی صاحب میں ایک ڈیجیٹل مارکیٹر ہوں اور میں ڈیجیٹل ایڈز (اشتہارات)کا کام کرتا ہوں مفتی صاحب میرے پاس لوگ آتے ہیں وہ کہتے ہیں کہ ہمارے ٹیلی گرام چینل کے لیے ایڈ چلاؤ جو ان کاہوتا ہے فاریکس ٹریڈنگ کرپٹو کرنسی یا کسی اور چیز کے ریلیٹڈ (متعلق)تو وہ کہتے ہیں ہماری ان چیزوں کو پروموٹ کرو۔ مفتی صاحب وہ اس ایڈ میں مجھ سے کوئی شرط نہیں رکھتے صرف وہ کہتے ہیں ہمارے لیے ایڈ چلاؤ باقی انہیں سبسکرائب ملے نہ ملے ان کے پاس کوئی کلائنٹ آئے نہ آئے بس وہ مجھے ایڈچلانےکے پیسے دیتے ہیں تو کیا مفتی صاحب میں ان کے لیے ایڈ چلاسکتا ہوں اور جو اس سے ارننگ(کمائی) ہوگی وہ میرے لیے حلال ہوگی یا حرام ؟۔ جزاک اللہ
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
کسی ایسے ٹیلی گرام چینل کے لیےایڈ چلانا جائز ہے جس کی سرگرمی اور مواد شرعاً جائز ہو ، آپ ایسے ٹیلی گرام چینل کے لیے ایڈ چلاتے ہیں جس کی سرگرمی فاریکس ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی ہے ،اور تحقیق کے مطابق فاریکس ٹریڈنگ اور کرپٹو کرنسی کی ٹریڈنگ میں بالعموم شرعی شرائط کا لحاظ نہیں رکھا جاتا ہے ۔لہٰذا اس کی تشہیر کرنا بھی ناجائز ہے ۔ اورحاصل کردہ آمدن بھی حلال نہ ہوگی۔ )تبویبفتویٰ نمبر 84334)
حوالہ جات
وَلَا تَعَاوَنُواْ عَلَى ٱلإِثمِ وَٱلعُدوَٰنِ [المائدة:2]
الهداية في شرح بداية المبتدي (3/ 238):
ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي"؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد.
تكملة فتح القدير نتائج الأفكار في كشف الرموز والأسرار (9/ 98):
(ولا يجوز الاستئجار على الغناء والنوح، وكذا سائر الملاهي)؛ لأنه استئجار على المعصية والمعصية لا تستحق بالعقد.
الموسوعة الفقهية الكويتية (1/ 290):
108 - الإجارة على المنافع المحرمة كالزنى والنوح والغناء والملاهي محرمة وعقدها باطل لا يستحق به أجرة.ولا يجوز استئجار كاتب ليكتب له غناء ونوحا؛ لأنه انتفاع بمحرم. وقال أبو حنيفة: يجوز.ولا يجوز الاستئجار على حمل الخمر لمن يشربها، ولا على حمل الخنزير.
وسیم اکرم بن محمد ایوب
دارالافتاء جامعۃ الرشید ،کراچی
13/جمادالاولیٰ /1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | وسیم اکرم بن محمد ایوب | مفتیان | شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب |


