| 88953 | طلاق کے احکام | طلاق کے متفرق مسائل |
سوال
سوال کا خلاصہ:
زید نامی شخص کا اپنی بیوی سے جھگڑا چل رہا تھا اور وہ چاہتا تھا کہ بیوی اپنے والدین کے گھر چلی جائے، مگر بیوی انکار کر رہی تھی۔ زید خود گھر سے باہر تھا کہ پڑوسی نے فون کرکے کہا گھر آجائیں، تو زید نے جواب دیا کہ میں تب آؤں گا جب وہ (بیوی) گھر سے جائے گی۔ پڑوسی نے کہا "او تہ نہیں جاندی" (وہ تو نہیں جاتی) تو زید نے پنجابی میں کہا "تاں تہ میں طلاق دیناں" یعنی "تب تو میں طلاق دیتا ہوں"۔ زید کو پنجابی زبان پر عبور نہیں تھا، بعد میں اہلِ لغت سے معلوم ہوا کہ اس جملے کا مطلب ہے "اگر وہ نہیں جاتی تو میں طلاق دیتا ہوں"۔ زید کا کہنا ہے کہ اس کی طلاق دینے کی نیت نہیں تھی بلکہ صرف دھمکی دینا مقصود تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ یہ جملہ طلاقِ تنجیزی (یعنی فوری طلاق) ہے یا تعلیقی (یعنی شرط سے معلق طلاق)؟ اگر یہ تعلیقی ہے تو چونکہ بیوی فوراً نہیں گئی بلکہ اگلے دن اپنا سامان لے کر گئی اور درمیان میں صرف بچہ لینے گھر سے نکلی تھی، تو کیا اس صورت میں طلاق واقع ہوئی یا نہیں؟
تنقیح:فون پر سائل سے بات کرنے پر سائل نے بتایا کہ زید پنجابی زبان جانتا تھا لیکن اسے پنجابی زبان پر عبور حاصل نہیں تھا، جیسے ایک بندہ کی پیدائش کوئٹہ کی ہو اور وہ کراچی میں رہنے لگے تو اسے عام اردو بول چال تو آجاتی ہے لیکن اردو پر ادیبانہ عبور حاصل نہیں ہوتا۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
پنجابی زبان کے جملے '' تاں تہ میں طلاق دیناں'' کا مطلب سیاق و سباق کے مطابق یہ بنتا ہے کہ '' انہیں باتوں کی وجہ سے تو میں طلاق دینا چاہتا ہوں '' لہذا یہ جملہ نہ تعلیق ہے اور نہ تنجیز، بلکہ صرف سبب یا ارادہ بیان کرتا ہے۔ شوہر کا بیان بھی اس کی تائید کرتا ہے لہذا اس صورت میں بیوی پر کوئی طلاق واقع نہیں ہوئی۔
حوالہ جات
الفتاوی الہندیہ (1/394)
وفي المنتقى لو قال لامرأته قد شاء الله تعالى طلاقك أو قضى الله تعالى طلاقك أو قد شئت طلاقك لم يكن طلاقا إلا أن ينوي ولو قال هويت طلاقك أو أحببت طلاقك أو رضيت طلاقك أو أردت طلاقك لا تطلق وإن نوى هكذا في الخلاصة.
الهداية في شرح بداية المبتدي (1/ 242)'' ولو قال لها أنت طالق إن شئت فقالت شئت إن شئت فقال الزوج شئت ينوي الطلاق بطل الأمر''لأنه علق طلاقها بالمشيئة المرسلة وهي أتت بالمعلقة فلم يوجد الشرط وهو اشتعال مالا يعنيها فخرج الأمر من يدها ولا يقع الطلاق بقوله شئت وإن نوى الطلاق لأنه ليس في كلام المرأة ذكر الطلاق ليصير الزوج شائيا طلاقها والنية لا تعمل في غير المذكور حتى لو قال شئت طلاقك يقع إذا نوى لأنه إيقاع مبتدأ إذ المشيئة تنبئ عن الوجود بخلاف قوله أردت طلاقك لأنه لا ينبئ عن الوجود.
زبیر احمد بن شیرجان
دارالافتاءجامعۃ الرشیدکراچی
16/05/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | زبیر احمد ولد شیرجان | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


