03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
گھر سے نکال دینے کی دھمکی پر بغیرنیت کے طلاق دینے کا حکم
88936طلاق کے احکامالفاظ کنایہ سے طلاق کا بیان

سوال

میں اور میری بیوی ساتھ رہنا چاہتے ہیں اور ہماری ایک11 سال کی بیٹی بھی ہےاور میرے گھر والے بولتے ہیں کہ تم پہلی بیوی کو چھوڑو ،ہم تمہاری دوسری شادی کروا دیں گے اور اس سے بچی بھی لے لیں گے، لیکن میں چاہتا ہوں کہ میں اپنی پہلی بیوی کے ساتھ ہی رہوں اور میرے گھر والوں نے بہت غلط کیا ہے کہ میری بیٹی کو بھی الگ کیا ہوا ہے،وہ میری وائف کے ساتھ رہتی ہے ۔ لیکن میں اپنی پہلی بیوی اوربیٹی کے  ساتھ ہی رہنا چاہتا ہوں،میرے گھر والے اس کے خلاف تھے اور اس کو کچھ سمجھتے ہی نہیں تھے، میری وائف کی کوئی غلطی بھی نہیں ہوتی تھی پھر بھی اس کو قصور وار کہتے تھے، میرے گھر والے پہلے ہی میری وائف کے خلاف تھے اور میرے گھر والے اس کو گھر سے نکالنا چاہتے تھے، لیکن میری وائف بہت سمجھداری سے چل رہی تھی۔ میرے گھر والوں نے جب میری وائف کے گھر والوں کو بلایا اور جب میری وائف کے گھر والے آئے تو میری وائف کو ان کے ساتھ گھر بھیج دیا کہ معاملہ ٹھنڈا ہو جائے تو پھرآجائے گی، لیکن میرے گھر والوں نے اس کو واپس گھر پہ آنے نہیں دیا اور میری وائف نے بہت کوشش کی آنے کی اور آنے کے لیےفون بھی کیا، لیکن انہوں نے اس کو گھر پہ آئے نہیں دیا۔ میرے گھر والوں نے غلط کیا، ان کو یہ سب کرنے کا کیا حق بنتا ہے؟  اور پھر طلاق کا سلسلہ شروع کر دیا، میرے گھر والوں نے مجھے پریشر میں لا کر تین طلاقوں پہ سائن کروا دیے اور انگوٹھا بھی لگوا دیا اور دھمکی دی کہ تمہیں گھر نہیں آنے دیں گے، گھر سے نکال دیں گے،جبکہ میرا دل طلاق دینے کا بالکل نہیں تھا اور نہ ہی میری کوئی طلاق دینے کی نیت تھی نہ کوئی میرا ارادہ تھا ،مجھے پریشر میں ڈالا گیا ۔ اب ہم واپس ملنا چاہتے ہیں، میاں بیوی کی طرح رہنا چاہتے ہیں ہماری لڑائی ہوتی تھی تو ہم نارمل ہو جاتے تھے، میری وائف بہت اچھی ہیں، میں ان کو چھوڑنا نہیں چاہتا، ہمیں ساتھ رہنا ہے، آپ یہ بتائیں کہ اس صورت میں ہماری طلاق ہوئی ہے یا نہیں؟

وضاحت: سائل نے بتایا کہ بڑے بھائی اور والدین سب مجھے اصرار کر رہے تھے کہ اس کو طلاق دو، اگر نہیں دو گے تو تمہیں اپنے سسرال رہنا ہو گا اور یہ بھی دھمکی دی کہ جائیداد میں سے بھی آپ کو کچھ نہیں دیں گے، میری مالی حالت بھی کمزور ہے، میں فوڈ پانڈا پر ہوم ڈیلیوری کا کام کرتا ہوں، میں نے بلا نیتِ طلاق محض اس دھمکی کی وجہ سے دستخط کیے تھے، اب اگر میں اپنی بیوی کو لاتا ہوں تو میں کرایہ کا مکان ملنے تک عارضی طور پر اس کو اپنی پھوپھی کے گھر ٹھہراؤں گا۔باقی سسرال وغیرہ  میں مستقل ٹھہرنا میرے لیے بہت مشکل ہے۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

سوال میں ذکر کی گئی تفصیل کے مطابق اگر واقعتاً طلاق نامہ پر دستخط نہ کرنے کی صورت میں آپ کو اپنے والدین کی طرف سے گھر سے نکال دینے اورجائیداد سے محروم کرنے کا یقین یا ظنِ غالب تھا اوراس وقت آپ کرایہ پر الگ گھر لینے اورسسرال وغیرہ میں رہائش اختیار کرنے کی حالت میں بھی نہیں  تھے، نیزجائیداد سے محرومی بھی مستقبل میں آپ کے لیے شدید مشکلات کا باعث بن سکتی تھا  تو اس صورت میں آپ کے بغیر طلاق کی نیت کے طلاق نامہ پر محض دستخط کرنے سے آپ پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی،شرعی اعتبار سے آپ اپنی بیوی  کو اپنے ساتھ رکھ سکتے ہیں۔ بشرطیکہ آپ نے زبان سے طلاق کے الفاظ نہ کہے ہوں۔

حوالہ جات

مكتبة رشيدية، كوئٹة:

رجل أكره بالضرب والحبس على أن يكتب طلاق امرأته فلانة بنت فلان بن فلان فكتب امرأته فلانة بنت فلان بن فلان طالق لا تطلق امرأته لأن الكتابة أقيمت مقام العبارة باعتبار الحاجة ولا حاجة ههنا.

بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (7/ 175) دار الكتب العلمية:

وليس فيه تقدير لازم سوى أن يلحقه منه الاغتمام البين من هذه الأشياء أعني الحبس والقيد والضرب، وهذا النوع من الإكراه يسمى إكراها ناقصا.

البحر الرائق ومنحة الخالق وتكملة الطوري (8/ 80) دار الكتاب الإسلامي:

وقد يكون فيه ما يكون في الحبس من الإكراه لما يجيء به من الاغتمام البين ومن الضرب ما يجد به الألم الشديد وليس في ذلك حد لا يزاد عليه ولا ينقص منه؛ لأنه يختلف باختلاف أحوال الناس فمنهم لا يتضرر إلا بضرب شديد وحبس مديد ومنهم من يتضرر بأدنى شيء كالشرفاء والرؤساء يتضررون بضرب سوط أو بفرك أذنه لا سيما في ملأ من الناس أو بحضرة السلطان. وفي الخانية، ولو أكره على بيع جارية ولم يعين فباع من إنسان كان فاسدا.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

12/جمادی الاولی1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

مفتی محمد صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب