03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
مورث کی زندگی میں تقسیم کیا جانے والا مکان میراث کہلاتا ہے؟
88952میراث کے مسائلمیراث کے متفرق مسائل

سوال

السلام علیکم ورحمۃاللہ  کیا فرماتے ہیں علماء دین و  مفتیان شرع متین مسئلہ ذیل کے بارے میں، زید نے یکے بعد دیگرے دو شادیاں کی، پہلی بیوی سے تین لڑکے اور چھ لڑکیاں، اور دوسری بیوی سے ایک لڑکا ہے۔ وہ طلاق کے بعد نانی کے یہاں پیدا ہوا، اب زید نے اپنی زندگی ہی میں مکان کا بٹوارہ اپنی پہلی بیوی سے جو اولاد تھی ان کے درمیان کردیا تھا، اور ان لوگوں کا اس پر قبضہ بھی ہو چکا اور مکان بنوا کر رہ رہے ہیں۔

 زید نے یہ اقرار بھی کیا تھا کہ میری ایک اور اولاد بھی ہے جوکہ دوسری بیوی سے ہے، اس کو بھی دوں گا مگر اس مکان سے نہیں۔ زید کا  ایک دوسرا مکان بھی تھا، زید کے انتقال کے بعد اس مکان کو بیچ کر سب کے درمیان بانٹ دیا گیا، اب وہ لڑکا جو دوسری بیوی سے ہےکہہ رہا ہے کہ جو مکان باپ نے تم لوگوں کے درمیان بانٹ دیا تھا اس میں سے مجھے بھی حصہ چاہیے۔ تو کیا اس لڑکے کا حق بنتا ہے؟  اور باپ (زید) قرض بھی چھوڑ کر مرا ہے، وہ کیسے ادا ہو؟ بینوا وتوجروا ۔

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

والد کا اولاد کے درمیان اپنی زندگی میں جائیداد تقسیم کرنا میراث نہیں کہلاتا ، بلکہ وہ جسے دینا چاہے دے سکتا ہے۔لہذا دوسری بیوی کے بطن سے پیدا ہونے والے بیٹےکو اس مکان میں سے حصہ نہیں ملے گا  جو زید نے اپنی زندگی میں پہلی بیوی کی اولاد کے درمیان تقسیم کیا تھا، کیونکہ وہ مرحوم کی ملک میں نہیں رہا۔

زید کی وفات کے وقت اس کی ملکیت میں جو کچھ بھی موجود تھا ، اس سے سب سے پہلے اس کے کفن دفن کا انتظام کیا جائے گا ، جو مال باقی بچے اس سے قرض ادا کیا جائے گا،  اگر ادائیگی قرض کے بعد کچھ بچتا ہے تو وہ رثہ میں تقسیم ہوگا۔

حوالہ جات

سورۃ النساء آية 11 

یُوصِیکُمُ اللّهُ فِی أَوْلَادِکُمْ ۚ لِلذَّکَرِ مِثْلُ حَظِّ الْأُنثَیَیْنِ ۚ فَإِن کُنَّ نِسَاءً فَوْقَ اثْنَتَیْنِ فَلَهُنَّ ثُلُثَا مَا تَرَکَ ۚ وَإِن کَانَتْ وَاحِدَۃ فَلَهَا النِّصْفُ ۚ وَلِأَبَوَیْهِ لِکُلِّ وَاحِدٍ مِّنْهُمَا السُّدُسُ إِن کَانَ لَهُ وَلَدٌ ۚ فَإِن لَّمْ یَکُن لَّهُ وَلَدٌ وَوَرِثَهُ أَبَوَاهُ فَلِأُمِّهِ الثُّلُثُ ۚ فَإِن کَانَ لَهُ إِخْوَۃ فَلِأُمِّهِ السُّدُسُ ۚ مِّن بَعْدِ وَصِیّةٍ یُوصِی بِهَا أَوْ دَیْنٍ ۗ آبَاؤُکُمْ وَأَبْنَاؤُکُمْ لَا تَدْرُونَ أَیُّهُمْ أَقْرَبُ لَکُمْ نَفْعًا ۚ فَرِیضة مِّنَ اللّه ۗ إِنَّ اللّه کَانَ عَلِیمًا حَکِیمًا۔

السراجی فی المیراث(5)

قال علمائنا: تتعلق بترکۃ المیت حقوق اربعۃ مرتبۃ: الاول: یبدأ بتکفینیہ و تجھیزہ من غیر تبذیر ولا تقتیر، ثم تقضی دیونہ من جمیع ما بقی من مالہ، ثم تنفذ وصایاہ من ثلث ما بقی بعد الدین، ثم یقسم الباقی بین ورثتہ بالکتاب و السنۃ و اجماع الامۃ۔

الفتاوی الهنديه (٦/٤٩٧)

التَّرِکة تَتَعَلَّقُ بِهَا حُقُوقٌ أَرْبَعة جِهَازُ الْمَیِّتِ وَدَفْنُهُ، وَالْوَصِیّة، وَالْمِیرَاثُ۔ فَیُبْدَأُ أَوَّلًا بِجِهَازِهِ وَکَفَنِهِ... ثُمَّ بِالدَّیْنِ... ثُمَّ تُنَفَّذُ وَصَایَه مِنْ ثُلُثِ مَا یَبْقَی مِنْ بَعْدِ الْکَفَنِ وَالدَّیْنِ إِلَّا أَنْ تُجِیْزَ الْوَرَثة أَکْثَرَ مِنَ الثُّلُثِ، ثُمَّ یُقْسَمُ الْبَاقِی بَیْنَ الْوَرَثة عَلَی سِهَامِ الْمِیرَاثِ۔

الدر المختار مع رد المحتار(6/758)

وهل إرث الحي من الحي أم من الميت؟ المعتمد: الثاني شرح وهبانية

دلیل الوراث   (5)

ترکۃ المیت:  ما بقی بعد المیت من مالہ صافیا عن تعلق حق الغیر بعینہ۔

زبیر احمد بن شیر جان

دارالافتا ء، جامعۃالرشید، کراچی

14/05/1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

زبیر احمد ولد شیرجان

مفتیان

شہبازعلی صاحب / فیصل احمد صاحب