03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
اسٹیٹ بینک کی میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم(MGMA) کا حکم
88996جائز و ناجائزامور کا بیانجائز و ناجائز کے متفرق مسائل

سوال

حکومتِ پاکستان اور بعض اسلامی بینکوں نے شہریوں کے لیے “Mera Ghar – Mera Ashiana (MGMA)” کے نام سےایک سبسڈائزڈ اسلامی ہاؤسنگ اسکیم شروع کی ہے۔اسکیم کا مقصد کم آمدنی والے افراد کو آسان اقساط پر گھر کی فراہمی ہے۔یہ اسکیم دو درجوں (Tiers) پر مشتمل ہے:

 Tier 1 (T1):

اہلیت: کم آمدنی والے افراد (Low Income Group)

پراپرٹی: 5 مرلہ (125 گز) تک کا مکان یا فلیٹ

فنانسنگ کی حد: PKR 2.0 ملین (20 لاکھ) تک

شرحِ منافع (Markup): 5% پہلے 10 سال، 7% اگلے10 سال (باقی منافع حکومت برداشت کرتی ہے)

مدتِ فنانسنگ: 20 سال تک

طریقہ: اسلامی بینک “Diminishing Musharakah” کے اصول پر گھر کی فنانسنگ کرتا ہے۔

 Tier 2 (T2):

اہلیت: درمیانی آمدنی والے افراد (Middle Income Group)

پراپرٹی: 10 مرلہ (250 گز) تک کا مکان یا فلیٹ

فنانسنگ کی حد: PKR 3.5 ملین (35 لاکھ) تک

شرحِ منافع (Markup): 7% پہلے 5 سال، 9% اگلے 5 سال

مدتِ فنانسنگ: 20 سال تک

  1. فنانسنگ Meezan Bank یا دیگر اسلامی بینک “Diminishing Musharakah” کے تحت فراہم کرتے ہیں۔

اضافی وضاحت:

Meezan Bank اپنی “Easy Home – Mera Ghar Mera Ashiana” اسکیم انہی T1 اور T2 شرائط کے مطابق پیش کرتا ہے،جس میں بینک اور کسٹمر مشترکہ طور پر گھر کے مالک بنتے ہیں اور کسٹمر قسطوں کے ذریعے آہستہ آہستہ بینک کا حصہ خریدتا ہے۔تاہم شبہ یہ پیدا ہوتا ہے کہ حکومتِ پاکستان کی طرف سے دی گئی Markup Subsidyیعنی بینک کے نفع میں کمی کا حکومتی حصہ کہیں سودی امداد یا غیر شرعی رعایت تو نہیں؟کیونکہ اس سبسڈی کا مالی ماخذ عام سودی نظامِ خزانہ سے آتا ہے۔

شرعی رہنمائی کے لیے سوالات:

  1. کیا “Mera Ghar – Mera Ashiana” اسکیم کے T1 اور T2 درجوں میں شرکت شرعاً جائز ہے؟
  2. اگر اسکیم کے نفع کی شرح حکومت ادا کرتی ہے تو کیا اس سے شرعی جواز متاثر ہوتا ہے؟
  3. Meezan Bankکی Easy Home اسکیم جو Diminishing Musharakah پر مبنی ہے،کیا حکومتی سبسڈی ملنے کے باوجود شرعاً درست رہتی ہے؟
  4. اگر حکومت کا مالی حصہ سودی فنڈ سے آتا ہو،تو کیا صارف (فنانسنگ لینے والا) اس گناہ میں شریک سمجھا جائے گا؟
  5. عام شہری کے لیے اس اسکیم سے فائدہ اٹھانے کی شرعی حدود اور احتیاطیں کیا ہیں؟

درخواست برائے فتویٰ:

گزارش ہے کہ دارالافتاء مفصل شرعی رہنمائی فرمائے کہ

کیا Meezan Bank کی Easy Home – Mera Ghar Mera Ashiana اسکیم (T1 اور T2) سے گھر لینا شرعاً جائز ہے؟اور اگر جائز ہے تو کن شرائط کے ساتھ جائز قرار پاتی ہے؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

پاکستان میں رائج غیر سودی بینکاری نظام /اسلامی بینکاری نظام کے حوالے سے دارالافتاء جامعۃ الرشید کی رائے جواز کی ہے،اس لیے کہ جس زمانے میں اس نظام کو تشکیل دیا جارہا تھا تو دارالافتاء جامعۃ الرشید کی طرف سے ان اسلامی بینکوں کی طرف سے دی جانے والی بینکنگ سے متعلقہ بنیادی پروڈکٹس اور خدمات کا شرعی جائزہ باقاعدہ لیا گیا تھااور اس کے بعد جواز کا فتویٰ جاری کیا گیا تھا۔

البتہ وقت گزرنے کے ساتھ ساتھ وقتاً فوقتاً اسلامی بینکوں کی پروڈکٹس اور خدمات میں اضافہ  ہوتا رہتا ہے یا کچھ تبدیلیاں ہوتی رہتی ہیں،ہماری معلومات کے مطابق ان تبدیلیوں اور روز مرہ کے دیگر معاملات کے حوالے سے اسلامی بینکوں میں شرعی نگرانی کا ایک منظم اور مستند نظام موجود ہے،جو اس بات کو یقینی بناتا ہے کہ اسلامی بینکاری کے تحت کوئی غیر شرعی معاملہ سر انجام نہ دیا جائے۔اسی نگرانی کے سلسلے میں ایک شریعہ بورڈ بھی  ہر اسلامی بینک کا ہوتا ہے،جو کم از کم تین جید مفتیان کرام پر مشتمل ہوتا ہے(ان مفتیان کرام کا تفصیلی تعارف متعلقہ بینک کی ویب سائٹ پر موجود ہوتا ہے) اور وہ اس بینک سے متعلق اسلامی بینکاری کے تحت آفر کی جانے والی تمام پروڈکٹس اور خدمات کا تفصیلی جائزہ لینے کے بعد ،اگر وہ شریعت کے مطابق ہوں تو ان کی مظوری دیتے ہیں اور اس کے بعد کوئی بھی اسلامی بینک ان پروڈکٹس یا خدمات کو آفر کرتا ہے۔

اسٹیٹ بینک کے تحت جب بھی کوئی اسکیم آفر کی جاتی ہے تو عام طور پر وہ مختلف بینکوں کے ذریعے ہی کی جاتی ہے،براہِ راست اسٹیٹ بینک سے کسی عام آدمی کے لیے اسکیم سے فائدہ اٹھانا ممکن نہیں ہوتا،چنانچہ اسٹیٹ بینک جب کوئی اسکیم لانچ کرتا ہے تو وہ اس سے متعلقہ تفصیلی ہدایات بینکوں کو جاری کرتا ہے اور بینکوں میں دونوں طرح کے بینک یعنی سودی اور غیرسودی،ان ہدایات کی روشنی میں اپنی پروڈکٹ تشکیل دے کر عوام کو آفر کرتے ہیں۔

غیر سودی یا اسلامی بینک،اسکیم کی تفصیلی ہدایات کو مد نظر رکھتے ہوئے ایسی پروڈکٹ تشکیل دیتے ہیں جس میں کوئی شرعی خرابی نہ ہو اور اپنے بینک کے شریعہ بورڈ سے اس پروڈکٹ کے حوالے سے تفصیلی مشاورت اور منظوری کے بعد اسے عام عوام کے لیے آفر کرتے ہیں۔چنانچہ آپ "میرا گھر میرا آشیانہ اسکیم" یا اس کے علاوہ کوئی اور اسکیم سے فائدہ اٹھاتے ہوئے، جس بھی اسلامی بینک سے یہ سہولت لینا چاہیں تو ان سے اس اسکیم سے متعلق ان کے بینک کے شریعہ بورڈ کا فتویٰ (شریعہ سرٹیفیکٹ) تحریری صورت میں حاصل کر لیں،اور فتوے میں  مذکور مفتیان کرام کی معلومات ان کی ویب سائٹ سے دیکھ لیں،پھر اگر آپ کو ان مفتیان کرام اور ان کی رائے پر اعتماد ہو تو آپ اس فتوے کے مطابق عمل کرتے ہوئے مذکورہ اسکیم سے فائدہ اٹھاسکتے ہیں۔

درج بالا تفصیلات اور اصولی جواب کی روشنی میں آپ کے سوالات اور شبہات کے جوابات بالترتیب ملاحظہ ہوں؛

  1. اسلامی بینک سے یہ سہولت حاصل کرنا جائز ہے۔
  2. اگر اسلامی بینک سے آپ یہ سہولت حاصل کر رہے ہیں تو جواز پر کوئی اثر نہیں پڑتا۔
  3. سوال میں مذکور معلومات کے مطابق اگر میزان بینک نے یہ اسکیم شرکت متناقصہ (Diminishing Musharakah ) کی بنیاد پر آفر کی ہے تو سبسڈی ملنے کے باوجود بھی اس سہولت سے فائدہ اٹھانا جائز ہے۔
  4. یہ ایک بے بنیاد مفروضہ ہے،صارف یا اسلامی بینک کے ملازمین یا کوئی اور، اس بے بنیاد مفروضے کی بنیاد پر گناہ گار نہیں ہوں گے۔
  5. تفصیلات اصولی جواب میں ذکر کردی ہیں،مختصراً یہ کہ بینک سے متعلق جو بھی سہولت حاصل کرنے کی ضرورت ہو وہ کسی اسلامی بینک سے حاصل کرے،سودی بینک سے حاصل کرنا شرعاً جائز نہیں ہے،جو سہولت حاصل کرے اس کا شریعہ سرٹیفیکٹ دیکھ لے،متعلقہ بینک کے شریعہ بورڈ کا تعارف ویب سائٹ سے دیکھ لے،ان کے فتوے پراطمینان ہو تو سہولت حاصل کرنے میں کوئی حرج نہیں۔

اہم بات:عام طور پر عوام کا رویہ یہ ہوتا ہے کہ جب کوئی ڈاکومنٹ/دستاویز وغیرہ دستخط کرتے ہیں تو پڑھے بغیر دستخط کرتے ہیں،جس کے نتیجے میں بعد میں اگر انہیں ان کی توقعات کے برخلاف کسی معاملے کا سامنا کرنا پڑے تو شدید پریشانی کا شکار ہوجاتے ہیں اور خود کو قصور وار ٹہرانے کے بجائے ،مفتیان کرام یا دارالافتاء  یااسلامی بینکاری کو قصور وار ٹہراتے ہیں، یہ رویہ بالکل غلط ہے،اس لیے جب بھی کوئی دستاویز وغیرہ دستخط کرکے دیں یا کسی سےکوئی معاملہ کریں تو جو کچھ لکھا ہوا ہو،اسے  کم از کم ایک مرتبہ پڑھ کر ضرور سمجھ لیں، تاکہ فریقین میں سے ہر ایک کی ذمہ داریاں اور حقوق ،عقد کی ابتداء سے ہی بالکل واضح ہوجائیں اور بعد میں کسی قسم کا نزاع نہ ہو۔

حوالہ جات

محمد حمزہ سلیمان

دارالافتا ء،جامعۃالرشید ،کراچی

18.جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد حمزہ سلیمان بن محمد سلیمان

مفتیان

سیّد عابد شاہ صاحب / محمد حسین خلیل خیل صاحب