03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تصوف اورسلاسل تصوف (بالخصوص سلسلہ شاذلیہ )کی حقیقت اور شرعی حیثیت وحدود
88933تصوف و سلوک سے متعلق مسائل کا بیانمعجزات اور کرامات کا بیان

سوال

    ۱۔   اصلاح نفس کے لیے تصوف کیوں ضروری ہے اوراسلام میں تصوف اور  سلاسل تصوف کی شرعی حیثیت کیا ہے؟

   ۲۔    ہمارے اکابر خاص کر علماء دیوبند جہاں  چار وں سلاسل ( نقشبندیہ، چشتیہ، قادریہ ،سہروردیہ) میں خود بھی بیعت ہوئے اور دوسروں  بھی کرتے ہیں طریقہ شاذلیہ  میں کیوں بیعت نہیں   کرتے، حالانکہ شاذلیہ بھی تو اہل حق کے سلاسل میں سے ایک ہے؟

۳۔ کیا موجودہ دور میں  جو سلسلہ شاذلیہ  کے پیر ہیں وہ اہل حق کے ہاں مقبول  اور قابل اعتبار ہیں؟

۴۔ ہمارے بلوچستان کے بعض علماء  کراچی  میں سلسلہ شاذلیہ کے پیر سے  بیعت ہوئے ہیں اور عوام  اس طرف متوجہ ہوئے ہیں اور لوگ ہم سے پوچھتے ہیں ۔کیا ہم لوگوں کو اس سلسلہ تصوف  میں بیعت  ہونے کی اجازت دے سکتے ہیں؟

۵۔ اس سلسلے میں جہاں جہری ذکر کا اہتمام کیا جاتا ہے وہاں ایک خاص بات یہ بھی ہے کہ تعویذ اور دم کے ذریعہ جنات اور دیگر امراض  کے    علاج کی تعلیم بھی دی جاتی ہے اور علاج کا یہ سلسلہ  بڑے پیر سے لے کر مریدوں  تک تعلیما اور تعلما جاری رہتا ہے اور دم اور تعویذ   کے  تعلیم اور علاج کے  سلسلہ میں باقاعدہ  دورےکرائے جاتے ہیں ۔کیا یہ طریقہ کار  اس طرح  جائز یا مناسب ہے؟ اور سلسلہ ذکر کے موافق بھی ہے اور کیا اس میں بیعت ہونا جائز ہے؟

اس بارے میں  مستند فتوی یا اکابر میں سے کسی کی تحقیق  مطلوب ہے تاکہ  عوام کی بہتر رہنمائی ہوسکے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

تصوف کی ضرورت اور اہمیت:

بدن انسان دو چیزوں(جسم اور روح) کا مجموعہ ومرکب ہے۔جسم کا تعلق عناصر اربعہ سے ہونے کی بناء پر  مادہ سے ہے اور اس کی بناء وبقاء، صلاح وفساد مادی چیزوں  کے موافقت اور ناموافقت سے وابستہ ہے اور روح  ایک غیر مادی  شے ہے  جو درحقیقت امر ربی  سےہے، جو عالم بالا سے   تعلق رکھتی  ہے ،لہذا اس کی بقا وفنا ،صلاح وفساد کا تعلق بھی  غیر مادی  امور  کی موافقت اور ناموافقت  سے ہے،مادی چیزوں کی موافقت اور ناموافقت  تجربہ اور مشاہدہ   اور عقل سے معلوم ہوسکتی  ہے ، جبکہ  غیر مادی  امور کی موافقت اور ناموافقت کے لیے انسانی حواس اور عقل  کار آمد نہیں، کیونکہ روح انسانی عقل وحواس  کے حدود اور دائرہ سے  باہر ہے،لہذا اس کے لیے خود خالق روح  کی   روحانی تعلیم  وتبیین کی ضرورت ہے،جو مذہب کی شکل میں انسانوں کے پاس وحی کے ذریعہ ایک  معتبر نمائندہ  یعنی پیغمبر کے واسطہ سے دستیاب ہے۔

  جس طرح  ناموافق اشیاء کے استعمال سے جسم  کو بیماریاں لاحق ہوتی ہیں، اسی طرح  ناموافق  غیرمادی سرگرمیوں اور تعلقات کی وجہ سے روح  کو بھی بیماریاں لاحق ہوتی ہیں،جس طرح  جسمانی بیماریوں کی درستگی کو علاج   ومعالجہ کہا جاتا ہے اور اس کے لیے لوگ اس مرض کے ماہر حکیم ،معالج  ،ڈاکٹر وغیرہ  کے پاس جا کر اپنا علاج کرواتے ہیں تو روحانی امراض کے علاج  کو تصوف، تزکیہ، احسان  وسلوک وغیرہ  مختلف ناموں سے یاد کیا جاتا ہےاور ان کے علاج کے لیے قرآن وسنت کےحاملین و ماہرین  اہل اللہ  کی طرف رجوع  کا کہا جاتا ہے۔

مذہبی تعلیمات کے مطابق انسان کو اللہ تعالی نے اپنی عبادت کے لیے پیدا کیا ہے، لیکن عبادت چونکہ اللہ  تعالی کی مرضیات پر چلنے اور نامرضیات سے بچنے کا نام ہے اور جب ہم کسی دوسرے ہم جنس کی مرضی بھی از خود نہیں معلوم  کرسکتے تو اللہ جو ہمارے عقل وحواس کے دائرے سے ماوراء ہے اس کی مرضی تو بطریق اولی عقل سے معلوم نہیں ہوسکتی،لہذا اس کے لیے خود صاحب مرضی اللہ کی  تعلیم والقاء کی ضرورت تھی جو القاء روحانی کے ذریعہ  خاص بندوں ( پیغمبروں)کے واسطے سے معلوم ہوتی ہیں جن کا مجموعہ مذہب کہلاتا ہے ، اس طرح انسانوں کو اللہ بندگی اور عبادت کا مکلف بنایا گیا، اور عبادت سے مقصد بندوں کا اللہ تعالی کے ساتھ  عبدیت  ومحکومیت    کے تعلق  کو  پیدا اور مضبوط کرنا ہے، جس طرح تعلق کی ایک ظاہری شکل وصورت ہوتی ہے اور ایک اس کی  باطنی کیفت  ہوتی ہے، اسی طرح  ہر عبادت  کی ایک ظاہری  شکل ہوتی ہے، اور ایک باطنی کیفیت  ہوتی ہے،عبادات کی ظاہری شکل کا تعلق انسان کے ظاہری اعضاء سے ہوتا ہے ،جبکہ  باطنی کیفیت کا تعلق انسان کے روح  سے ہوتا ہے جس کا مرکز  قلب ہے۔ اسلام میں  مختلف ومتنوع تمام عبادات کی روح تعلق مع اللہ اور توجہ والتفات الی اللہ ہے۔ اسی  روحانی قلبی تعلق کی تکمیل وتزیین کے فنی ذریعہ  کو اصطلاحی نام کے طور پرتصوف اور سلوک  اورمقصد کے اعتبار سے شرعی طور پر قرآن وسنت میں تزکیہ اور احسان وغیرہ ناموں سے یاد کیا جاتا ہے۔چنانچہ قرآن مجید میں اللہ تعالی نے جابجا نبوت کے منصبی فرائض اور ذمہ داریوں کو بیان فرماتے ہوئے بنیادی طور پر تین   فرائض کو ذکر فرمایا ،پہلا فرض تلاوت آیات ، دوسرا فرض  تعلیم کتاب وحکمت جبکہ تیسرا فرض تزکیہ نفس بیان فرمایا ہے، چنانچہ ارشاد خداوندی ہے:

{يَتْلُو عَلَيْهِمْ آيَاتِكَ وَيُعَلِّمُهُمُ الْكِتَابَ وَالْحِكْمَةَ وَيُزَكِّيهِمْ} [البقرة: 129]

 حضرت مفتی محمد شفیع صاحب رحمہ اللہ تعالی معارف القرآن میں اس آیت کے تحت لکھتے ہیں کہ :

تیسرا فرض آنحضرت  صلی اللہ علیہ وسلم  کے فرائض منصبی میں تزکیہ ہے، جس کے معنی ہیں ظاہری وباطنی نجاسات سے پاک کرنا ،ظاہری نجاست سے تو عام مسلمان واقف ہیں، باطنی نجاسات سے کفر اور شرک ،غیر اللہ پر اعتماد کلی اور اعتقاد فاسد، نیز تکبر وحسد  ،بغض، حب دنیا وغیرہ ہیں۔

 اگرچہ علمی طور پر قرآن وسنت کی تعلیم میں ان سب چیزوں کا بیان آگیا ہے، لیکن تزکیہ کو آپ کا جدا گانہ فرض قرار دے کر اس طرف اشارہ کردیا گیا ہے کہ جس طرح محض الفاظ کے سمجھنے سے کوئی فن حاصل نہیں ہوتا، اسی طرح محض نظری وعلمی طور پر فن پر عبور حاصل ہونے سے  اس کا استعمال اور کمال حاصل نہیں ہوتا، جب تک کسی مربی کے زیر نظر اس کی مشق کر کے عادت نہ ڈالے، سلوک وتصوف میں کسی شیخ کامل کی تربیت کا یہی مقام ہے کہ قرآن وسنت میں جن احکام کو علمی طور پر بتلایا گیا ہے ان کی عملی عادت ذالی جائے۔(معارف:۱،ص۳۳۵)

چنانچہ قرآن مجید میں دوسری جگہ صراحت کے ساتھ اللہ  کی صحبت اختیار کرنےکا حکم دیا گیا ہے،چنانچہ ارشاد ہے:

{يَا أَيُّهَا الَّذِينَ آمَنُوا اتَّقُوا اللَّهَ وَكُونُوا مَعَ الصَّادِقِينَ} [التوبة: 119]

اس آیت میں حصول تقوی کا ذریعہ( جس کا دوسرا نام تزکیہ بھی ہے ) صادقین کی صحبت  اور معیت   خاصہ قرار دیا گیا ہےاور صادقین جن کے قول اور عمل میں صدق اور سچ کے جانب میں مکمل موافقت پائی جائے یعنی جن کی تمام باتیں   درست یعنی اللہ کی مرضیات کے مطابق ہوں اور  کردار بھی اس کے مطابق ہو ،چنانچہ مفتی محمد شفیع  رحمہ اللہ تعالی معارف القرآن (ج۴،ص۴۸۵)میں   اس آیت کی  تفسیر  میں لکھتے ہیں کہ

’ اس آیت میں عام مسلمانوں کو تقوی  کے لیے ہدایت فرمائی گئی ہے، اور کونوا مع الصادقین  میں اس طرف اشارہ  فرمایا گیا  کہ صفت تقوی حاصل ہونیکا طریقہ صالحین وصادقین کی صحبت ومجالست  اور عمل میں ان  کی موافقت ہے،۔۔۔۔۔ اس جگہ قرآن حکیم نے علماء  صلحاء کے بجائے صادقین کا لفظ اختیار فرماکر عالم وصالح کی پہچان بھی بتلادی ہے کہ صالح صرف وہی  ہوسکتا ہے جس کا ظاہر وباطن یکساں ہو، نیت وارادے کا بھی سچا ہو قول کا بھی سچا ہو عمل بھی سچا ہو۔‘

نیز صحبت کا اثر نہ صرف  یہ  کہ قرآن وسنت سے ثابت ہے ،بلکہ تجربہ اور مشاہدہ  سے بھی  مسلم ہے۔

تصوف  کی اقسام اور   تعریف :

تصوف  کی  تعبیری تعریف میں  بہت زیادہ اقوال  منقول ہے،چنانچہ فتاوی حدیثیہ میں  ایک ہزار تک اقوال کا قول منقول ہے اوراس کے بعد متعدد اقوال وعبارات  اس کی تعریف  اور اصطلاحی مفہوم میں نقل فرمائے ہیں،لیکن ان تمام اقوال میں  مقصدیت  میں کوئی اختلاف  نہیں،بلکہ صرف مختلف اعتبارات سے تعبیرات کا اختلاف ہے۔

الفتاوى الحديثية لابن حجر الهيتمي (ص: 233):

( وسئل ) نفع الله به ما حد التصوف والصوفي ولم سمي بذلك ومتى حدثت هذه التسمية

وما الفرق بين الصوفي وغيره من الفرق المنتمية للصوفية وما الفرق بين التصوف والفقر والزهد وبين الصوفي والمتصوف والمتشبه ( فأجاب ) بقوله اختلفت عبارة العارفين في حده على أكثر من ألف قول نظرا إلى شروطه وآدابه وغاياته وثمراته فحده سيد الطائفة الجنيد رضي الله عنه بأن يكون مع الله بلا علاقة وبأن يميتك الحق عنك ويحييك به وبأنه ذكر مع اجتماع ووجد مع استماع وعمل مع اتباع وأبو محمد رويم بأنه استرسال النفس مع الله على ما يريده وأبو محفوظ معروف الكرخي بأنه الأخذ بالحقائق واليأس مما في أيدي الخلائق وأبو علي الروذباري بأنه الإناخة على باب الحبيب وإن طرد وأبو محمد الحريري بأنه التحلي بكل خلق حسن سني والتخلي عن كل خلق دنئ واختلفت عبارتهم في حد الصوفي نظرا لذلك فحده الجنيد بأنه كالأرض يطرح عليها كل قبيح ولا يخرج منها إلا كل مليح وكان الأستاذ أبو علي الدقاق شرح ذلك بقوله أحسن ما قيل في هذا الباب قول من قال هذا طريق لا يصلح إلا لأقوام كنست بأرواحهم المزابل وأبو محمد سهل بن عبد الله بأنه من صفا من الكدر وتسل عن الكفر وانقطع إلى الله عن البشر واستوى عنده الذهب والمدر وذو النون بأنهم قوم آثروا الله على كل شيء فآثرهم على كل شيء واختلفوا أيضا في المنسوب إليه فقيل نسب للصفة التي كانت بمسجد النبي لفقراء المهاجرين وقيل إلى الصف الأول بين يدي الله عز وجل بارتفاع هممهم وإقبالهم على الله بقلوبهم وقيل إلى الصوف لأنه لباسهم غالبالكونه أقرب إلى الخمول والتواضع والزهد ولكونه لباس الأنبياء وقد جاء أن نبيناكان يركب الحمار ويلبس الصوف

واضح رہے کہ تصوف اور سلوک کے دو الگ الگ اعتبارات وحیثیات سے  دوالگ الگ مفہوم  ہیں ،(۱) ایک اصطلاحی (علمی وفنی) مفہوم،   وسیلہ کے طور پر(۲)دوسرا شرعی  (عملی) مفہوم ،مقصد کے طور پر۔

 فن تصوف بحیثیت  علمی واصطلاحی مفہوم:

 علم تصوف ایسے افعال  واقوال(تصورات ،اعمال وظائف، اشغال واوراد) کےجاننے یعنی   معلوم وحاصل کرنے اور ان  پرپابندی کرنے کا نام ہے، جن سے اعمال ظاہرہ کے ساتھ ساتھ اعمال باطنہ اور اخلاق کی اصلاح  ہو۔اس لحاظ سے فن تصوف   علوم  غیر مقصودہ  وآلیہ میں سے ہے۔(شرح  بریقہ محمودیہ)

فن تصوف بحیثیت  عملی و شرعی مفہوم:

علم  تصوف    عملی اور شرعی مفہوم کے اعتبار سے شریعت کے جملہ احکام ظاہرہ وباطنہ پر مکمل عمل پیرا ہونے اور اخلاق حسنہ سے  آراستہ اور اخلاق رذیلہ سے   مکمل دوری کا نام ہے، اس لحاظ سے تصوف یا تزکیہ  علوم  مقصودہ وعالیہ میں سے ہے۔

 اور اس کا طریقہ حصول  قرآن مجید نے اتباع و صحبت صالحین بیان فرمایا ہے، چنانچہ سورت فاتحہ میں صراط منعم علیہم کی تعبیر اور سورت توبہ میں معیت صادقین کی تاکید اس کی واضح دلیلیں ہیں اور صحابہ کرام  رضی اللہ عنہم اور تابعین وتبع تابعین  کا وجود اور فرق مراتب اس کی عملی تصویر اور دلیل تنویری  بھی ہے۔(مزید تفصیل کے لیے حضرت مفتی رشیداحمد لدھیانوی صاحب رحمہ اللہ تعالی کا وعظ( علم کے مطابق عمل کیوں نہیں ہوتا۔) ملاحظہ فرمائیں۔)

تصوف  میں افراط وتفریط:

تصوف  کی تعریفی تعبیرمیں اگرچہ بہت زیادہ اختلاف  منقول ہے،جیساکہ فتاوی حدیثیہ  کے حوالے سے  ایک ہزار تک اقوال کا قول گزرچکا ،لیکن اس بات پر  سب کا اتفاق ہے کہ اسلام میں تصوف کا وہ مفہوم وتصور نہیں جو رہبانیت کا ہے، چنانچہ قرآن وسنت کی واضح ارشادات کی روشنی میں اہل حق نے اس منفی  تصور کی پر زور الفاظ میں نفی وتردید فرمائی ہے اور اس بارے میں علامہ ابو الحسن ندوی رحمہ اللہ تعالی نے ایک کتاب عربی زبان میں لکھی ہے جس کا نام ربانیۃ لا رھبانیۃ ہے اور اس کا اردو ترجمہ تصوف اور سلوک یا تزکیہ واحسان کے نام سے شائع ہوچکا ہے۔جو قابل دید ہے۔

جہاں اہل علم نے تصوف کے مفہوم اور تصور کے طور پر اسلام  میں  رہبانیت کی نفی فرمائی ہے وہیں اس بات کی بھی تصریح کی ہے کہ تصوف اور سلوک یا طریقت  شریعت سے الگ کوئی چیز نہیں، بلکہ طریقت اور تصوف در حقیقت عین شریعت  پر چلنے کا نام ہے، چنانچہ  علم احکام کو فقہ ظاہر تو اس کے مقابلے میں ان احکام پر  عمل پیرا ہونے  اور اپنے اخلاق اور باطن کو سنوارنے کا نام فقہ باطن  اورعلم اخلاقیات  رکھا گیا ہے،بلکہ بہت سے اکابر اہل طریقت   نے اس بات کی تصریح فرمائی ہے کہ اگر کوئی تصوف اور طریقت کو شریعت سے جدا سمجھے تو یہ درحقیقت زندقہ اور الحاد ہے،چنانچہ  امام ربانی مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالی نے اپنی مکتوبات میں اس پر جابجا  کلام فرمایا ہے اور حضرت شیح الحدیث  مولانا محمد زکریا صاحب رحمہ اللہ تعالی نے بھی اس حوالے سے ایک کتاب شریعت اور طریقت کا تلازم  تصنیف فرمائی ہے، جو اپنے موضوع پر لاجواب اور بے نظیر کتاب ہے۔ اور حضرت رفاعی یا جنید بغدادی رحمہ اللہ تعالی کا مقولہ اہل طریقت میں معروف ہے کہ   کل حقیقۃ / طریقۃ ردتھا/خالفت الشریعۃ فھی زندقۃ۔

تفسير الألوسي (11/ 373، بترقيم الشاملة آليا):

وقد صرح الإمام الرباني مجدد الألف الثاني قدس سره العزيز في المكتوبات في مواضع عديدة بأن الإلهام لا يحل حراماً ولا يحرم حلالاً ويعلم من ذلك أنه لا مخالفة بين الشريعة والحقيقة والظاهر والباطن وكلامه قدس سره في المكتوبات طافح بذلك ، ففي المكتوب الثالث والأربعين من الجلد الأول أن قوماً مالوا إلى الإلحاد والزندقة يتخيلون أن المقصود الأصلي وراء الشريعة حاشا وكلا ثم حاشا وكلا نعوذ بالله سبحانه من هذا الاعتقاد السوء فكل من الطريقة والشريعة عين الآخر لا مخالفة بينهما بقدر رأس الشعيرة وكل ما خالف الشريعة مردود وكل حقيقة ردتها الشريعة فهي زندقة ، وقال في أثناء المكتوب الحادي والأربعين من الجلد الأول أيضاً في مبحث الشريعة والطريقة والحقيقة : مثلاً عدم نطق اللسان بالكذب شريعة ونفي خاطر الكذب عن القلب إن كان بالتكلف والتعمل فهو طريقة وان تيسير بلا تكلف فهو حقيقة ففي الجملة الباطن الذي هو الطريقة والحقيقة مكمل الظاهر الذي هو الشريعة فالسالكون سبيل الطريقة والحقيقة ان ظهر منهم في أثناء الطريق أمور ظاهرها مخالف للشريعة ومناف لها فهو من سكر الوقت وغلبة الحال فإذا تجاوزوا ذلك المقام ورجعوا إلى الصحو ارتفعت تلك المنافاة بالكلية وصارت تلك العلوم المضادة بتمامها هباء منثوراً .

شریعت ،ولایت، طریقت ، حقیقت، معرفت میں کوئی اختلاف نہیں۔

مذکوہ تفصیل  اس لیے بیان کی گئی کہ تصوف کے بارے میں  عموما  افراط وتفریط پایا جاتا ہے،جہاں بعض  ظاہر پرست   ، مادہ  پرست، عقلیت پسند لوگ  اس  تصورکی اسلام میں  بالکلیہ نفی وانکار کرتے ہیں،چنانچہ ان کے نزدیک شریعت  کا ظاہر ی علم  ہی  اصلاح  نفس وباطن   کے لیے  کافی ہے،وہیں کچھ حضرات اس کوعلم شریعت  سے خارج ،بلکہ اس سے بھی  اعلی وافضل ایک علم قرار دیتے ہیں،جبکہ حقیقت اس کے خلاف ہے۔ حقیقت امر یہ ہے کہ جن لوگوں نے تصوف کا انکار کیا ہے تو ان میں سے بعض کا  انکاربعض اہل تصوف کے غلو اور  ان  بے اعتدالیوں کے تناظر میں ہے جو وہ اسلام اور  زہد وتقوی کے نام پر کرتے ہیں،جبکہ جن لوگوں نے تصوف کو شریعت   سے بڑھ کر کچھ سمجھا ہے تو اس کی بنیادبھی کچھ  غلط فہمیاں ہیں،چنانچہ وہ لوگ حضرت موسی اور حضرت خضر علیہما  السلام کے واقعہ سے استدلال   کرتے ہیں کہ موسی علیہ السلام کو چونکہ خضر علیہ السلام کے پاس سیکھنے کے لیے بھیجا گیا تھا،  ،لہذا اس سے معلوم ہوا کہ علم  باطن علم شریعت سے افضل ہے،نیز یہ کہ مرید کے لیے شیخ کے خلاف شرع  حکم پر عمل کرنا واجب ہے، چنانچہ حضرت موسی علیہ السلام اتباع نہ کرنے کی وجہ سے ہی جدا ہوگئے تھے۔لیکن یہ استدلال عند المحققین  دو وجہ سے باطل ہے:

 ۱۔ علم باطن علم شریعت سے کوئی الگ علم نہیں، بلکہ اسلام میں علم شریعت  ظاہر اور باطن کے اصلاح کے طریقے کے جاننے کا نام ہے، لہذا علم باطن علم شریعت کا  ایک جزوہے ،علم اصلاح ظاہر کو فقہ جبکہ علم اصلاح باطن کو علم تصوف یا تزکیہ  کہتے ہیں،چنانچہ امام صاحب سے فقہ کی تعریف میں علم احکام وفروع کے ساتھ علم  عقائد اور علم اخلاقیات بھی داخل ہے۔لہذا  علم باطن کو شریعت پر ترجیح دینا  جز کو کل پر ترجیح دینے کے مترادف ہے ،جو یقینا باطل ہے۔

۲۔  حضرت خضر علیہ السلام کو جو علم دیا گیا تھا وہ  وہ علم شریعت نہیں تھا ،بلکہ اس کا تعلق علوم تکوینیہ سے تھا، جس سےآئندہ کےبعض واقعات کا انکشاف ہوجاتا تھا،جس کے حضرت موسی علیہ اسلام مکلف نہیں تھے، لہذا ان کا  اعتراض اپنی جگہ درست  عین شریعت وطریقت  کے مطابق تھا، اور ایک نبی ہونے اور مکلف شریعت ہونے بناء پر وہ باوجود عہد وپیمان کے اپنی منصبی ذمہ سے    الگ نہیں ہوسکے، باقی حضرت خضر علیہ اسلام کے پاس ان کا بھیجا جانا   انا اعلم فرمانے کی وجہ سے ایک ابتلاء کے طور پر تھا۔

 طریقت  اور ولایت شریعت  اور نبوت کے تابع ہے۔

لہذا بعض لوگوں نے اس واقعہ سے ولایت کے نبوت سے افضل ہونے کا قول بھی کیا ہے جس پر علامہ ابن تیمیہ رحمہ اللہ تعالی نے الفرقان بین اولیاء الرحمان واولیاء الشیطان میں سخت تردید فرمائی ہے اور متن عقیدہ طحاویہ میں بھی اس پر نکیر  منقول وموجود ہے اور حضرت مجدد الف ثانی رحمہ اللہ تعالی نےمکتوبات  میں  اس قول  کی تاویل کی بھی تغلیط فرمائی ہے۔ ( ماخوذ از ارشاد القاری:۳۳۶ تا ۳۳۷)

اصطلاحی تصوف  کی ضرورت  اور اس کاشرعی حکم:

اصطلاحی تصوف اگرچہ  علوم عالیہ میں سے نہیں  ،بلکہ محض وسائل کے درجہ میں ہے، لیکن چونکہ تجربہ سے اس کااصلاح باطن بالخصوص ازالہ رزائل واصاف ذمیمہ کا  موقوف علیہ  ہونا ثابت    ہے ،لہذا اصلاح باطن کا جو درجہ فرض ہو اس درجہ کے لیے یہ فن حاصل کرنا بھی فرض ہوگا وعلی ھذا القیاس۔(شرح بریقہ محمودیہ فی شرح طریقہ  محمدیہ)

لہذافن تصوف کے اصول وتدابیر میں جو چیزیں قرآن وسنت یا سیرت صحابہ وسلف صالحین سے ماخوذ ہوں یا  ثابت تو نہ ہوں لیکن ان کابطور علاج  ضروری یا مفید    ہونا مصلح کے تجربہ اور فراست سے   ثابت ہو اور اس میں کوئی امر خلاف شرع بھی نہ ہو اور ان امور کو مقصود نہیں  بنایا جائے توان کا اختیار کرنابھی جائز ہے اور جو امور اور طریقے قرآن وسنت   یادیگر دلائل شرع کے خلاف ہوں  یا وسائل کو مقصود شرعی کا ردجہ دیے دیا جائے تو ایسی صورت  تصوف  کی ایسی تعلیمات  پر عمل کرنا ناجائز ہوگا۔

 شیخ المشایخ مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی  احسن الفتاوی (ج۱،ص۵۴۷) پر حقیقت تصوف کے عنوان کے تحت ایک سؤال کے جواب   میں لکھتے ہیں:

’غرضیکہ  تصوف کی حقیقت صرف اتنی ہے کہ اعمال باطنہ سے متعلق  علم حاصل کیا جائے اور اس کی ضرورت قرآن وحدیث ،فقہ اور عقل (سلیم) سے ثابت ہوچکی۔۔۔ باقی مصلح کا کام صرف یہ رہ جاتا ہے کہ وہ کسی  شخص میں مرض کی تشخیص کرکے نسخہ تجویز کردیتا ہے، مرض اور علاج تو منصوص ہے، مرض کی تشخیص اور نسخہ کی تجویز مصلح کرتا ہے ، اس کے علاوہ بعض ایسی تدابیر اختیار کرتا  ہے جن کا تعلق فراست اور تجربہ سے ہے ،چونکہ ان تدابیر کو مقصود نہیں سمجھا جاتا ،بلکہ ذریعہ مقصود ( اصلاح باطن ) ہیں ، اس لیے ان تدابیر کاثبوت قرآن وحدیث سے  ضروری نہ رہا۔‘

تقریبا یہی بات فتاوی رشیدیہ  میں لکھی ہے کہ صوفیہ کے اشغال بطور معالجہ  ہیں، ان کی اصل  ثابت ہے، اگرچہ خود یہ ہیئات وکیفیات  ثابت نہیں،لہذا(وسیلہ کے طور پر) جائز تو ہیں ،لیکن انہیں سنت یا ضروری( مقصود شریعت) سمجھنا بدعت ہے۔(ماخوذ از فتاوی رشیدیہ)

 معلوم ہواکہ  اصطلاحی فن تصوف بھی بحیثیت ایک علم اور فن ہونےکے  علوم آلیہ میں سے ہے ،نہ کہ علوم عالیہ میں سے۔لہذا یہ تمام سلاسل اور  طرق ااشغال  واوراد  وسائل تزکیہ واحسان میں سے ہیں نہ کہ  خودمقاصد شریعت میں سے، یعنی احدث للدین کی قبیل سے ہیں نہ کہ احداث فی الدین ، لہذا  شرعانہ تو کسی طریقہ اور سلسلہ  کے لیے  مستند ہونا شرعا ضروری ہے اور نہ ہی شیخ  کا خود  کامل ہونا ضروری ہے، بلکہ مرشد کا   صرف صالح  اورفن تصوف میں ماہر ہونا ضروری ہے، جیساکہ کسی ڈاکٹر اور حکیم کا خود  مکمل صحت مند ہونا ضروری نہیں ،بلکہ  فی الجملہ  صحت مند ہونے کے ساتھ متعلقہ فن علاج  میں ماہر ہونا ضروری ہے اور نہ ان سلاسل  مروجہ  پر یا ان کے کسی  خاص سلسلہ پر اصرار صحیح نہیں ،بلکہ وقت کے تقاضوں کے مطابق ان میں تبدیلی بھی  جائز ، بلکہ ضروری ہے، چنانچہ ہمارے متعدد سلف و اکابر نے مثلا  علامہ ابن قیم رحمہ اللہ تعالی نے مدارج السالکین میں اورحضرت  تھانوی رحمہ اللہ تعالی نے اپنے طریق اصلاح اورشاد میں اور حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی   نے بھی ان سلاسل  کے اسباق و اشغال  میں مختلف  ومتنوع تبدیلیاں کی ہیں جو ضروری تھیں، لہذا ان حضرات نے تصوف کے خاص اسباق کی پابندی  کو  غیر ضروری قرار دیا اور اصل مقصد  ترک منکرات  اوراصلاح عقائد اور اعمال اور اتباع سنت  کو خصوصی توجہ اور اہمیت دی۔

رد المحتار (1/ 99):

واعلم أن تعلم العلم يكون فرض عين وهو بقدر ما يحتاج لدينه .وفرض كفاية، وهو ما زاد عليه لنفع غيره .ومندوبا، وهو التبحر في الفقه وعلم القلب.

( قوله : واعلم أن تعلم العلم إلخ ) أي العلم الموصل إلى الآخرة أو الأعم منه .

قال العلامي في فصوله : من فرائض الإسلام تعلمه ما يحتاج إليه العبد في إقامة دينه وإخلاص عمله لله تعالى ومعاشرة عباده .

وفرض على كل مكلف ومكلفة بعد تعلمه علم الدين والهداية تعلم علم الوضوء والغسل والصلاة والصوم ، وعلم الزكاة لمن له نصاب ، والحج لمن وجب عليه والبيوع على التجار ليحترزوا عن الشبهات والمكروهات في سائر المعاملات .

وكذا أهل الحرف ، وكل من اشتغل بشيء يفرض عليه علمه وحكمه ليمتنع عن الحرام فيه ا هـ .

مطلب في فرض الكفاية وفرض العين وفي تبيين المحارم : لا شك في فرضية علم الفرائض الخمس وعلم الإخلاص ؛ لأن صحة العمل موقوفة عليه وعلم الحلال والحرام وعلم الرياء ؛ لأن العابد محروم من ثواب عمله بالرياء ، وعلم الحسد والعجب إذ هما يأكلان العمل كما تأكل النار الحطب ، وعلم البيع والشراء والنكاح والطلاق لمن أراد الدخول في هذه الأشياء وعلم الألفاظ المحرمة أو المكفرة ، ولعمري هذا من أهم المهمات في هذا الزمان ؛ لأنك تسمع كثيرا من العوام يتكلمون بما يكفر وهم عنها غافلون ، والاحتياط أن يجدد الجاهل إيمانه كل يوم ويجدد نكاح امرأته عند شاهدين في كل شهر مرة أو مرتين ، إذ الخطأ وإن لم يصدر من الرجل فهو من النساء كثير .

( قوله : وعلم القلب ) أي علم الأخلاق ، وهو علم يعرف به أنواع الفضائل وكيفية اكتسابها وأنواع الرذائل وكيفية اجتنابها .ا هـ .ح وهو معطوف على الفقه لا على التبحر لما علمت من أن علم الإخلاص والعجب والحسد والرياء فرض عين ، ومثلها غيرها من آفات النفوس : كالكبر والشح والحقد والغش والغضب والعداوة والبغضاء والطمع والبخل والبطر والخيلاء والخيانة والمداهنة والاستكبار عن الحق والمكر والمخادعة والقسوة وطول الأمل ونحوها مما هو مبين في ربع المهلكات من الإحياء .

قال فيه : ولا ينفك عنها بشر ، فيلزمه أن يتعلم منها ما يرى نفسه محتاجا إليه ، وإزالتها فرض عين ولا يمكن إلا بمعرفة حدودها وأسبابها وعلاماتها وعلاجها ، فإن من لا يعرف الشر يقع فيه .

تصوف کے مشہور ومعروف وغیر معروف سلاسل  اور انکی  شرعی حیثیت  :

تصوف کے سلاسل کا تعلق تصوف اصطلاحی سے ہے  جو     بہت  سے   ہیں ، سلاسل تصوف بھی درحقیقت اصطلاحی تصوف کے  مختلف مناہج کا نام ہے،  مختلف بزرگوں نے اصلاح باطن اور تزکیہ  نفس کے لیے جن جن تدابیر  اور طریقوں کو بصورت اشغال مفید پایا انہوں نے اس طریقہ کو اختیار کیا اور اس طرح ایک منہج اور طریقہ اصلاح متعلقہ بزرگ کے نام سے  سلسلہ کے اصطلاحی نام کے ساتھ مشہور ہوگیا، اصطلاحی تصوف کی طرح یہ سلسلے بھی خود مقصود نہیں، بلکہ اصل مقصد یعنی تزکیہ واحسان کے وسائل و مناہج ہیں چنانچہ تصوف کے اصطلاحی ناموں میں سلوک اور طریقت بھی شامل ہے ،جو فن تصوف کی اس حیثیت کی واضح دلیل ہیں۔ اس طرح مختلف ادوار میں مختلف بزرگوں کے ناموں  اور نسبتوں سے مختلف سلسلے وجود میں آئے ،جن  میں صرف چار کو آفاقی شہرت ملی، بعض کو مقامی شہرت ملی اور اور بعض سلسلے وقت کے ساتھ تکوینی طور پر منقطع ہوگئے۔عالمی حد تک مشہور چار سلاسل یہ  ہیں  یعنی نقشبندیہ،سہروردیہ،چشتیہ ،قادریہ، اور باقی غیر مشہور سلاسل تصوف   کی تعداد بھی کافی زیادہ ہے، جن میں بعض عرب میں، بعض عجم میں  فی الجملہ جاری ہیں، ان میں  سے   من جملہ دیگر سلاسل  کے سلسلہ شاذلیہ بھی ہے۔

سلسلہ شاذلیہ:

’’سلسلہ شاذلیہ‘‘  جدید سلسلہ نہیں ہے، یہ ساتویں صدی عیسوی کےمشہور ومعروف بزرگ ابوالحسن علی شاذلی بن عبد ﷲ شریف حسینی المغربی رحمہ اللہ کی طرف منسوب ہے،  نسباساداتِ بنی حسن میں سے ہیں۔  لیکن  اہل عجم  میں  ان کا سلسلہ محفوظ وجاری نہیں رہا، ہمارے بلادیعنی پاکستان ،بنگلہ دیش ،افغانستان اور ہندوستان میں مذکورہ بالا چار مشہور سلاسل ہی  اہل تصوف  میں بالعموم اور اکابر علماء دیوبند میں بالخصوص سند واجازت کے لحاظ سے محفوظ اور تزکیہ وسلوک  کے لیے معمول بہ ہیں، لہذا بہتر یہ ہے کہ جو سلاسلِ اربعہ(نقشبندیہ، قادریہ، چشتیہ، سہروردیہ)مستند ومعتمد ومعمول بہا ہیں، ان سلاسل کے کسی مستند صاحبِ نسبت  بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرلیں۔

الوافي بالوفيات (29/ 33):

علي بن عبد الله بن عبد الجبار بن تميم بن هرمز بن حاتم بن قصي بن يوسف بن يوسف أبو الحسن الشاذلي بالشين والذال المعجمتين وبينهما ألف، وفي الآخر لام. وشاذلة قرية بأفريقية. المغربي الزاهد، نزيل الإسكندرية وشيخ الطائفة الشاذلية. وقد انتسب في بعض مصنفاته إلى علي بن أبي طالب فقال بعد يوسف المذكور: ابن يوشع بن برد بن بطال بن أحمد بن محمد بن عيسى بن محمد بن الحسن بن علي رضي الله عنهما. قال الشيخ شمس الدين: هذا نسب مجهول لا يصح ولا يثبت، وكان الأولى به تركه وترك كثير مما قاله في تواليفه من الحقيقة. وهو رجل كبير القدر كثير الكلام عالي المقام، له شعر ونثر فيه متشابهات وعبارات يتكلف له في الاعتذار عنها. ورأيت شيخنا عماد الدين قد فتر عنه في الآخر وبقي واقفا في هذه العبارات حائرا في الرجل. لأنه كان قد تصوف على طريقته. وصحب الشيخ نجم الدين الاصبهاني نزيل الحرم، ونجم الدين صحب الشيخ أبا العباس المرسي صاحب الشاذلي. وكان الشاذلي ضريرا، حج مرات وتوفي بصحراء عيذاب قاصد الحج، فدفن هناك في أول ذي القعدة سنة ست وخمسين وست مائة. وللشيخ تقي الدين ابن تيمية مصنف في الرد على ما قاله الشاذلي في الحزب. وله حزبان كبير وصغير، ولا بأس بذكر الصغير وهو: بسم الله الرحمن الرحيم، يا علي يا عظيم،

شذرات الذهب في أخبار من ذهب للمشقي (8/ 277):

وفيها الشاذلي أبو الحسن علي بن عبد الله بن عبد الحميد المغربي الزاهد شيخ الطائفة الشاذلية سكن الأسكندرية وصحبه بها جماعة وله في التصوف مشكلة توهم ويتكلف له في الاعتذار عنها وعنه أخذ الشيخ أبو العباس المرسي قاله في العبر وقال الشيخ عبد الرؤوف المناوي في طبقات الأولياء علي أبو الحسن الشاذلي السيد الشريف من ذرية محمد بن الحسن زعيم الطائفة الشاذلية نسبة إلى شاذلة قرية بأفريقية نشأ ببلده فاشتغل بالعلوم الشرعية حتى أتقنها وصار يناظر عليها مع كونه ضريرا ثم سلك منهاج التصوف وجد واجتهد حتى ظهر صلاحه

مجموع الفتاوى لابن تيمية (2/ 226):

 والأولياء وان كان فيهم محدثون كما ثبت فى الصحيحين عن النبى صلى الله عليه و سلم أنه قال انه قد كان فى الأمم قبلكم محدثون فإن يكن فى أمتى أحد فعمر فهذا الحديث يدل على أن أول المحدثين من هذه الأمة عمر وأبو بكر أفضل منه إذ هو الصديق فالمحدث وان كان يلهم ويحدث من جهة الله تعالى فعليه أن يعرض ذلك على الكتاب والسنة فإنه ليس بمعصوم كما قال أبو الحسن الشاذلى قد ضمنت لنا العصمة فيما جاء به الكتاب والسنة ولم تضمن لنا العصمة فى الكشوف والإلهام

مجموع الفتاوى لابن تيمية (8/ 232):

ومن سللك مسلكم إذا عظم الأمر و النهي غايته أن يقول كما نقل عن الشاذلي يكون الجمع في قلبك مشهودا و الفرق على لسانك موجودا كما يوجد فى كلامه و كلام غيره أقوال و أدعية و أحزاب تستلزم تعطيل الأمر و النهي مثل دعوى أن الله يعطيه على المعصية أعظم مما يعطيه على الطاعة و نحو هذا مما يوجب أنه يجوز عنده أن يجعل الذين إجترحوا السيئات كالذين آمنوا و عملوا الصالحات أو أفضل و يدعون بأدعية فيها إعتداء كما يوجد فى حزب الشاذلي

 وآخرون من عوامهم يحوزون أن يكوم الله بكرامات أكبرالأولياء منيكون فاجرا بل كافرا و يقولون هذه موهبة و عطية و يظنون أن تلك من كرامات الأولياء و تكون من الأحوال الشيطانية التى يكون مثلها للسحرة و الكهان قال تعالى و لما جاءهم رسول من عند الله مصدق لما معهم نبذ فريق من الذين أوتوا الكتاب كتاب الله و راء ظهورهم كأنهم لا يعلمون و اتبعوا ماتتلوا الشياطين على ملك سليمان و ما كفر سليمان و لكن الشياطين كفروا يعلمون الناس السحر و ما أنزل على الملكين ببابل هاروت و ماروت و ما يعلمان من أحد حتى يقولا إنما نحن فتنة فلا تكفر فيتعلمون منهما ما يفرقون به بين المرء و زوجه و ما هم بضارين به من أحد إلا باذن الله و يتعلمون ما يضرهم و لا ينفعهم و لقد علموا لمن إشتراه ما له فى الآخرة من خلاق و لبئس ما شروا به أنفسهم لو كانوا يعلمون و لو أنهم آمنوا و اتقوا لمثوبة من عند الله خير لو كانوا يعلمون

 سلسلہ شاذلیہ  سے وابستگی کے مدعی بعض  نام نہاد جعلی پیروں اور عاملوں  کا حکم:

 لیکن چونکہ سلسلہ شاذلیہ کے مدعی  موجود ومعروف  بعض پیروں   کے  سلسلہ شاذلیہ سے تعلق کا کوئی یقینی اور معتبر ثبوت نہیں، بلکہ بعض ایسے پیروں کے طور طریقے قرآن وسنت کے خلاف بھی ہوتے ہیں، جبکہ سلسلہ شاذلیہ کے  سید الطائفہ   کا اپنا فرمان یہی ہے کہ  دین اور شریعت صرف قرآن وسنت کی پیروی کا نام ہے ، اس کے مقابلے میں الہامات ،منامات ،کشف وکرامات  کی پیروی کا دین سے کوئی تعلق نہیں،(فتاوی ابن تیمیہ)لہذاتزکیہ باطن کے لیے ایسے غیر مستند پیروں سے تعلق قائم کرنا خطرناک ہوسکتا ہے۔

 سلسلہ شاذلیہ کے  حلقہ ذکر میں شرکت کا حکم:

   خود اور اپنی عوام کو  اکابر علماء دیوبند کے معروف سلاسل   سے اصلاحی تعلق  قائم کرنے اور انہی سلاسل سے وابستہ ذکر کے حلقوں میں شرکت کی ترغیب دینی چاہئے، البتہ اگر کوئی   واقعۃ کسی مستند اور معتبر   بزرگ کے ماتحت سلسلہ شاذلیہ کے حلقہ ذکر میں شرکت کرتا ہے تو جب تک خلاف شریعت کوئی امر واقع نہ ہو تو محض جہری ذکر کی وجہ سے کسی کو اس سلسلہ  کے حلقہ ذکر سے روکنا درست نہیں، چنانچہ   امداد الفتاوی(ج۵،ص۱۵۱)  پر ایک سؤال جواب میں مدلل   تفصیل کے آخر میں  لکھا ہے کہ   پس ثابت ہوا کہ ذکر  جہر ہر طور سے جائز ہے ،کسی کو کسی طور سے منع نہ کریں ، یہی راجح ہے، بلکہ عدم مشروعیت کو بھی ترجیح   ہو،تب بھی عوام کو منع نہ کریں  کہ اسی بہانہ سے کچھ خیر کرگذرتے ہیں ،چنانچہ خود مانعین نے اس کی تصریح کردی ہے الخ

نیز اس  سے قبل جواز کو حاشیہ میں حضرت رحمہ اللہ تعالی نے مشروط بھی کیا ہے، چنانچہ لکھتے ہیں کہ

’مگر اس میں شرط یہ ہے کہ کسی نائم یا مصلی کو اذیت نہ ہو اور جہر مفرط  نہ ہو اور  اگر کسی شیخ نے جہر مفرط  بتلایا ہو تو علاوہ شرط عدم تاذی  پر ان کے نزدیک ایک شرط اس میں یہ بھی ہے کہ جہر کے اس افراط کو قربت مقصودہ نہ سمجھے ،بلکہ مبنی بر مصالح خاصہ  معتبرہ معلومہ  عند المشایخ سمجھے ۔( امداد الفتاوی:ج۵،ص۱۴۵)

اہل تصوف اور عملیات:

 جس طرح دیگر علوم وفنون میں لوگوں نے بہت ساری چیزیں اپنی طرف سے داخل کی ہیں، جبکہ وہ اس فن سے متعلق نہیں اور نہ ہی اس فن کے حاملین سے منقول ہیں بلکہ بعض چیزوں کی اہل فن کی طرف غلط انتساب بھی پایا جاتا ہے، جیساکہ حدیث کے باب میں بہت ساری موضوع روایات شائع کی گئیں ، جن میں ایک بڑا طبقہ  بعض جاہل صوفیہ کا بھی رہا ہے ،اسی طرح خود تصوف میں بھی بعض لوگوں اور جاہل صوفیہ نے غلط چیزیں داخل کردی اور ان کی اکابر سلسلہ کی طرف غلط نسبت بھی کردی ہے، چنانچہ بعض حضرات اہل تصوف بالعموم اور سلسلہ شاذلیہ کی طرف نسبت بیان کرنے والے بالخصوص اس سلسلہ میں عملیات   کو بھی  شامل قرار دیتے ہیں ، اور اس کو روحانی علاج بھی قرار دیتے ہیں جبکہ عملیات   کا اس فن تصوف سے کوئی تعلق نہیں، اور نہ ہی عملیات کو روحانی علاج کہنا درست ہے، اس لیے کہ روحانی علاج در حقیقت نفس کی بیماریوں کے علاج کو کہا جاتا ہے،جبکہ عملیات  میں اپنے  یا دوسروں کے مسائل اور مشکلات یا جسمانی امراض  کے حل  وعلاج کے لیے وظائف   وغیرہ کا سہارا لیا جاتا ہے، لہذا یہ دونوں مستقل اور ایک دوسرے سے بالکل مختلف اور الگ الگ فنون ہیں انہیں ،ایک دوسرے میں خلاط  کرنا اور انہیں ایک علم اور فن کہنا   مسلمہ حقائق کو مسخ کرنے کے مترادف ہےاس کی مزید تفصیل کے لیے حضرت مفتی رشید احمد لدھیاونوی رحمہ اللہ تعالی کا رسالہ آسیب کا علاج ملاحظہ ہو۔

کسی شیخ  سےاصلاحی تعلق قائم کرنے کے لیے مطلوبہ شرائط کی تفصیل:

سلسلہ شاذلیہ سمیت کسی بھی سلسلہ کے بزرگ سے اصلاحی تعلق قائم کرنے کی شرائط مندرجہ ذیل ہیں۔

 احسن الفتاوی (ج۱،ص۵۴۷)میں  قطب الاقطاب  شیخ المشایخ حضرت مفتی رشید احمد لدھیانوی رحمہ اللہ تعالی ’شیخ کامل کی علامات ‘کے عنوان کے تحت   لکھتے ہیں:

 شیخ کامل کی علامات یہ ہیں:

 ۱۔ خود بھی  زندگی کے ہر شعبہ(عقائد، اعمال،   معاملات واخلاق ) میں  پورے طور پر متبع  شریعت وسنت ہو اور اپنے متعلقین ومریدین کو بھی ہر معاملہ میں اتباع  شریعت وسنت کی تلقین وتاکید کرتا ہو۔

۲۔ امراء واغنیاء   کے بجائے صلحاء وعلماء حق اس کی طرف زیادہ  متوجہ ہوں اور اس سے عقیدت رکھتے ہوں۔

۳۔ اس کے پاس بیٹھنے سے اللہ تعالی کی یاد ،آخرت کی فکر، اور دنیا سے بے رغبتی پیدا ہو۔

۴۔  اس کے ساتھ اصلاحی تعلق قائم کرنے والوں کی اکثریت ظاہرا وباطنا شریعت کے پابند ہو۔

 واضح رہے کہ اتباع شریعت کے علاوہ تزکیہ نفس  واصلاح باطن  کی ہرگز ہرگز کوئی صورت ممکن نہیں  قال اللہ تعالی { قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ وَيَغْفِرْ لَكُمْ ذُنُوبَكُمْ وَاللَّهُ غَفُورٌ رَحِيمٌ } [آل عمران: 31]

( لہذا) جو شخص معرفت   وطریقت کو شریعت سے الگ قرار دیتا ہے وہ ملحد ،بے دین اور زندیق ہے ، حکومت اسلامیہ پر فرض ہے کہ  اگر وہ  اپنے الحاد سے منع کیے جانے پر باز نہ آے تو  اس کو عبرتناک سزا  دے۔(ماخوذ ازاحسن الفتاوی:ج۱،ص۵۴۸)

حوالہ جات

( تفسير ابن كثير (2/ 32):

هذه الآية الكريمة حاكمة على كل من ادعى محبة الله، وليس هو على الطريقة المحمدية فإنه كاذب في دعواه في نفس الأمر، حتى يتبع الشرع المحمدي والدين النبوي في جميع أقواله وأحواله، كما ثبت في الصحيح عن رسول الله صلى الله عليه وسلم أنه قال: "مَنْ عَمِلَ عَمَلا لَيْسَ عليه أمْرُنَا فَهُوَ رَدُّ" ولهذا قال: { قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ } أي: يحصل لكم فوق ما طلبتم من محبتكم إياه، وهو محبته إياكم، وهو أعظم من الأول، كما قال بعض الحكماء العلماء: ليس الشأن أن تُحِبّ، إنما الشأن أن تُحَبّ وقال الحسن البصري وغيره من السلف: زعم قوم أنهم يحبون الله فابتلاهم الله بهذه الآية، فقال: { قُلْ إِنْ كُنْتُمْ تُحِبُّونَ اللَّهَ فَاتَّبِعُونِي يُحْبِبْكُمُ اللَّهُ })

{وَأَنَّ هَذَا صِرَاطِي مُسْتَقِيمًا فَاتَّبِعُوهُ وَلَا تَتَّبِعُوا السُّبُلَ فَتَفَرَّقَ بِكُمْ عَنْ سَبِيلِهِ ذَلِكُمْ وَصَّاكُمْ بِهِ لَعَلَّكُمْ تَتَّقُونَ} [الأنعام: 153]

نواب الدین

دار الافتاء جامعۃ الرشید کراچی

۱۵جمادی الاولی۱۴۴۷ ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

نواب الدین

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب