| 89030 | زکوة کابیان | ان چیزوں کا بیان جن میں زکوة لازم ہوتی ہے اور جن میں نہیں ہوتی |
سوال
السلامُ علیکم و رحمۃ اللہ و برکاتہ ریفرنس فتویٰ نمبر 83198/63 بتاریخ 10 فروری 2024ء محترم مفتی صاحب، امید ہے بفضلِ اللہ آپ خیر و عافیت سے ہوں گےإن شاءاللہ ،مفتی صاحب ایک مسئلہ کی وضاحت درکار ہے، اس سلسلے میں پہلے بھی سوال پوچھا تھا ( جس کا ریفرنس نمبر اوپر تحریر کیا ہے تا کہ آپ پڑھ لیں،جزاک اللہ)آپ سے گزارش ہے کے شریعت کی روشنی میں وضاحت اور جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا۔ سوال طویل ہے، لیکن، آپ سے مؤدبانہ درخواست ہے کہ مکمل پڑھیے اور معاملہ کی اصل تک جا کر تفصیلی جواب عنایت فرمائیں۔ جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا میں ایک سرکاری ملازم ہوں اور میرے محکمے کی طرف سے ملازمین کے لیے اقساط میں پلاٹ لینے کی اسکیم آئی تھی ،میں نے بھی اس کی حامی بھر لی، فارم وصول کر کے ڈاؤن پیمنٹ ادا کر دی۔ اس کے بعد سے اب تک مزید دو اقساط بھی ادا کر چکا ہوں۔کل قیمت 28لاکھ کے قریب تھی جو کہ 3 سال میں ادا کرنی تھی، میں نے ڈاؤن پیمنٹ اور دو اقساط کے تحت کل تقریباً 7 لاکھ 25 ہزار جمع کروایا ہے۔اسکیم میں اپلائی کرنے سے پہلے میرا پلاٹ لینے کا ارادہ نہیں تھا، کیونکہ اقساط ادا کرنا مشکل لگ رہا تھا۔لیکن،پھر لوگوں کے اصرار پر میں نے حامی بھر لی اور ڈاؤن پیمنٹ جمع کروا دی۔ میں نے 3 سال میں رقم ادا کرنی تھی لیکن اب اس سے زیادہ عرصہ ہو گیا ہے اور میں نے ابھی تک صرف ڈاؤن پیمنٹ اور دو اقساط جمع کروائی ہیں۔ میرا اس پلاٹ کولینےاور ادائیگی کا مقصد یہ تھا کہ ایک اثاثہ بن جائے گا، اور جب اس کی قیمت بڑھے گی تو مستقبل میں مہنگے داموں فروخت بھی کر سکتا ہوں یا مہنگے داموں منافع پر فروخت کر دوں گا۔ میں نے عرصہ قبل ایک مفتی صاحب کے ذریعے سے آپ کے ادارے سے اس پلاٹ کی زکوٰۃ کی بابت مسئلہ پوچھا تھا جس کا فتویٰ نمبر اوپر لکھا ہے۔ جس کا خلاصہ یہ تھا کہ یہ مالِ تجارت ہے اور اس پر زکوٰۃ ہر سال اندازاً مارکیٹ ریٹ کے مطابق ادا کرنی ہو گی۔گزارش یہ ہے کہ اس مذکورہ بالا فتویٰ کی روشنی میں، میں نے ایک پراپرٹی ڈیلر سے پلاٹ کی اندازاً قیمت فروخت / ریٹ لیا اور اس مارکیٹ ریٹ میں سے، جو اقساط ادا کر چکا ہوں وہ منہا کر کے باقی رقم پر زکوٰۃ کا حساب لگایا۔ پلاٹ اور دیگر معاملات کا حساب کرنے کے بعد میں نے اپنے قریب دیوبند کے ایک مدرسہ جامعہ دارالعلوم اسلامیہ لاہور، میں جا کر ان کے ادارہ تحقیق کے ایک سینئر صاحب کو حساب دکھایا کہ کیا ٹھیک حساب کیا ہے؟ ان سے بات کا خلاصہ یہ ہے کہ مذکورہ پلاٹ کی زکوٰۃ مجھ پر قیمت فروخت نہیں بلکہ جو اقساط ادا کیں ہیں ان کی سالانہ زکوٰۃ بنتی ہے۔مزید یہ کہ کیونکہ یہ پلاٹ اقساط میں لیا ہے اور مجھے ملا بھی نہیں ہے اور پتہ نہیں کب ملے گا، اور یہ کہ آپ کی نیت کہ آپ کو آپکے محمکے کی طرف سے ملا ہے اور ایک اثاثہ ہے اور کل کو مہنگا ہو گیا تو بیچ دوں گا، یہ مالِ تجارت میں نہیں آئے گا۔ لہٰذا پلاٹ کی جو اقساط میں ادا کر چکا ہوں ان پر زکوٰۃ بنے گی نا کہ مارکیٹ ویلیو پر۔ میں نے جب ان کو آپ کے ادارے کا فتویٰ کی بابت پوچھا تو ان کا جواب کچھ اس طرح سے تھا کہ میں نے سوال ہی غلط پوچھا ہے۔ اور مال تجارت وہ ہو گا جو شخص خرید و فروخت کا کام کرتا ہو،جس کا پیشہ پراپرٹی بیچنا اور خریدنا ہووغیرہ وغیرہ۔میں پھر متذبذب ہو گیا ہوں۔ لہٰذا آپ سے مؤدبانہ گزارش ہے کہ میری شریعت مطہرہ کی روشنی میں میری رہنمائی فرمائیں کہ میں اس پلاٹ پر زکوٰۃ کس حساب سے ادا کروں؟ مجھے یہ بھی خیال آتا ہے کہ کہیں میں پیسے بچانے کے لیے تو یہ سوال نہیں پوچھ رہا۔پھر سوچتا ہوں کہ اگر یہ درست بات ہوئی تو پیسے بچ بھی جائیں تو کیا حرج ہے، لیکن اگر شریعت کے مطابق زکوٰۃ زیادہ بھی بنتی ہے تو میں إن شاء اللّٰه، ادا کروں گا۔ اس خیال کا بھی بتا دیں کہیں میرا یہ مزید پوچھنا غلط تو نہیں؟ میں نے کئی سالوں سے زکوٰۃ ادا نہیں کی، الگ کر کے رکھتا جا رہا ہوں کہ یہ مسئلہ حل ہو تو اکھٹی ادا کروں۔ لہٰذا، آپ سے ایک بار پھر مؤدبانہ گزارش ہے کہ مجھے شریعت مطہرہ کی روشنی میں جواب عنایت فرمائیں جزاک اللّٰہ خیرا کثیرا میں نے کوشش کی ہے کہ سوال میں تفصیل لکھوں اور کوئی اہم بات رہ نا جائے۔ تاہم اللہ سبحانہ و تعالٰی کوتاہی اور غلطی معاف فرمائیں، آمین ثم آمین ۔ اگر آپ کو مجھ سے مزید کچھ وضاحت یا تفصیل درکار ہو تو آپ برائے مہربانی مجھ سے پوچھ لیجیے۔
جزاک اللہ خیرا کثیرا آپ ےکے جواب کا منتظر۔
تنقیح :سائل سے رابطہ کےبعد معلوم ہوا کہ انہیں پلاٹ بیچنے کا اختیار حاصل ہے ۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
اگر کوئی شخص پلاٹ یا مکان محض رقم محفوظ کرنے(saving) یا رہائش کی نیت سے خریدتا ہے، بیچنے یا منافع کمانے کی نیت نہیں ہوتی، تو اس صورت میں اس پر زکوٰۃ لازم نہیں ہوگی۔ البتہ اگر آغاز ہی سے اس نیت سے خریدا گیا ہو کہ اسے آگے جا کر فروخت کروں گا،(خواہ خریدار کا کاروبارپلاٹوں کے خریدو فروخت کا ہو یا نہ ہو) اور یہ نیت اب تک باقی ہو، تو پھر شرعاً وہ مالِ تجارت شمار ہوگا اور اس پر زکوٰۃ واجب ہوگی، صورت مسئولہ میں سائل نے چونکہ پلاٹ بیچنےکی نیت سےخریدا ہے،اور اس پر تصرف کا اختیار بھی حاصل ہے ، لہذا اگر پلاٹ کی قیمت نصاب کو پہنچ جاتی ہے تواس صورت میں اس پلاٹ پر زکوٰۃ کا حکم لاگو ہو جاتا ہے، چاہےقسطیں باقی ہوں یا نہ ہوں ۔ البتہ ز کوۃ کی ادائیگی قبضہ ملنے کے بعد بھی کی جا سکتی ہے۔ اس صورت میں گذشتہ تمام سالوں کی زکوٰۃ ادا کرنا لازم ہوگا۔
زکوٰۃ نکالنے کا طریقہ یہ ہےکہ موجودہ بازاری قیمت کا اندازہ لگایا جائے، اور اس میں سے باقی ماندہ اقساط (جو قسطیں ابھی باقی ہیں اور وہ خریدار کے ذمہ قرض ہے )کو منہا کر کے جو مالیت بچے، اس پر ڈھائی فیصد (%2.5) زکوٰۃ دی جائے۔
حوالہ جات
العناية شرح الهداية (2/ 169):
والحاصل أن ما يدخل في ملك الرجل على نوعين: نوع يدخل بغير صنعه كالإرث. ونوع يدخل بصنعه وهو أيضا على نوعين: ببدل مالي كالشراء والإجارة وغيره كالمهر وبدل الخلع وبدل الصلح عن دم العمد، وبغير بدل كالهبة والصدقة والوصية، فالذي يدخل بغير صنعه لا يعتبر فيه نية التجارة مجردة بالاتفاق، والذي يدخل ببدل مالي يعتبر فيه نية التجارة بالاتفاق، والذي يدخل ببدل غير مالي أو بغير بدل فقد اختلف فيه على ما ذكرنا.
البحر الرائق (2/ 225):
وقدمنا أن المبيع قبل القبض لا تجب زكاته على المشتري. وذكر في المحيط في بيان أقسام الدين أن المبيع قبل القبض قيل لا يكون نصابا لأن الملك فيه ناقص بافتقاد اليد، والصحيح أنه يكون نصابا لأنه عوض عن مال كانت يده ثابتة عليه وقد أمكنه احتواء اليد على العوض فتعتبر يده باقية على النصاب باعتبار التمكن شرعاً، اه. فعلى هذا قولهم "لا تجب الزكاة" معناه قبل قبضه، وأما بعد قبضه فتجب زكاته فيما مضى كالدين القوي.
بدائع الصنائع في ترتيب الشرائع (2/ 6):
ومنها أن لا يكون عليه دين مطالب به من جهة العباد عندنا فإن كان فإنه يمنع وجوب الزكاة بقدره حالا كان أو مؤجلا.
فتح القدير للكمال بن الهمام - ط الحلبي (2/ 218):
(قوله وتشترط نية التجارة) لأنه لما لم تكن للتجارة خلقة فلا يصير لها إلا بقصدها فيه، وذلك هو نية التجارة.
عادل ارشاد
دار الافتاءجامعۃ الرشید کراچی
۱۷/جمادی ا لاولی 1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | عادل ولد ارشاد علی | مفتیان | فیصل احمد صاحب / شہبازعلی صاحب |


