| 89002 | طلاق کے احکام | تحریری طلاق دینے کا بیان |
سوال
کیافرماتے ہیں علماء کرام درج ذیل مسئلہ کے بارے میں کہ
میں معاشی حالات سے پریشان اور قرض دار ہونے کی وجہ سے امریکہ چلا گیا اور تقریباً دس سال کا عرصہ وہاں گزارا۔ امریکہ میں مستقل رہنے کے لیے جہاں اور بہت سے راستے ہیں، وہاں ’’پیپر میریج‘‘ بھی ایک رائج راستہ ہے۔ گزشتہ پانچ سال تک تو میں بغیر کسی کاغذات کے کام کرتا رہا، لیکن جب حکومت نے سختی شروع کی تو میں نے ایک وکیل سے رابطہ کیا۔ اس نے بہت سے کاغذات تیار کرنے کا کہا، جن میں ایک اسٹامپ پیپر پر جعلی طلاق نامہ بھی شامل تھا۔ یہ کام اتنی رازداری سے ہوا کہ کسی کو علم بھی نہ ہو سکا۔
ایک امریکن خاتون سے پیپرمیرج ہوا،اور یہ طے پایا کہ ہر ماہ کچھ رقم بچائی جائے گی اور وکیل کودی جائے گی، جبکہ اس خاتون سے میرا کوئی ذاتی واسطہ نہیں ہوگا، صرف انٹرویو کے وقت وہ آفس میں ساتھ جائے گی۔ اس دوران میں نے اپنے بیٹے اور کئی دوسرے قریبی رشتہ داروں کو امریکہ بلالیا، جبکہ میری اہلیہ بھی میرے پاس آتی جاتی تھیں۔
حضرت علی رضی اللہ عنہ کا قول ہے: "جس پر احسان کرو، اس کے شر سے بچو۔" میرے انہی عزیزوں نے میرے خاندان اور بیوی کو جعلی طلاق نامہ اور دیگر کاغذات بھیج دیے، جس سے ایک طوفان کھڑا ہوگیا۔ نہ تو میں نے کبھی طلاق کا سوچا، نہ وہم و گمان میں کوئی خیال آیا، لیکن بدنام کرنے کا کوئی موقع ضائع نہیں کیا گیا۔
آپ قرآن، حدیث اور شریعتِ اسلامیہ کی رُو سے بتائیں کہ کیا میری بیوی کو طلاق ہوگئی ہے؟ تاکہ بدگمانی اور جھوٹ واضح ہو جائے۔
ہم میاں بیوی حقیقت میں گزشتہ چالیس سال سے محبت، احترام اور عزت و وقار کے ساتھ زندگی گزار رہے ہیں، اور میری بیوی کو اس بات کا علم صرف رشتہ داروں کے بتانے سے ہواہے۔
نوٹ:
اس جعلی طلاق نامے میں صرف ایک طلاق لکھی ہوئی ہے۔
سائل کی فون پر کی جانے والی وضاحتیں:
سائل نے زبانی فون پر بتایا کہ پیپر میریج کے لیے وہاں (یعنی امریکہ) کی ایک عورت سے شادی کا اظہار کیا جاتا ہے، مگر اس کی شرط یہ ہوتی ہے کہ سابقہ بیوی کو طلاق دی جائے۔ اسی تناظر میں یہ جعلی طلاق نامہ تیار کیا گیا تھا اور اس پر سائل نے دستخط بھی کردیے تھے۔
نیز سائل نے بتایا کہ انہوں نے مذکورہ طلاق پر کوئی گواہ نہیں بنائے تھے، اور وضاحت کی کہ طلاق کے پیپر پر دستخط کے بعد انہوں نے عدت میں نہ زبانی اور نہ ہی فعلی رجوع کیاہے۔
اور اس طلاق سے پہلے یا بعد میں انہوں نے کوئی اور طلاق نہیں دی۔
اَلجَوَابْ بِاسْمِ مُلْہِمِ الصَّوَابْ
واضح رہے کہ جس طرح طلاق کا لفظ بولنے سے طلاق واقع ہو جاتی ہے، اسی طرح لکھنے سے یا لکھے ہوئے پر دستخط کرنے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے۔
جعلی طلاق نامہ تیار کراتے وقت اگر دو گواہ بنالیے جائیں کہ ’’میں جعلی طلاق نامہ تیار کروا رہا ہوں‘‘، تو اس صورت میں کوئی طلاق واقع نہیں ہوتی۔ فرضی طلاق نامہ تیار کرواتے وقت یہ صورت اختیار کی جا سکتی ہے۔
اور اگر جعلی طلاق نامہ تیار کراتے وقت گواہ نہیں بنائے جائیں (جیسا کہ مذکورہ صورت میں ہوا ہے) تو جعلی طلاق نامہ تحریر کروانے سے بھی طلاق واقع ہو جاتی ہے، اور جتنی طلاق کا ذکر طلاق نامہ میں ہوتاہے، اتنی طلاق واقع ہوجاتی ہے۔(ملخص ازفتاوی جامعة الرشید 81610)
مسئولہ صورت میں چونکہ طلاق نامہ میں بقول سائل ایک طلاق کا ذکر ہے اور گواہ کسی کو نہیں بنایا گیا تھا، لہٰذا مذکورہ صورت میں ایک طلاقِ رجعی واقع ہوئی ہے۔
طلاقِ رجعی کے بعد عدت میں رجوع صحیح ہوتا ہے،لیکن چونکہ سائل نے عدت میں رجوع نہیں کی جیسے انہوں زبانی فون پر بتایا،لہذا عدت گزرسے عورت بائنہ ہوگئی اوراب رجوع نہیں ہوسکتا، البتہ فریقین کی باہمی رضامندی سے نئے مہر اور دو گواہوں کی موجودگی میں نیا نکاح کیا جا سکتا ہے۔
حوالہ جات
لما فی الدر المختار- (3 / 251)
(وفي أنت الطلاق) أو طلاق (أو أنت طالق الطلاق أو أنت طالق طلاقا يقع واحدة رجعية إن لم ينو شيئا.
وفی الهداية في شرح بداية المبتدي - (1 / 371)
" وإذا طلق الرجل امرأته تطليقة رجعية أو تطليقتين فله أن يراجعها في عدتها رضيت بذلك أو لم ترض " لقوله تعالى: {فَأَمْسِكُوهُنَّ بِمَعْرُوفٍ} [البقرة: 231] من غير فصل ولا بد من قيام العدة لأن الرجعة استدامة الملك ألا ترى أنه سمى إمساكا وهو الإبقاء وإنما يتحقق الاستدامة في العدة لأنه لاملك بعد انقضائها".
رد المحتار(3/246،247)
ولو قال للكاتب اكتب طلاق امرأتي كان إقرارا بالطلاق وإن لم يكتب ولو استكتب من آخر كتابا بطلاقها وقرأه على الزوج فأخذه الزوج وختمه وعنونه وبعث به إليها فأتاها وقع إن أقر الزوج أنه كتابه أو قال للرجل ابعث به إليها أو قال له اكتب نسخة وابعث بها إليها وإن لم يقر أنه كتابه ولم تقم بينة لكنه وصف الأمر على وجهه لا تطلق قضاء ولا ديانة وكذا كل كتاب لم يكتبه بخطه ولم يمله بنفسه لا يقع الطلاق ما لم يقر أنه كتابه اه ملخصا.
سیدحکیم شاہ عفی عنہ
دارالافتاء جامعۃ الرشید
20/5/1447ھ
واللہ سبحانہ وتعالی اعلم
مجیب | سید حکیم شاہ | مفتیان | محمد حسین خلیل خیل صاحب / سیّد عابد شاہ صاحب |


