03182754103,03182754104
بِسْمِ اللَّـهِ الرَّحْمَـٰنِ الرَّحِيمِ
ask@almuftionline.com
AlmuftiName
فَسْئَلُوْٓا اَہْلَ الذِّکْرِ اِنْ کُنْتُمْ لاَ تَعْلَمُوْنَ
ALmufti12
تین بیٹوں، ایک بہن اور پوتے کے درمیان وراثت کی تقسیم
88880میراث کے مسائلمناسخہ کے احکام

سوال

دادا مرحوم کے ورثاء میں تین بیٹے، ایک بہن اور ایک پوتا ہے تو اب ان کی وراثت کس طرح تقسیم ہو گی؟

اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ

مرحوم نے بوقت ِانتقال اپنی ملکیت میں منقولہ وغیر منقولہ مال،جائیداد،سونا ،چاندی،نقدی اور ہر قسم کا چھوٹا بڑا جو کچھ ساز وسامان چھوڑا ہے اور مرحوم  کا  وہ قرض جو کسی کے ذمہ  واجب  الادء ہو، يہ  سب مرحوم کا ترکہ ہے۔اس میں سے سب سے پہلے مرحوم کے کفن و دفن کے متوسط اخراجات نکالے جائیں گے، البتہ اگر کسی نے بطور تبرع یہ اخراجات ادا کر دیے ہوں تو پھر ان اخراجات کو نکالنے کی ضرورت نہیں،  اس کے بعد مرحوم کے ذمہ واجب الاداء قرض  ادا کیا جائے، اس کے بعد  ترکہ کے ایک تہائی(1/3) کی حد تک   مرحوم کی طرف سے کی گئی جائز وصیت پر عمل کیا جائے گا، اس کے بعد جو تركہ باقی بچے اس کو مرحوم کے تینوں بیٹوں کے درمیان برابر کا تقسیم کیا جائے گا، اس کے علاوہ مرحوم کی بہن اور پوتے کو اس کی وراثت میں سے کوئی حصہ نہیں ملے گا، کیونکہ حقیقی بیٹوں کی موجودگی میں بہن اور پوتا وارث نہیں ہوتا۔

حوالہ جات

السراجية في الميراث (1/ 29) مكتبة المدينة، كراتشي – باكستان:

أما العصبة بنفسه فكل ذكر لا تدخل في نسبته إلى الميت أنثى، وهم أربعة أصناف: جزء الميت، وأصله، وجزء أبيه، وجزء جده، الأقرب فالأقرب يرجحون بقرب الدرجة أعني أولاهم بالميراث جزء الميت أي: البنون، ثم بنوهم وإن سفلوا.

محمد نعمان خالد

دارالافتاء جامعة الرشیدکراچی

11/جمادی الاولیٰ1447ھ

واللہ سبحانہ وتعالی اعلم

مجیب

محمد نعمان خالد

مفتیان

محمد حسین خلیل خیل صاحب